ہر انسان کی زندگی کے سفر میں ایک مکمل آب بیتی کا مواد موجود ہوتا ہے کیونکہ ہر فرد اپنی سوچ، عمل، احساسات، خوابوں اور تجربات کے اعتبار سے دوسروں سے کچھ نہ کچھ مختلف اور منفرد ہوتا ہے۔ لیکن آپ بیتی کسی بڑی مقصدیت سے عاری شب و روز کے معمولات پر مبنی ہو تو توجہ کے قابل نہیں ٹھہرتی، کیونکہ لوگوں کو کسی غیر معروف فرد کی ذات سے جُڑی باتوں سے رغبت نہیں ہوتی ۔مگر جو زندگی کے بنے بنائے راستوں پر چلنے کی بجائے اپنا راستہ خود تراشتے ہیں۔ وہ صرف جیتے نہیں بلکہ اپنے وجود کا احساس بھی زمانے پر ثبت کر جاتے ہیں، ایسے لوگوں کی جیون کتھا اسلئے خاص ہوتی ہے کہ اس میں درج واقعات زندگی کی عام روٹین سے ہٹ کر جدوجہد، شعور، قربانی اور حوصلے کی روشن مثال بن جاتے ہیں۔گزشتہ سال اپنے روحانی بھائی مسعود لوہار کی وساطت سے محمد خان ابڑو کی سندھی آپ بیتی کے اردو ترجمے’ جانبِ منزل‘ کی تقریب رونمائی میں شرکت کیلئے کراچی جانے کا اتفاق ہوا۔ اس کتاب کے مطالعے سے ایک ایسی شخصیت سے تعارف ہوا جس نے محرومیوں، تلخیوں اور زمانے کے جبر کو اپنی ہمت اور جدوجہد سے شکست دی۔ کراچی آرٹس کونسل میں سینکڑوں سامعین کی موجودگی میں بے اختیار یہ اعلان کر بیٹھی کہ اس کتاب کا پنجابی ترجمہ بھی کروں گی اور اسے شائع بھی کرواؤنگی تاکہ سندھ کی مٹی سے اُٹھنے والی یہ داستان پنجاب کے دل تک بھی پہنچ سکے،تقریباً چار سو صفحات پر مشتمل یہ آپ بیتی محمد خان ابڑو کے بچپن، لڑکپن، نوجوانی اور زندگی کے مختلف ادوار پر پھیلی ہوئی مسلسل جدوجہد کی داستان ہے، ایک ایسا بچہ جو زندگی کی کڑی دھوپ میں تلخیوں کی گٹھڑی اٹھائے موسم اور زمانے کے ہر جبر کا مقابلہ کرتا ہوا اپنی من چاہی منزل تک پہنچتا ہے۔میری خواہش تھی کہ یہ کتاب زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے، ہر طبقۂ فکر اسے پڑھے اور یہ نصاب کا حصہ بنے تاکہ وہ نوجوان جو معمولی مشکلات سے دل ہار کر جدوجہد کا راستہ چھوڑ دیتے ہیں، انہیں حوصلہ، امید اور زندگی سے لڑنے کا جواز مل سکے۔ اتنی ضخیم اور فکری اعتبار سے گہری کتاب کا پنجابی میں ترجمہ کرنا اور پھر بار بار اس کی پروف ریڈنگ کرنا یقیناً کوئی آسان مرحلہ نہ تھا، مگر خدا کے کرم سے یہ سفر مکمل ہوا اور ایک وعدہ وفا ہو گیا۔گزشتہ دنوں اسی کتاب کے پنجابی ترجمے ’’جیون کتھا‘‘ کی تقریبِ رونمائی مقامی کلب گلبرگ میں منعقد ہوئی۔ اس یادگار محفل کا اہتمام وجدان انسٹیٹیوٹ آف صوفی ازم اور وجدان پبلشرز کی جانب سے کیا گیا۔ تقریب کی صدارت مجیب الرحمٰن شامی نے کی جبکہ کتاب کے خالق محمد خان ابڑو ،سید نور، حبیب اللہ شیخ، قمر زمان کائرہ اور چوہدری منظور خصوصی مہمان کے طور پر شریک ہوئے ۔سیاست، صحافت، ادب، فلم، میڈیا اور ثقافت سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات میں سے حفیظ اللہ نیازی، میاں حبیب اللہ، سلمان عابد، ڈاکٹر جواز جعفری، آصف عفان، امجد اقبال امجد، مقصود بٹ، ڈاکٹر طارق شریف پیرزادہ، شیریں مسعود، نصیر احمد، ہجویری بھٹی، قرۃ العین، اذکا مقصود، انور عزیز چانڈیو، رخسانہ ڈیوڈ، یوسف پنجابی، حمزہ کرامت ، نبیل نجم اور دیگر مقررین نے محمد خان ابڑو کی آپ بیتی کو موجودہ دور کی نمایاں ترین آپ بیتیوں میں شمار کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ عموماً آپ بیتیاں عمر کے آخری حصوں میں لکھی جاتی ہیں جب بہت سے کردار اور واقعات کے گواہ دنیا سے رخصت ہو چکے ہوتے ہیں، اس لیے اکثر اوقات بہت زیادہ مبالغہ آرائی بھی شامل ہو جاتی ہے مگر محمد خان ابڑو کی یہ آپ بیتی سچائی، دیانت داری اور خود احتسابی کی ایسی مثال ہے جس میں مصنف نے اپنی کامیابیوں کیساتھ اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کو بھی پوری دیانت سے بیان کیا ہے۔سندھ اور پنجاب کی ادبی اور ثقافتی سانجھ کی عکاس اس تقریب کا نظارہ بہت شاندار تھا ۔پنجاب کی نامور ہستیوں نے محمد خان ابڑو کو پھول پیش کیے جبکہ محمد خان ابڑو نے حاضرین کو سندھی اجرک اور سندھی ٹوپیاں پہنا کر اس اخلاص کو دوبالا کیا۔شرکائے محفل نے اس تقریب کو صرف ایک ادبی تقریب نہیں بلکہ سندھ اور پنجاب کے باہمی رشتوں، ثقافتی ہم آہنگی اور لسانی محبت کی علامت قرار دیا۔ اس موقع پر اس عزم کا اعادہ بھی کیا گیا کہ مستقبل میں دونوں صوبوں کے درمیان ادبی اور ثقافتی روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے اور ایک دوسرے کی زبانوں کی کتابوں کے تراجم کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔
اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ محمد خان ابڑو کی سندھی زبان میں لکھی گئی یہ آپ بیتی ایک سال کے اندر اردو، انگریزی اور پنجابی میں ترجمہ ہو چکی ہےجو اس کی فکری وسعت، ادبی اہمیت اور عوامی پذیرائی کا واضح ثبوت ہے۔ اِن شااللّٰہ جلد ہی وجدان کے پلیٹ فارم سے کراچی میں دو روزہ کانفرنس کا اہتمام کیا جائیگا تاکہ ثقافتی سانجھ کو مزید بڑھایا جاسکے۔