عراق نے تیل پر بڑی سیل لگانے کا اعلان کیا ہے۔ بلومبرگ کے مطابق عراقی سرکاری تیل کمپنی کے مطابق ہرمز عبور کرنے پر ڈسکاؤنٹ حاصل کیا جاسکتا ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراقی تیل کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ خام تیل 33.40 ڈالر فی بیرل تک رعایت دیں گے۔
واضح رہے کہ عراق اوپیک کا دوسرا بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث اسکی تیل کی پیداوار اور برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں، کیونکہ بصرہ کے خام تیل کی ترسیل کا یہی واحد راستہ ہے۔
عراق ان اولین خلیجی ممالک میں شامل تھا جس نے اپنی پیداوار کم کی، اب وہ اپنی کچھ برآمدات ترکیہ کے بحیرۂ روم کے ساحل تک پائپ لائن کے ذریعے بھیج رہا ہے۔ تاہم بصرہ سے اسکی تیل کی برآمدات ہرمز کے ناقابلِ عبور ہونے کے باعث محدود ہو چکی ہے۔
عراق نے ایران کے ساتھ دو طرفہ معاہدوں کے تحت کچھ کارگو مشرق کی طرف بھی بھیجے ہیں، لیکن اب ٹینکرز کو خالی حالت میں مغرب کی طرف جانا پڑتا ہے اور پھر بصرہ سے لوڈنگ کے لیے خلیج کے اندر گہرائی تک سفر کرنا ہوتا ہے۔ تاہم اب نئی کشیدگی کے باعث ٹینکرز کی نقل و حرکت کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق اب عراق مئی کے مہینے میں بصرہ سے لوڈ ہونے والے اپنے اہم خام تیل بصرہ میڈیم پر سرکاری قیمت سے 33.40 ڈالر فی بیرل تک رعایت دے رہا ہے۔ اس حوالے سے عراقی سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنی سومو کے 3 مئی کے نوٹس کا حوالہ دیا گیا ہے۔
یکم مئی سے 10 مئی کے درمیان لوڈ ہونے والے بصرہ میڈیم کی قیمت 33.40 ڈالر فی بیرل کم رکھی گئی ہے، جبکہ 11 مئی سے 31 مئی کے درمیان یہ رعایت 26 ڈالر فی بیرل ہوگی۔ اسی طرح مئی میں لوڈ ہونے والا بصرہ ہیوی خام تیل او ایس پی سے 30 ڈالر کم پر پیش کیا جا رہا ہے۔
اگر کوئی خریدار ان پیشکشوں کو قبول کرتا ہے تو سومو کے نوٹس کے مطابق فورس میجر کا اطلاق نہیں ہوگا، کیونکہ یہ پیشکش پہلے سے معلوم غیر معمولی حالات کے تحت جاری کی گئی ہے۔