دوسری عالمی جنگ ختم ہوئی تو یورپ کے بیشتر ممالک ملبے کا ڈھیر تھے۔ پانی اور بجلی سمیت بنیادی ضروریات کا نظام درہم برہم تھا۔ سڑکیں باقی تھیں اور نہ پل سلامت تھے۔ ایسے میں امریکا نے مغربی یورپ کے سترہ ممالک کی معاشی تعمیر نو کے لیے اپریل 1948 میں 13.3 ارب ڈالر کا چار سالہ امدادی پروگرام ’مارشل پلان‘ شروع کیا۔ سوویت یونین اور اس کے زیر اثر ممالک نے منصوبے میں شمولیت کی پیشکش مسترد کر دی۔ جنگ کے بعد مغربی یورپ کی تعمیر نو اس قدر تیز رفتار تھی کہ مارشل پلان طے شدہ وقت سے قبل ہی دسمبر 1951 میں ختم کر دیا گیا کیونکہ مغربی یورپ میں صنعتی پیداوار قبل از جنگ کی سطح سے 35 فیصد بڑھ چکی تھی۔ اس تیز رفتار تعمیر نو کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یورپ میں زندہ بچنے والی آبادی کا علمی معیار اور ذہنی سطح جنگ سے متاثر نہیں ہوئے تھے۔ ثابت ہوا کہ کسی قوم کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے تعلیم سے بڑھ کر کوئی موثر ذریعہ موجود نہیں۔ حتیٰ کہ چھپر پھاڑ کر ملنے والی دولت کا استعمال بھی تعلیمی شعور سے تعلق رکھتا ہے۔ ایوب خان کے گیارہ برس میں پاکستان کو امریکہ سے ڈیڑھ ارب ڈالر ملے۔ ضیا آمریت میں مغربی ممالک سے مالی امداد پانچ سے سات ارب ڈالر کو جا پہنچی۔ خلیجی ممالک سے ترسیلات زر کی تلیا نے اضافی خوشحالی کا غیبی دروازہ کھول دیا۔ جنوبی کوریا اور پاکستان ایک ہی وقت میں آئی ایم ایف اور امریکی دروازے پر کشکول لیے پہنچے تھے تب پاکستان کی فی کس آمدنی 86 ڈالر اور جنوبی کوریا کی فی کس آمدنی 68 ڈالر تھی۔ آج جنوبی کوریا کی فی کس آمدنی 37,412 ڈالر ہے اور پاکستان 1710 ڈالر کی لکیر پر گھسٹ رہا ہے۔ بنیادی فرق یہ رہا کہ جنوبی کوریا نے تعلیم کو بنیادی قومی ترجیح قرار دیا نیز زرعی معیشت کو صنعتی پیداواری نمونے میں بدل دیا۔ دلچسپ امر یہ کہ اس تمام عرصے میں جنوبی کوریا یکے بعد دیگرے فوجی آمریتوں اور جنگوں میں ملوث رہا۔ قیادت کی سیاسی بصیرت مستقبل کی درست پیش بینی اور صحیح فیصلوں سے متعین ہوتی ہے۔
23 اپریل 1930 ءکو پشاور کے قصہ خوانی بازار میں خدائی خدمت گاروں کے ایک غیر مسلح جلوس پر برطانوی حکمرانوں نے گولی چلا دی۔ اس تصادم میں 400 پختون جوان کھیت رہے۔ اولف کیرو اپنے مراسلے میں لکھتا ہے کہ 23 اپریل کی رات چیف کمشنر نارمن بولٹن نے مجھے حکم دیا کہ رات کے اندھیرے میں جتنی لاشیں ممکن ہو سکیں دفن کر دی جائیں تاکہ اگلے روز مزید اشتعال سے بچا جا سکے۔ اولف کیرو کے مطابق اس نیک کام میں عبدالرب نشتر، عطا اللہ جان، اورنگزیب خان اور قاضی محمد اسلم نے میرا ساتھ دیا۔ رات کے اندھیرے میں ہم نے سات آٹھ لاریوں میں بھر کر کشتگان استعمار دفن کر دیے۔ قصہ خوانی فائرنگ کا ایک اہم واقعہ یہ تھا کہ اٹھارہویں رائل گڑھوال رائفلز کے حوالدار میجر چندر سنگھ گڑھوال نے اپنے سپاہیوں کو غیر مسلح شہریوں پر گولی چلانے سے روک دیا۔ چندر سنگھ کا حکم ماننے والے سپاہیوں کا کورٹ مارشل کر کے تین سے دس برس قید بامشقت نیز جلاوطنی کی سزائیں سنائی گئیں۔ ایک برس بعد ستمبر 1931 میں گاندھی جی دوسری گول میز کانفرنس کے لیے لندن پہنچے تو انہیں مشتعل ہندوستانی طلبا کا سامنا کرنا پڑا جو گاندھی جی سے محب وطن ہندوستانی سپاہیوں کو سزائوں پر احتجاج کا مطالبہ کر رہے تھے۔ گاندھی جی نے صاف انکار کر دیا۔ تلخی اس قدر بڑھی کہ مہاتما گاندھی تقریب چھوڑ کر چلے گئے۔ بعد ازاں ایک ساتھی نے وضاحت چاہی تو گاندھی جی نے کہا کہ کل ہندوستان آزاد ہو گا۔ اگر آج ہم باوردی سپاہیوں کی حکم عدولی کی روایت تسلیم کر لیں تو کل خود کیسے حکومت چلا سکیں گے۔ 12 ستمبر 1946 کو عبوری وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے برطانوی ہند کے کمانڈر انچیف اور سیکرٹری دفاع کے نام ایک خط میں لکھا کہ آزادی کے بعد ہندوستانی فوج میں چنیدہ گروہوں کی بجائے پورے ملک سے فوجی بھرتی کی جائے گی۔ عسکری قیادت نے قیل و قال کرنا چاہی تو نہرو نے کہا کانگرس کی قیادت مارشل نسل کا نوآبادیاتی تصور ختم کرنے کا فیصلہ ربع صدی پہلے کر چکی تھی۔ 1938میں حکومت ہند نے قومی پالیسی کیلئے برطانوی ماہر تعلیم فلپ سارجنٹ کی خدمات حاصل کیں جس نے 1944میں ہندوستان کی قومی تعلیمی پالیسی کا نقشہ پیش کیا ۔ اس منصوبے کے مطابق 1984ءتک ہندوستان میں شرح خواندگی کو سو فیصد تک لانا تھا۔ پرجوش ہندوستانی رہنما اس سست رو منصوبے پر ہنسی اڑاتے تھے۔ تاہم آج کے ہندوستان میں شرح خواندگی 81 فیصد تک پہنچ چکی ہے قیادت کی بصیرت دور تک دیکھنے اور اس کی درست نقشہ بندی کرنے سے عبارت ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد نے پاکستانی وزیر تعلیم فضل الرحمن کو 1948 میں تجویز دی تھی کہ پاکستانی حکومت بھی فلپ سارجنٹ کی تعلیمی بصیرت سے فائدہ اٹھائے مگر فضل الرحمن تو اشتیاق حسین قریشی اور ملک عمر حیات کے موئے پریشاں کے اسیر تھے۔ یہ دونوں قدامت پسند ماہرین تعلیم بیک وقت دستور ساز اسمبلی کے رکن بھی تھے اور سرکاری ملازم بھی۔ ملک عمر حیات پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر بنے۔ قرارداد مقاصد کے موید ٹھہرے۔ اشتیاق حسین قریشی نے تاریخ مسخ کی نیز دس برس تک کراچی یونیورسٹی کی بنیادیں کھودیں۔ اس دوران دونوں حضرات مختلف ممالک میں سفارت کاری سے بھی متمتع ہوئے۔ ثابت ہوا کہ تعلیمی بصیرت سے بہرہ ور ایک سارجنٹ دو جاہ پرست وائس چانسلروں پر بھاری ہوتا ہے۔
اس پس منظر میں آج کا پاکستان دیکھئے جہاں 88 فیصد عالمی شرح خواندگی کے مقابلے میں ہماری شرح خواندگی 62 فیصد ہے۔ ایسے میں پنجاب حکومت دس ہزار سرکاری اسکول نجی شعبے کے سپرد کر رہی ہے۔ جواز یہ ہے کہ ایک بچے کی تعلیم پر سالانہ 3 ہزار روپے کے اخراجات بچائے جائیں۔ پوچھنا چاہیے کہ یہ رقم بچانے کے لیے منتخب نجی ادارے اساتذہ کے انتخاب، معاوضوں، تعلیمی معیار، تربیت نیز انفراسٹرکچر سمیت تمام اخراجات ادا کرنے کے بعد اپنا منافع بھی یقینی بنانا چاہیں گے۔ چنانچہ تعلیم کا معیار بہتر ہو گا یا مزید نیچے گرے گا۔ صاحبان! سیاست میں دو قومی نظریہ بار آور ہو یا نہ ہو، ہم نے تعلیم میں دو قومی نظریہ نافذ کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ اشرافیہ اعلیٰ تعلیم پائے گی اور افتادگان خاک پر اقتدار کی کاٹھی ڈالے گی۔