امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون سے متعلق ایک مبینہ خفیہ پروگرام کے بارے میں دعوے سامنے آئے ہیں، جن میں کہا جا رہا ہے کہ فوجی اہلکاروں کے دماغ کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ہتھیاروں سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ منصوبہ امریکی تحقیقاتی ادارے ڈارپا کے تحت چلایا گیا، جسے نیکسٹ جنریشن نان سرجیکل نیوروٹیکنالوجی پروگرام کہا جاتا ہے، اس کا مقصد ایک ایسا برین کمپیوٹر انٹرفیس تیار کرنا تھا جو بغیر سرجری کے انسانی دماغ اور مشین کے درمیان رابطہ قائم کر سکے۔
اس ٹیکنالوجی کے ذریعے فوجی اہلکار ڈرونز یا دیگر نظاموں کو محض ذہنی اشاروں سے کنٹرول کر سکتے ہیں، جبکہ یہ سسٹم دماغ سے سگنلز لے کر مشین تک پہنچاتا اور واپس معلومات بھی بھیج سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی دراصل برین کمپیوٹر انٹرفیس کا حصہ ہے، جو پہلے سے طبی اور تحقیقی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جیسے مصنوعی اعضا کو کنٹرول کرنا یا نیورولوجیکل بیماریوں میں مدد دینا۔
تاہم یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اس پروگرام کو عام طور پر مائنڈ کنٹرول کہنا درست نہیں، کیونکہ اس کا مقصد کسی کے خیالات پر قبضہ کرنا نہیں بلکہ دماغ اور مشین کے درمیان رابطہ بہتر بنانا ہے۔
یہ پروگرام 2018ء میں شروع ہوا اور مختلف تحقیقی ٹیموں کے ذریعے اس پر کام کیا گیا۔
دستیاب معلومات کے مطابق یہ پروگرام اب مکمل ہو چکا ہے، تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی کہ آیا یہ ٹیکنالوجی عملی طور پر فوج میں استعمال ہو رہی ہے یا نہیں۔
دوسری جانب بعض رپورٹس میں اس پروگرام کو خفیہ ہتھیار یا ذہنی کنٹرول سے جوڑا جا رہا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے دعوؤں میں مبالغہ بھی شامل ہو سکتا ہے، کیونکہ موجودہ سائنسی سطح پر مکمل ذہنی کنٹرول جیسی صلاحیتیں ابھی ثابت نہیں ہوئیں۔