ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی امن اور جنگ بندی کی نئی تجاویز کا جائزہ لینا شروع کر دیا تاہم دونوں ممالک کے درمیان اہم امور پر بڑا اختلاف بدستور موجود ہے۔
الجزیرہ کی ایک خصوصی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی 14 نکاتی مسودے کے مطابق ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا عمل مکمل طور پر روک دے، کم از کم 12 سال تک یورینیئم کی افزودگی بند کرے اور تقریباً 440 کلو گرام 60 فیصد افزودہ یورینیئم امریکا کے حوالے کرے۔
اس کے بدلے میں امریکا نے پابندیوں میں نرمی لانے، منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی پیشکش کی ہے، ان نکات میں آبنائے ہرمز کو 30 دن کے اندر دوبارہ کھولنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
ایران کی جانب سے تاحال باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا تاہم الجزیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی پارلیمانی اور سیکیورٹی حکام نے ان تجاویز کو غیر حقیقی اور بعض کو انتہائی سخت مطالبات قرار دیا ہے۔
اسی دوران دونوں ممالک کے درمیان بحری اور فضائی کشیدگی کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں، تاہم ایرانی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکراتی عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، پاکستان کی ثالثی میں رابطے جاری ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی دونوں فریق ایک دوسرے کو مختلف امن تجاویز دے چکے ہیں جن میں ایران اور امریکا دونوں کی جانب سے متعدد نکاتی منصوبے شامل ہیں لیکن بنیادی اختلافات اب تک حل نہیں ہو سکے۔
الجزیرہ کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری افزودگی پروگرام اس کی ’سرخ لکیر‘ ہے اور اسے مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
تہران کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ اسے اقوامِ متحدہ کی سطح پر سیکیورٹی ضمانتیں دی جائیں اور تمام پابندیاں ختم کی جائیں۔