• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جیفری ایپسٹین کا خودکشی نوٹ عدالت میں موجود؟ نئی رپورٹ نے سوالات اٹھا دیے

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

بدنام زمانہ سرمایہ کار اور مجرم جیفری ایپسٹین کی موت سے متعلق ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کا مبینہ خودکشی نوٹ عدالت کے پاس موجود ہے مگر اسے اب تک منظرِ عام پر نہیں لایا گیا۔

امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز کے مطابق ایپسٹین کے سابق سیل میٹ نیکولس ٹارٹاگلیونے نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں ایک گرافک ناول کے اندر ایک نوٹ ملا تھا، جس پر درج تھا کہ آپ مجھ سے کیا کروانا چاہتے ہیں، رلانا چاہتے ہیں؟ اب الوداع کہنے کا وقت ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ نوٹ ایپسٹین کی موت کے بعد ملا، جب وہ نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے، اس سے قبل ایپسٹین نے خودکشی کی کوشش کے الزامات کی تردید کی تھی اور گردن پر نشانات کو اپنے سیل میٹ کے حملے کا نتیجہ قرار دیا تھا۔

بعد ازاں انہیں علیحدہ سیل میں منتقل کیا گیا، جہاں وہ مردہ حالت میں پائے گئے، دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹارٹاگلیونے نے یہ نوٹ اپنے وکیل کو دیا، جس نے اسے بعد میں عدالت میں جمع کرا دیا۔

رپورٹ کے مطابق یہ نوٹ تاحال عدالت کے پاس ہے اور اسے جاری کرنے کے لیے درخواست بھی دی جا چکی ہے، تاہم یہ نوٹ اب تک سامنے آنے والے سرکاری دستاویزات یا تحقیقات میں شامل نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ ایپسٹین کی موت کو باضابطہ طور پر خودکشی قرار دیا گیا تھا، تاہم اس حوالے سے شکوک و شبہات اور قیاس آرائیاں مسلسل سامنے آتی رہی ہیں۔

ایپسٹین پر کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات تھے، جبکہ ان کی ساتھی اس وقت 20 سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔

دوسری جانب اس کیس سے متعلق فائلوں کی جزوی ریلیز پر ٹرمپ انتظامیہ کو بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ مکمل ریکارڈ منظرِ عام پر لانے کے مطالبات جاری ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید