خام تیل کی طلب گرنے کے باوجود عالمی تیل کے ذخائر میں تیزی سے کمی ہونے لگی۔
تیل کے ذخائر 8 سال کی کم ترین سطح پر آگئے، تیل کے ذخائر میں اپریل میں 20 کروڑ بیرل کی کمی آئی۔
عالمی مالیاتی اداروں نے ذخائر میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سپلائی کو معمول پر لانے کو ضرور ی قرار دیا اور کہا کہ ایران جنگ کی وجہ سے مارکیٹ میں تیل کے ذخائر میں 1 ارب بیرل کی کمی ہو چکی ہے۔
عالمی ادارے نے مزید کہا کہ اس دوران طلب تیزی سے گر رہی ہے، لیکن سپلائی کی کمی اس سے بھی زیادہ تیز ہے۔ تیل کے عالمی ذخائر ڈیمانڈ کے 101 دنوں کے برابر ہیں، جو مئی کے آخر تک 98 دنوں پر آ سکتے ہیں۔
عالمی مالیاتی اداروں کے مطابق ریفائن مصنوعات کی سپلائی بھی 50 دن سے 45 دن پر آگئی ہے، یہ عوامل تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ بن سکتے ہیں۔