وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا ہے کہ جب تک ملک کے معاشی اور معاشرتی مسائل حل نہیں کیے جاتے، اس وقت تک موسمیاتی تبدیلی کے بحران پر قابو پانا ممکن نہیں ہو گا۔
ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک سیلاب ملک کی تقریباً 9.8 فیصد جی ڈی پی کو متاثر کر دیتا ہے جبکہ سندھ کے سیلاب متاثرین اب بھی بے گھر ہیں جو حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
مصدق ملک کا کہنا ہے کہ صرف باتوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے، عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ روایتی زرعی نظام بھی موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ صحت، تعلیم اور آبادی جیسے بنیادی مسائل کو حل کیے بغیر ماحولیاتی بہتری ممکن نہیں، ملک کی نصف آمدن قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہو جاتی ہے جس سے ترقیاتی اقدامات متاثر ہوتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ صرف پبلک یا پرائیویٹ فنانس سے موسمیاتی مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ نوجوانوں کو فنانسنگ کے ساتھ جوڑنا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے پاس صاف پانی، ماحول اور ہوا کے حوالے سے مؤثر اور کم لاگت آئیڈیاز موجود ہیں جنہیں صرف مالی معاونت کی ضرورت ہے۔