• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک سال قبل چھ اور سات مئی کی درمیانی رات تھی۔ گھڑی کی سوئیاں ڈیڑھ بجنے کا اعلان کر رہی تھیں۔ مریدکے کی فضا پر ایک عجیب سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ سڑکیں سنسان تھیں، مسجد کے سفید مینار اندھیرے آسمان کے نیچے خاموش کھڑے تھے۔ چند بزرگ تہجد کیلئے بیدار ہو چکے تھے، کچھ گھروں میں مائیں اپنے بچوں کے سروں پر ہاتھ رکھے سو رہی تھیں، جبکہ نوجوانوں کی ایک تعداد حسبِ معمول موبائل فون ہاتھ میں لیے رات کی آخری اسکرولنگ میں مصروف تھی۔ کسی کو کیا معلوم تھا کہ اگلے چند لمحوں میں تاریخ کا رخ بدلنے والا ہے۔پھر اچانک فضا میں ایک عجیب سی چیخ گونجی۔ ایسی آواز جیسے آسمان کو کسی نے چیر دیا ہو۔ چند سیکنڈ کیلئے پورا علاقہ ساکت ہو گیا۔ اور پھر ایک خوفناک دھماکہ۔ایسا دھماکہ کہ زمین کانپ اٹھی۔ دیواریں لرز گئیں۔ فضا گرد، دھویں اور بارود کی بو سے بھر گئی۔ ہر طرف چیخیں تھیں، بھاگتے ہوئے لوگ تھے، اور خوفزدہ بچے تھے۔ مریدکے کی اس مسجد اور اسکے اطراف میں قیامت اتر چکی تھی۔یہ بھارت کا برہموس میزائل تھا۔وہی بھارت جو ہمیشہ کی طرح بغیر کسی اعلان جنگ، بغیر کسی ثبوت اور بغیر کسی اخلاقی جواز کے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ آور ہوا تھا۔ پہلگام واقعے کا الزام لگا کر اس نے نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا۔ مسجد، جو عبادت کی جگہ تھی، اچانک جنگ کا میدان بن چکی تھی۔ صبح ہونے تک چالیس معصوم پاکستانیوں کے جنازے اٹھ چکے تھے۔ مائیں اپنے بیٹوں کو ڈھونڈ رہی تھیں، بچے اپنے باپوں کو آوازیں دے رہے تھے، اور پورا پاکستان غم اور غصے کے ملے جلے احساس میں ڈوبا ہوا تھا۔لیکن شاید بھارت یہ نہیں جانتا تھا کہ اس رات اس نے صرف ایک حملہ نہیں کیا، اس نے ایک سوئی ہوئی قوم کو جگا دیا تھا۔اگلی صبح پاکستان بدل چکا تھا۔سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کو گالیاں دینے والے لوگ خاموش ہو گئے تھے۔ سیاسی جماعتوں کے جھنڈے جیسے اچانک بے معنی ہو گئے تھے۔ کراچی سے خیبر تک، گلگت سے گوادر تک، ہر زبان، ہر نسل اور ہر صوبے کے لوگ صرف ایک جملہ کہہ رہے تھے۔پاکستان زندہ باد… پاک فوج زندہ باد!برسوں بعد پاکستانی قوم ایک قوم بن کر کھڑی ہوئی تھی۔ اختلافات ختم ہو چکے تھے۔ نفرتیں دفن ہو چکی تھیں۔ ہر آنکھ میں غصہ بھی تھا اور عجیب سا اعتماد بھی۔ لوگ اپنی فوج کیلئے دعائیں کر رہے تھے۔ مساجد میں قرآن خوانیاں ہو رہی تھیں۔ سوشل میڈیا پر نوجوان فوجی ترانے لگا رہے تھے۔ وہ اعتماد، وہ محبت، وہ یکجہتی شاید پاکستان نے برسوں بعد دیکھی تھی۔پھر دنیا نے وہ منظر دیکھا جسکی شاید بھارت کو کبھی توقع نہیں تھی۔پاکستان نے جواب دیا۔اور ایسا جواب دیا کہ دہلی کے ایوانوں میں خاموشی چھا گئی۔پاک فضائیہ نے پہلے ہی دن بھارت کے جدید ترین رافیل طیاروں سمیت چھ جنگی جہاز مار گرائے۔ وہ رافیل جنہیں بھارت اپنی طاقت کا غرور سمجھتا تھا، چند لمحوں میں آگ کے شعلوں میں تبدیل ہو گئے۔ بھارتی میڈیا سکتے میں تھا۔ دنیا حیران تھی۔ جنوبی ایشیا کی فضاؤں میں طاقت کا توازن بدلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔پھر سرحدوں پر پاکستان کے الفتح میزائل گرجے۔ بھارتی پوسٹیں تباہ ہوئیں۔ دشمن کے دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچا۔ اور جب بھارت کے جدید ایس 400 دفاعی نظام کی تباہی کی خبریں آئیں تو بھارتی غرور زمین بوس ہوتا محسوس ہوا۔ وہ بھارت جو ہمیشہ پاکستان کو کمزور، غریب اور تقسیم شدہ ملک سمجھتا تھا، اچانک دنیا کے سامنے بے بس دکھائی دینے لگا۔پاکستانی قوم کا جذبہ اس وقت اور بھی حیران کن تھا۔ لوگ بھارتی ڈرونز کے ملبے کے ساتھ تصویریں بنوا رہے تھے۔ دیہاتوں میں عام کسان اپنی بندوقوں کے ساتھ بھارتی ڈرون گرانے کی کہانیاں سنا رہے تھے۔ یہ صرف جنگ نہیں تھی، یہ پوری قوم کی بیداری تھی۔اور پھر وہ وقت بھی آیا جب بھارت کو امریکہ کے دروازے پر جا کر کہنا پڑا کہ پاکستان سے سیز فائر کروایا جائے۔شکریہ بھارت۔واقعی شکریہ۔کیونکہ جب جب پاکستان اندر سے کمزور ہوا، جب جب ہم نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کی، جب جب ہم سیاست، زبان اور صوبوں میں بٹ گئے، تب تب تمہارے ایک حملے نے ہمیں یاد دلایا کہ ہم سب سے پہلے پاکستانی ہیں۔تم نے ہمیں یاد دلایا کہ اختلاف سیاست میں ہو سکتا ہے، وطن پر نہیں۔اور شاید یہی وہ لمحہ تھا جب پوری دنیا نے بھی پاکستان کو نئے انداز میں دیکھنا شروع کیا۔ آج عرب ممالک پاکستان کی دفاعی صلاحیت کے معترف ہیں۔ کئی اسلامی ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کر رہے ہیں۔ پاکستان کے جنگی جہاز اور عسکری ٹیکنالوجی عالمی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ تیسری دنیا کے ممالک پاکستان کی دفاعی حکمت عملی کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔اور دوسری طرف بھارت…وہی بھارت جو خود کو خطے کا تھانیدار سمجھتا تھا، آج پاکستان کی بڑھتی ہوئی عزت دیکھ کر بے چین دکھائی دیتا ہے۔ آج عالمی سطح پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کا ذکر کیا جاتا ہے۔ دنیا پاکستان کی عسکری صلاحیت، سفارتی حکمت عملی اور قومی اتحاد کو مختلف نظر سے دیکھ رہی ہے۔

تازہ ترین