• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لاہور کی ’کلچہ سپریمیسی‘ و دیگر مسائلِ اُمّت

سوشل میڈیا پر لاہور اور کراچی کے کھانوں کی بحث پڑھ پڑھ کر آنکھیں پَک گئی ہیں۔ اپنی طرف سے وسیم اکرم نے یہ کہہ کر بحث کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے کہ وہ پکّے لاہوریے ہیں مگر گزشتہ کئی برس سے کراچی میں مقیم ہیں اِس لیے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ کراچی کے کھانے بہترین ہیں اور لاہور کے کھانوں میں سوائے مرچوں کے کچھ نہیں ہوتا۔ جواب میں کچھ سِکّہ بند لاہوریوں نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا اور لاہور کے کھانوں سے متعلق ایسے ایسے لطیف نکتے بیان کیے کہ ایک مرتبہ تو میں بھی پڑھ کر چکرا گیا۔ ادھر کراچی والے بھی ایسی دور کی کوڑیاں لا رہے ہیں کہ لگتا ہے جیسے روئے زمین پر کراچی کے علاوہ کوئی شہر ہی نہیں۔ اپنے شہر سے محبت کے یہی تقاضے ہیں۔ ہمارے ایک عزیز دوست جن کا تعلق سرگودھا سے ہے، خلوص نیت سے یہ سمجھتے ہیں کہ جس قسم کی لذت سرگودھا کے کھانوں میں پائی جاتی ہے وہ ہند سندھ میں کہیں اور نہیں ملتی۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اُن کے شہر کا پاکستان کے کسی شہر سے موازنہ نہیں بنتا البتہ اقوام متحدہ کو ثالث بنا کر لندن، نیویارک اور پیرس سے بات کی جا سکتی ہے۔

میں بھی چونکہ لاہوریا ہوں اِس لیے جو بھی لکھوں گا یہی سمجھا جائے گا کہ لاہور کی محبت میں لکھ رہا ہوں۔ محبت میں تعصب ہی تو ہوتا ہے جسکی وجہ سے محبوب کی خرابیاں نظر نہیں آتیں اور اگر عاشق ذرا ذرا سی بات پر محبوب میں کیڑے نکالنے لگے تو سمجھ جائیں کہ عشق ختم ہو چکا ہے۔ اِس سے پہلے کہ بات کہیں اور نکل جائے، کھانوں پر واپس آتے ہیں۔ لاہور کے کھانوں کے متعلق بنیادی نکتہ یہ نہیں کہ یہاں لبنانی، چینی، میکسیکن، امریکن، ایرانی، ترکی، انڈین اور ہر قسم کے پاکستانی کھانے بہترین ملتے ہیں، اِس کسوٹی پر لاہور اور کراچی تو کیا، شاید ہی دنیا کا کوئی شہر پورا اترتا ہو۔ (سرگودھا کی بات اور ہے)۔ میرا دعویٰ یہ ہے کہ لاہور میں آپ گھومتے گھامتے کہیں بھی چلے جائیں، دھرم پورہ سے لے کر شاہدرہ تک اور گلبرگ سے لے کر اندرون شہر تک، اور کسی بھی ڈھابے، دکان، ریستوران یا ریڑھی والے کے پاس بیٹھ کر کچھ بھی آرڈر کریں، نوّے فیصد امکان ہے کہ آپ کو کھانے سے مایوسی نہیں ہوگی۔ یہ خصوصیت کسی اور شہر کی نہیں۔ بے شک آپ کو دیگر شہروں میں بھی اچھے کھانے ملتے ہیں، حتّیٰ کہ اسلام آباد میں بھی، مگر وہاں جگہیں مخصوص ہیں، کہیں سے چینی کھانا اچھا مل جائے گا اور کہیں سے کورین،ایک آدھ جگہ سے لسّی بھی ٹھیک مل جائیگی۔ مگر یہ ممکن نہیں کہ آپ ملتان، فیصل آباد یا کراچی میں کہیں بھی جا کر حلوہ پوری، چنے، بونگ، ہریسہ، پائے، سیخ کباب، نہاری، مچھلی، کھد، مٹن، چکن کڑاہی، لسّی یا سموسے منگوائیں اور وہ ایک خاص معیار سے کم کے نہ ہوں، یہ خاصہ صرف لاہور میں ہے۔ لاہور میں صرف چنوں کی دس سے زیادہ اقسام ہیں، یار لوگوں نے اِس پر کتابیں لکھی ہوئی ہیں۔ لاہور میں صبح کا آغاز چنوں کے بغیر ایسے ہی ہے جیسے بغیر پتی کے چائے۔ یہ محض ایک ڈش نہیں بلکہ ثقافت ہے۔ انڈہ چنے، کوفتہ چنے، مرغ چنے اور پھر ان پر تیرتا ہوا خالص دیسی گھی یا مکھن۔ مزنگ کے چنے، گوالمنڈی کے چنے، نیلا گنبد کے چنے، ہال روڈ کے چنے، شاہ عالم مارکیٹ کے چنے اور ماڈل ٹاؤن کے چنے، ہر ایک کا ذائقہ دوسرے سے مختلف ہے۔ میں تو اُس بندے کو لاہوری نہیں سمجھتا جو اتوار کی صبح لسّی کیلئے ہاتھ میں ’ڈول‘ لے کر نہ نکلا ہو۔

کلچوں کی داستان الگ ہے۔ جس قسم کا کلچہ لاہور میں ملتا ہے، سرخ اور تلوں والا، وہ کہیں اور نہیں ملتا۔ کچھ لوگ نان کو کلچہ سمجھتے ہیں جو سراسر بدعت ہے۔ کلچہ، خمیری روٹی، رومالی روٹی، تندوری روٹی اور نان، سب کا جہان الگ ہے۔ لاہور کی جو حاکمیت کلچے کے باب میں ہے، صرف وہی اسے امر کرنے کیلئے کافی ہے۔ کراچی والوں کا سب سے بڑا ہتھیار بریانی ہے۔ کوئی شک نہیں کہ کراچی کی بریانی کا جواب نہیں، اسی لیے کراچی والے طنزاً کہتے ہیں کہ لاہور میں جسے بریانی کہا جاتا ہے وہ دراصل زردے کا رنگ ملا ہوا پلاؤ ہوتا ہے۔ اور یہ بات بھی درست ہے کہ کراچی میں کھانوں کی ورائٹی زیادہ ہے، اور اس کی وجہ وہاں بسنے والی مختلف قومیتیں ہیں، جیسے میمن، سندھی، پشتون، بلوچ، اور چونکہ بڑا میٹروپولیٹن شہر ہے اِس لیے تنوع بہت ہے، یہاں کورین، تھائی، جاپانی کھانے مل جاتے ہیں اور شاکاہاری کیلئے بھی کافی آپشنز ہیں، اور یہی خصوصیت اسے لاہور سے ممتاز کرتی ہے۔ لاہور کی ایک اور خاص بات یہاں کی کافی شاپس اور کیفے ہیں، گزشتہ چند برسوں میں ان کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک کافی شاپ یہاں موجود ہے، ہر قسم کی کافی یہاں مل جاتی ہے، کیفے بھی بہت اچھوتے اسٹائل کے کھل گئے ہیں جہاں جا کر لگتا ہے کہ آپ کسی یورپین شہر میں آ گئے ہوں۔ کراچی میں بھی یہ رجحان ہے مگر لاہورسے کم۔ کراچی کے مشہور کیفے یا ریستوران آپ ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گن سکتے ہیں، لاہور میں یہ تعداد کہیں زیادہ ہے حالانکہ آبادی لاہور کی کم ہے۔ لاہور کی ایک اور بات جسکا مقابلہ کرنا ممکن نہیں وہ لاہور کی سردی اور دھند میں کھانا ہے۔ گوالمنڈی یا لکشمی چوک میں کڑاہوں میں ابلتا ہوا دودھ، گاجر کا حلوہ، کشمیری چائے اور مچھلی کے پکوڑے۔ اللہ کوجان دینی ہے، کیا نیشنل جیوگرافک والوں نے لاہور کے کھانوں پر خواہ مخواہ ہی دستاویزی فلم بنا دی ہے؟

لاہور میں ریستوران کا کاروبار خاصا منافع بخش ہے، یہ واحد کام ہے جو خالصتاً مقامی ہے، اِس میں امپورٹڈ چیزیں نہیں چاہئیں، اِس کے ساتھ دس لاکھ افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ لیکن جب سے کفایت شعاری کے نام پر رات دس بجے ریستوران بند کرنے کا حکم جاری ہوا ہے، یہ کاروبار شدید متاثر ہوا ہے۔ کراچی میں ریستوران بند کرنے کا وقت ساڑھے گیارہ بجے ہے سو وہاں کاروبار کو فرق نہیں پڑا مگر لاہور کے ریستوران بند ہو رہے ہیں۔ لوگ کافی شاپ، کیفے اور ریستوران میں پیٹ بھرنے کیلئےنہیں آتے، تفریح کی غرض سے آتے ہیں، ایک طرف ہم چاہتے ہیں کہ مقامی اور بین الاقوامی سیاحت میں اضافہ ہو اور دوسری طرف ہم نے اپنی واحد تفریح پر عملاً پابندی لگا دی ہے۔ اگر پنجاب میں بھی ریستوران کے اوقات دس کی بجائے ساڑھے گیارہ بجے کر دیے جائیں تو یہ کاروبار بھی چلتا رہے گا اور بچت مہم بھی۔ ویسے بھی ہماری قوم کے پاس تفریح کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں لہٰذا یہ جو لاہور کی ’کلچہ سپریمیسی‘ یا کراچی کی ’بریانی سپریمیسی‘ کی بحثیں ہیں، یہ ہماری زندہ دلی کی علامت ہیں۔ خدا کرے ہمارے شہروں کی یہ رونقیں بحال رہیں، کراچی والوں کی دیگیں بھی دَم پر لگی رہیں اور لاہوریوں کے تنوروں سے گرما گرم تلوں والے کلچے بھی نکلتے رہیں۔ اُمّت کے باقی مسائل تو شاید کبھی حل نہ ہوں، کم از کم یہ پیٹ کا مسئلہ تو خوش اسلوبی سے حل ہوتا رہے۔ باقی میں اپنی بات پر قائم ہوں کہ لاہور کا کوئی جوڑ نہیں۔

تازہ ترین