عدالت عالیہ سندھ میں بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) ریڈ لائن لاٹ ٹو کنٹریکٹر کا دفتر سیل کرنے کے خلاف درخواست پر سندھ حکومت اور ٹرانس کراچی کے وکیل کے دلائل مکمل ہوگئے۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ کنٹریکٹر کو مجموعی طور پر کنٹریکٹ کی رقم کے مساوی 15 ارب روپے ادا کیے جاچکے ہیں، منصوبے میں تاخیر کنٹریکٹر کی وجہ سے ہوئی ہے۔
عدالت نے سوال کیا کہ بتایا جائے، مختار کار نے کس حیثیت میں بی آر ٹی دفتر سیل کیا؟
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ مختار کار نے اکیلے کام نہیں کیا، کے ایم سی بھی ان کے ساتھ تھی، نقصان تو حکومت کا ہورہا ہے، درخواست نہ قابل سماعت ہے نہ ہی عدالت کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔
ٹرانس کراچی کے وکیل نے موقف اپنایا کہ درخواست میں ترمیم ضروری ہے، کنٹریکٹ کے معاملات دفتر سیل کرنے کے معاملات سے الگ ہیں۔
جسٹس سلیم جیسر نے سوال کیا کہ کیا آپ نے ڈیزائن مہیا نہیں کیے؟ جس پر وکیل ٹرانس کراچی نے بتایا کہ کنٹریکٹ سے متعلق معاملہ یہاں زیر سماعت نہیں ہے۔
جسٹس سلیم جیسر نے ریمارکس دیے کہ اتنا پیسہ خرچ ہونے کے بعد آپ بار بار ڈیزائن تبدیل کیے جارہے ہیں؟
وکیل ٹرانس کراچی نے کہا کہ اسٹیشنز نہ بھی بنیں تو بھی بی آر ٹی چل سکتی ہے، اگر ہماری طرف سے نا اہلی ہورہی تھی تو کنٹریکٹر کنٹریکٹ ختم کرنے کا نوٹس دے سکتے تھے، اگر مسئلہ ڈی سیلنگ کا ہے تو ہم اس حد تک فریق نہیں ہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ 2022 میں پروجیکٹ شروع ہوا تھا کنٹریکٹر نے 2 سال کام شروع نہیں کیا، صرف پیسے مانگتے رہے، یوں سمجھیں 2024ء میں دوبارہ کنٹریکٹ کیا گیا تھا، کنٹریکٹر کی وجہ سے ہی تاخیر ہورہی ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو مزید بتایا کہ پروجیکٹ کی لاگت 16 ارب سے 31 ارب تک چلی گئی ہے، اب تک 11 ارب روپے تک کی ادائیگی کردی گئی ہے، تاخیر کی مد میں مزید 4 ارب روپے کنٹریکٹر کو ادا کردیے گئے ہیں، منصوبے کی لاگت تقریباً ڈبل ہوچکی ہے، حکومت کو کچھ تو کرنا ہوگا۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے یہ بھی بتایا کہ سڑکوں کی بحالی کے لیے ایمرجنسی بنیادوں پر کام ایف ڈبلیو او کو دیا گیا ہے، پورا کنٹریکٹ کسی کو نہیں دیا، ایف ڈبلیو او کو سڑکوں کی مرمت کا کام ایشین ڈیولپمنٹ بینک کی منظوری سے دیا ہے، لاٹ ٹو ری ٹینڈر بھی ایشین ڈیولپمنٹ بینک کی منظوری سے دیا جائے گا۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ درخواست گزار کے وکیل نے سیاسی الزامات لگائے اس بنیاد پر درخواست مسترد کی جائے، آئینی عدالت کو سومو ٹو اختیار حاصل نہیں ہے، جو چیز مانگی نہیں گئی تو کیسے دی جاسکتی ہے۔
جسٹس سلیم جیسر نے سوال کیا کہ ٹرانس کراچی کیا ہے وہ بتائیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ٹرانس کراچی بی آر ٹی پروجیکٹس کے لیے بنائی گئی ہے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 7 مئی تک ملتوی کردی۔