یہ آج سے ٹھیک ایک سال قبل سات مئی 2025ء کی ایک تاریک رات تھی جب مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں پہلگام واقعے کو جواز بناتے ہوئے پاکستان کے خلاف جنگی محاذ کھول دیا، بڑی تعداد میں بھارتی فضائیہ کے طیارے جارحانہ انداز میں پاکستان کی جانب لپکے،انکا مقصد بالکل واضح تھا کہ پاکستانی آسمانوں پر کنٹرول حاصل کیا جائے ، بھارتی میڈیا پرپہلے ہی پاکستان کے خلاف زہریلا پراپیگنڈ ا زوروں پر تھا، بھارتی قیادت کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کردیا تھا،دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز تھیں کہ وہ اپنے سے کئی گنا زیادہ بڑے پڑوسی کے جارحانہ عزائم کا مقابلہ کیسے کرے گا۔ مودی سرکار کو رات کی تاریکی میں آپریشن سندور شروع کرتے وقت یقین تھا کہ مغربی قوتوں سے حاصل کردہ جنگی طیارے پاکستان کی فضاؤں پر بھارت کا راج قائم کردیں گے، تاہم جب پاکستان کی فضائی حدود میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی گئی تو ناقابلِ شکست رافیل سمیت متعدد جنگی طیارے کٹی پتنگ کی مانند زمین پر آگرے، پاکستانی ہوابازوں کے ساتھ جھڑپ کے بعد بھارتی لڑاکا طیارے اپنی سرحدوں سے تین سو کلومیٹر پیچھے بھاگنے پر مجبور ہوگئے، دنیا بھر کے میڈیا اداروں نے پاکستانی شاہینوں کی جرات و بہادری کا اعتراف کرتے ہوئے رپورٹ کیا کہ پاکستان نے اپنے سے کئی گنا طاقتور پڑوسی فضائیہ کی جانب سے فضائی برتری حاصل کرنے کا خواب چکناچور کردیا ہے، امریکی ٹی وی چینل سی این این نے بریکنگ نیوزنشر کی کہ پاکستان کے ہاتھوں فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے گرائے جاچکے ہیں۔ جب بھارت نے بوکھلاکراسرائیلی ساختہ ڈرون طیاروں سے پاک سرزمین پر دوبارہ حملہ کرنے کی جسارت کی تو افواج ِ پاکستان کے بہادر سپہ سالار فیلڈ مارشل عاصم منیر نے آپریشن بنیان مرصوص شروع کر نے کا اعلان کردیا، جب پاکستان نے فضاء سےفضا میں مار کرنےوالے میزائل داغنا شروع کیے تودراندازی کرنےوالے بے بسی و لاچارگی کی تصویر بن گئے ، اس حوالے سے برطانوی جریدے دی ٹیلی گراف کی شائع کردہ رپورٹ نے ہر طرف تہلکہ مچا دیا کہ سات مئی کو پاک بھارت سرحد کے اوپر آسمانوں میں رونماء ہونے والی فضائی جھڑپ کو عام فضائی لڑائی نہ سمجھا جائے بلکہ اسے مغربی قوتوں کے ایماء پر بھارت کی فضائی غلبے کی خواہش کی مکمل ناکامی سے تعبیر کیا جائے، پاکستان نے چین کی بھرپور مدد سے بھارت کی فضائی برتری کا وہ طلسم ہمیشہ ہمیشہ کیلئے باطل کر ڈالا جسکی آبیاری برسوں کی گئی تھی اور اب پاکستان کے ہاتھوں بھارتی جدید جہازوں کے زمین بوس ہونے سے مغربی طاقتوں کا اپنے اوپر یقین بھی ٹوٹ گیا ہے، برطانوی میڈیا کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کے ایف تھرٹی فائیو لڑاکا طیارے سے زیادہ طاقتور سمجھا جانے والا پچیس کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کا فرانس کا تیارکردہ رافیل جنگی جہاز سات مئی سے قبل دنیا کی نظروں میں ناقابلِ شکست تھا لیکن رافیل طیارے اپنے ہدف پر حملہ آور ہونے سے قبل ہی زمین بوس ہوگئے۔چار روزہ پاک بھارت فضائی جھڑپ کا اختتام پاکستان کی واضح کامیابی سے ہوا، اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سےدو بڑی ایٹمی طاقتوں کے مابین جنگ بندی کروا تو لی گئی لیکن انہیں افواجِ پاکستان کی زبردست کارکردگی نے اتنا زیادہ متاثر کیا کہ وہ ہر اہم موقع پر پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرنا نہ بھولتے،ٹرمپ کی طرف سے شرم الشیخ کانفرنس میں اہم ترین عالمی راہنماؤں کی موجودگی میں وزیراعظم پاکستان کو خطاب کی دعوت دینا اور چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر کو مائی فیورٹ فیلڈ مارشل قرار دینا پاکستان کی ڈیفنس ڈپلومیسی کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اور پھر یہی دفاعی سفارت کاری آگے چل کر امریکہ اور ایران کے مابین امن کی کرن کی صورت میں عالمی منظرنامے پر جگمگائی، پوری دنیا نے حیرت سے دیکھا کہ کس طرح مئی 2025ءمیں رونماء ہونے والے معرکہ حق کے فاتح پاکستان نے اپنے دارالحکومت میں اسلام آباد ٹاکس کی میزبانی کی جس میں چار دہائیوں بعد پہلی مرتبہ سپرپاور امریکہ نے اپنے مخالف ایران کے ساتھ براہ راست ڈائیلاگ کیے۔ ایسے نازک موقع پر جب پڑوسی ملک ایران کی فضاؤں پر حملہ آور قوتوں کا راج تھااورایرانی سپریم لیڈر سمیت اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کو نشانہ بنایا جاچکا تھا، فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دلیرانہ دبنگ دورہ تہران نے پاکستان کی دفاعی قوت کی دھاک دنیا بھر پر بٹھا دی اور پھر جب ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے کہنے پر ایران جنگ بندی کو آگے بڑھایا تو پاکستان کو سفارتی تنہائی میں مبتلا کرنے کا ارادہ رکھنے والے خود سفارتی تنہائی کا شکار ہوگئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ تاریخ میں کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو امرہوجاتے ہیں۔گزشتہ برس مئی 2025 میں پیش آنے والا معرکہ حق بھی ایسا ہی ایک تاریخی سنگِ میل ہےجس نے نہ صرف پاکستان کی عسکری و دفاعی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے بھرپور انداز میں اجاگر کیا بلکہ قومی یکجہتی، ہم آہنگی اور حق و سچ کے بیانیہ کو بھی مضبوط کیا۔ آج جب اس عظیم الشان کامیابی کی پہلی سالگرہ منائی جا رہی ہےتو بطور محب وطن پاکستانی میں اسے محض ایک عسکری فتح کے طور پر نہیں بلکہ قومی وقار اور سچائی کی جیت کے طور پر دیکھ رہا ہوں، میری نظر میں معرکہ حق کا دن دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ پاکستان صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ہماری دھرتی ماتا ہے، پاکستان ہم سب کا ہے، اور ہم سب پاکستان سے ہیں۔ افواجِ پاکستان نےماضی میں بھی ہر قسم کی جارحیت کا جواب نہایت پیشہ ورانہ مہارت اور ذمہ داری کے ساتھ دیا اور اب بھی ہمارے بہادر جوان ملکی سرحدوں کی حفاظت کیلئے چوکس ہیں،معرکہ حق نے قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو شہیدکی سیاسی بصیرت کو بھی سچ ثابت کردکھایا جنہوں نے پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنانے کیلئے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اور بعد ازاں انکی عظیم صاحبزادی شہیدرانی محترمہ بے نظیر بھٹو نےاپنے دورِ حکومت میں میزائل پروگرام کا آغاز کیا۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم اسی طرح حب الوطنی کے جذبے سے سرشار آگے بڑھتے رہے تو یقیناً ہمارا پیارا وطن عالمی سطح پر مزید کامیابیاں اپنے نام کرے گا۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد...!