(گزشتہ سے پیوستہ)
اگست 47ء میں جالندھر اسٹیشن پر جو گزری، اس کا حال کیا لکھوں۔ مختصر یہ کہ قید حیات سے رہائی کی ایک صورت نکلی تھی وہ بھی یوں ہی گزر گئی! غالباً 15 یا 16 اگست کو میں نے کشمیر کے سفر کا قصد کیا۔ کئی ہفتے سے بیمار تھا۔ ڈاکٹروں نے کہا ’ کچھ دن مکمل آرام کرو‘۔ آرام کیسے کرتا اور کہاں کرتا۔ آخر ایک دوست نے لکھا کہ کشمیر میں ایک کشتی کا انتظام کر لیا ہے۔ میں ایک ملازم کو ساتھ لے کر کشمیر کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ دہلی اسٹیشن پر پہنچا تو دیکھا کہ کچھ سناٹا سا ہے۔ میرے ایک دوست نے ادھر ادھر سے پوچھ کر کہا ’گاڑی سنا ہے کہ جالندھر سے آگے نہیں جائے گی۔ آگے گڑبڑ ہے‘۔ میں نے کہا جالندھر ہی میں کچھ روز قیام کرلوں گا۔ وہاں بھی دو ایک جاننے والے ہیں۔ گاڑی چل دی تو میں نے بستر کر لیا اور ایک کتاب نکال کر پڑھنے لگا۔ اسی میں شاید سو گیا۔ وقت دن کا تھا۔ لدھیانہ کے قریب ڈبے میں کچھ مسلح لوگ آئے۔ مجھے دیکھ کر کچھ ٹھٹکے۔ آپس میں باتیں کرتے رہے۔
یہ معلوم ہونے پر کہ میں کشمیر جا رہا ہوں، ایک ہندو مسافر نے کہا کہ آپ کشمیر جانا چاہتے ہیں تو لدھیانہ میں گاڑی بدل لیں۔ وہاں سے فیروزپور کی طرف سے ابھی گاڑی جاتی ہے۔ لدھیانہ آیا تو میں اپنے ڈبے سے اترا۔ اسٹیشن کا رنگ کچھ عجیب تھا، لوگ پریشان اور سراسیمہ، اکثر پستول یا تلوار سے مسلح۔ میں اتر کر اسٹیشن ماسٹر کے دفتر گیا۔ اور پوچھا کہ فیروزپور والی گاڑی کب ملے گی، اس بندہ خدا نے بے پروائی سے کہا ’وہ گاڑی تو آج سے بند ہے، جالندھر چلے جاؤ، وہاں تمہارا انتظام ہو جائے گا‘۔ بعد کو سمجھ آیا کہ اس نے ’انتظام‘ کا لفظ خاص معنوں میں بولا تھا۔ میں مایوس لوٹ آیا۔ اتنے میں جالندھر پہنچ گئے۔ پلیٹ فارم بالکل خالی خالی نظر آیا اور اس پر فوج کے سپاہی قابض دکھائی دیے۔ ہم لوگ اترے۔ ایک دو منٹ گزرے تھے کہ ہمارے قریب پانچ سات آدمی جمع ہو گئے۔ پہلوان نما بڑی بڑی مونچھیں، پنجابی وضع کی لنگیاں اور ننگے سر۔ چند منٹ آپس میں کچھ مشورہ کر کے میری طرف بڑھے کہ چلئے ہم سامان لے چلیں۔ میں اپنی سادہ دلی میں سمجھا کہ یہ شاید مسافروں کی مدد کے لیے آئے ہیں۔ چند لمحوں ہی میں ان کے سردار نے کہا ’سامان چکو‘ جس کے معنی غالباً ہیں ’سامان اٹھاؤ‘۔ یہ پنجابی لغت اس وقت ذہن نشین ہوا تھا اور اب تک یاد ہے! فوراً اس نے ایک بڑا چاقو نکالا اور فوجیوں سے کہا کیا دیکھتے ہو۔ دو فوجیوں نے اپنی بندوقیں میرے سینے پر تان دیں۔ اب معلوم ہوا کہ ہم تو قیدی ہیں اور یہ فوج اس سردار کے حکم پر چلتی ہے۔ اب ہم آہستہ آہستہ اس حلقے میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ سردار نے قریب آکر کہا جو روپیہ پاس ہو، دے دو۔ یہ باتیں ہو رہی ہیں اور قدم آہستہ آہستہ مقتل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ دروازہ بہت دور نہ تھا۔ مگر ایسا معلوم ہوا کہ بڑی مسافت طے کر لی ہے۔ جلوس دروازے کے قریب پہنچا تھا کہ ایک ہندو صاحب نے میرا ہاتھ پکڑا اور چلا کر کہا ’ڈاکٹر صاحب، آپ کہاں جا رہے ہیں‘۔ اور بلامبالغہ مجھے اس قطار میں سے گھسیٹ کر اسٹیشن ماسٹر کے دفتر میں لے گئے۔ اسٹیشن ماسٹر سکھ تھے، ان ہندو دوست نے اس کو تعارف کرایا مگر اس بندہ خدا نے ایک لفظ نہیں کہا۔ کندن لال کپور مگر مجھے آفس کی ایک کرسی پر بٹھا کر خود باہر گئے۔ وہ نکلے ہی تھے کہ دو سکھ ملنگ دو دھاری تیغ لیے ہوئے آفس کے دروازے پر آ کھڑے ہوئے۔ اتنے میں، کپور صاحب کسی سکھ فوجی افسر کے ساتھ دفتر میں آئے۔ افسر نے مجھ سے کہا ’ڈاکٹر صاحب، میرے ساتھ آئیے‘۔ میں فوج کے سپاہیوں کا رویہ چند منٹ پہلے دیکھ چکا تھا۔ میں سمجھا کہ اب یہ اس کام کو باضابطہ طور پر انجام دینے کے لیے آئے ہیں لیکن دو ایک جملوں ہی سے سمجھ گیا کہ یہ مدد کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میرا ملازم اور سامان اگر مل جائے تو اچھا ہو۔ انہوں نے دو سکھ سپاہیوں کو میری حفاظت پر کھڑا کیا اور خود ادھر ادھر دوڑے پھرے۔ پھر آ کر کہا کہ سامان ڈھونڈنے میں آپ کے لیے خطرہ ہے۔ میں آپ کو کسی محفوظ جگہ لے جانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا بسم اللّٰہ۔ اب وہ ہمیں ساتھ لے کر باہر چلے۔ باہر سینکڑوں مسلح آدمی جمع تھے۔ ایک شخص سفید وردی میں تھا جیسے ان کا سردار ہو۔ لاریوں میں لکڑیاں لدی تھیں تا کہ لاشوں کو ساتھ کے ساتھ جلا دیا جائے۔ جگہ جگہ انگاروں اور راکھ کے ڈھیر تھے۔ اس مجمع کا ایک حصہ ہماری طرف بڑھا، آگے آگے وہ سفید پوش سردار۔ ہمارے مہربان کیپٹن گردھیان سنگھ نے اپنی اسٹین گن سنبھالی اور مجمع سے کہا قریب نہ آنا۔ لوگ رک گئے۔ البتہ اس سردار نے کہا ’آپ انہیں لینے کیوں آئے؟‘۔ انہوں نے کہا کہ ’تمہیں شرم نہیں آتی، تم سکھ ہو اور ایک سکھ سے کہہ رہے ہو کہ ان شریف آدمیوں کو دھکا دوں‘۔ اس نے کہا ’انہیں شہر میں چوراہے پر چھوڑ دیجئے‘۔ انہوں نے کہا۔ ’میرا جہاں جی چاہے گا، چھوڑوں گا‘۔ یہ گفتگو کرتے کرتے وہ اپنی اسٹیشن ویگن کے پاس پہنچ گئے۔ ہمیں اس میں بٹھایا۔ شاید خوف میں حواس کند ہو جاتے ہیں، میں سب کچھ سن اور سمجھ رہا تھا لیکن ایسا لگتا تھا کہ یہ سب مجھ سے متعلق نہیں ہے۔ گردھیان سنگھ نے شوفر سے کہا۔ ’چلو، تیز چلو‘۔ گردھیان سنگھ جالندھر میں سیشن جج مسٹر (کنور مہندر سنگھ) بیدی کا گھر پہچانتے تھے۔ بیدی صاحب مجھے جانتے تھے۔ ایک دفعہ جامعہ بھی آئے تھے۔ وہ گاڑی کی آواز سنتے ہی باہر نکل آئے اور مجھ سے کہا ’آپ یہیں ٹھہریے‘۔ گردھیان سنگھ نے کہا ’بیدی صاحب، دوستی تو ٹھیک ہے۔ آپ کے پاس حفاظت کا سامان بھی ہے؟‘۔ انہوں نے کہا۔ ’میرے پاس فوج کا ایک دستہ ہے۔ یہ یہاں محفوظ رہیں گے‘۔ گردھیان سنگھ مجھے اور ملازم کو وہاں اتار کر رخصت ہو گئے۔ بیدی صاحب اور ان کی بیوی نے بہت خاطر کی اور کہا جب تک آپ چاہیں، یہاں رہیے۔ بیدی صاحب کی چھت پر سے عجیب ہولناک مناظر دیکھے۔ ہر طرف جلتے ہوئے مکان، بیدی صاحب دل سے شرمندہ اور رنجیدہ تھے مگر کہتے تھے ’کریں کیا؟‘