• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالمی ادارۂ صحت(WHO) اور UNAIDS کے مطابق، جنوبی ایشیا کے تمام ممالک میں سے پاکستان میں HIV سب سے تیزی سے پھیل رہا ہے۔ بیک وقت، WHO کی عالمی ہیپاٹائٹس رپورٹ 2026ءپاکستان کو Hepatitis-C کے عالمی بوجھ کا سب سے بڑا حصہ دار قرار دیتی ہے۔ کیا یہ دونوں حقائق محض اتفاق ہیں؟ بدقسمتی سے نہیں۔ یہ ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔HIV اور Hepatitis-C دونوں خون کے ذریعے منتقل ہونیوالی بیماریاں ہیں، جو اس وقت پھیلتی ہیں جب متاثرہ خون انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے۔ یہ جنسی رابطے کے ذریعے بھی منتقل ہو سکتی ہیں، اور اگر علاج نہ کیا جائے تو جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔ پاکستان میںنظامِ صحت کی کمزوریوں اور غلط سماجی رویوں کی وجہ سے یہ بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ مگر اسکے ساتھ ہم ایک خطرناک اجتماعی کوتاہ نظری (Myopia) کا بھی شکار ہیں۔جب بھی میڈیا میں کہیں HIV کے پھیلنے کی خبر آتی ہے،جیسے حالیہ طور پر تونسہ میں، تو بطور حکومت ہم وقتی طور پر گھبراہٹ کا شکار ہوجاتے ہیں، حقائق ماننے سے گریزکرتے ہیں، الزام تراشی کرتے ہیں، اور سچ سامنے لانے والوں کو ہی نشانہ بنانے لگتےہیں۔ اگر آپ کو یہ بات سمجھنا مشکل لگے تو BBC کی تونسہ پر ڈاکومنٹری کے بعد صوبائی وزیر صحت کی پریس کانفرنس دیکھ لیجیے۔ ان بیماریوں پر قابو پانے سے پہلے ہمیں اپنی اس کم نظری کا علاج کرنا ہوگا۔کیا ہمیں اس بات پر قومی شرمندگی محسوس نہیں ہونی چاہئے کہ پاکستان Hepatitis C کےمریضوں کے حوالے سے سرفہرست ہے ۔اندازاً ایک کروڑ افرا د،جن میںبیشتر غیر ضروری طور پر تکلیف اٹھاتے اور جان گنواتے ہیں؟ اس وقت HIV بھی ہمارے دروازے پر زور دار دستک دے رہا ہے، مگر ہمارا ردعمل منتشر اور ناکافی ہے۔ HIV/AIDS کیلئے مقامی سرمایہ کاری نہایت کم ہے، اور ہم کئی برسوں سے گلوبل فنڈ پر انحصار کرتے ہیں۔ ہماری توجہ ایک Outbreak سے دوسرے تک محدود رہتی ہے، مگر ہم مستقل اور منظم حکمت عملی بنانے میں ناکام رہتے ہیں۔ پاکستان میں خون سے منتقل ہونے والی بیماریوں کا تسلسل دراصل طرز حکمرانی کی وسیع تر ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔دنیا میں صورتحال مختلف ہے۔ زیادہ تر ممالک میں HIV کے نئے کیسز اور AIDS سے ہونیوالی اموات کم ہو رہی ہیں۔خاص طور پر افریقی ممالک میں، جہاں ماضی قریب میں یہ وبا تباہی مچا چکی ہے، اب سیاسی عزم، وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ، مؤثر علاج، بدنامی کے حوالے سے سماجی رویوں میں تبدیلی، اور مضبوط احتیاطی اقدامات کے ذریعے صورتحال کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ غیر ضروری ٹیکوں میں کمی، استعمال شدہ سرنجوںکے دوبارہ استعمال کا خاتمہ، اور خون لگانے سے پہلے اسکی موثر ٹیسٹنگ جیسے اقدامات نےاہم کردار ادا کیاہے۔ بدقسمتی سے پاکستان ان میں سے اکثر شعبوں میں پیچھےہے، اور اسکے نتائج نئے کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں۔کیا اس صورتحال کو بدلا جا سکتا ہے؟ جی ہاں،مصر اسکی بہترین مثال ہے۔2008 میں مصر میں Hepatitis-C کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ تھی، جہاں تقریباً 10فیصد بالغ آبادی متاثر تھی اور اسکی بڑی وجہ وہاں آلودہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال تھا۔ اس بحران کو سمجھتے ہوئے مصر نے نیشنل کمیٹی برائے کنٹرول آف وائرل ہیپاٹائٹس قائم کی۔ 2014ءمیں اس نے’’100ملین صحت مند لوگ ‘‘مہم شروع کی، جسکے تحت 6کروڑ سے زائد افراد کی ٹیسٹنگ کی گئی۔ 80فیصد سے زائد مریضوں کی تشخیص ہوئی، اور 40 لاکھ سے زیادہ افراد کو مفت علاج فراہم کیا گیا۔ صرف سات سال میں بیماری کی شرح 10 فیصد سے کم ہو کر 0.5 فیصد رہ گئی۔ اکتوبر 2023 میں WHO نے مصر کو Hepatitis-C کے کامیاب خاتمے کے حوالے سےگولڈن ملک کے لقب سے نوازا۔مجھے مصر میں WHO کے ساتھ کئی برس تک کام کرنے کا موقع ملا۔ کئی حوالوں سے مصر بھی پاکستان کی طرح ایک پیچیدہ اور مشکل ملک ہے، مگر Hepatitis-C کے حوالے سےفرق صرف ایک چیز کا ہے اور وہ ہے سیاسی ارادے کی پختگی۔ مصر نے اپنی پالیسیوں کو یکجا کیا، اداروں کو متحرک کیا، اور واضح قومی حکمت عملی پر عمل کیا۔ آج وہ نہ صرف خود کامیاب ہے بلکہ دوسرے ممالک کی بھی اس سلسلے میں مدد کر رہا ہے۔ پاکستان میں بھی مصری ماہرین آ چکے ہیں، مگر ہم بیوروکریسی میں ایسا الجھے ہوئے ہیں کہ کئی برس گزر جانے کے باوجود ایک جامع قومی پروگرام شروع نہیں کر پا رہے۔پاکستان میں HIV کا مسئلہ ایک اور تشویشناک پہلو بھی رکھتا ہے۔دنیا بھر میں HIV زیادہ تر مخصوص طبقوں میں پایا جاتاہے جیسے ٹیکوں کے ذریعے، منشیات استعمال کرنیوالے افراد اور سیکس ورکرز،پاکستان میں بھی یہی صورتحال ہے۔ مگر ہمارے ہاں ایک خطرناک رجحان یہ سامنے آیا ہے کہ بڑی تعداد میں کم عمر بچے متاثر ہو رہے ہیں۔ 90فیصد سے زائد کیسز میں یہ وائرس ماں سے بچے میں منتقل نہیں ہوا،مائیں بھی HIV سے متاثر نہیںہیں۔یہ بچے غیر محفوظ طبی نظام کا شکار ہو رہے ہیں: جیسے سرنجوں کا دوبارہ استعمال، ادویات کی بوتلوں کا آلودہ ہونا، اور غیر محفوظ ڈرِپس۔ یہ صورتحال 2019ءکے رتوڈیرو واقعے میں بھی سامنے آئی تھی اور اب تونسہ میں ہے۔ درحقیقت، تونسہ ملک میں HIV کے کم از کم نویں بڑے Outbreak کی نمائندگی کرتا ہے۔2019ءمیں رتوڈیرو کے واقعے کے بعد میں نے سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کے ہمراہ اس علاقے کا دورہ کیا۔ جہاں کا منظر دل دہلا دینے والا تھا۔ مائیں اپنے متاثرہ بچوں کو لے کر علاج کیلئے در بدر گھوم رہی تھیں۔وہاں تقریباً ایک ہزار بچوں میں HIV کی تشخیص ہوئی، جن میں سے اکثر غیر محفوظ ٹیکوں کے ذریعے متاثر ہوئے تھے۔میں نے فوری طور پر انجکشن سیفٹی پر ایک قومی ٹاسک فورس قائم کی، جس نے ایک جامع قومی منصوبہ تیار کیا۔ اس میں ایک اہم سفارش یہ تھی کہ دوبارہ استعمال ہونیوالی سرنجوں کی تیاری، درآمد اور استعمال پر پابندی لگائی جائے۔ اس پالیسی پر فوری اور موثر عمل درآمد کروایا گیا، اگرچہ مینوفیکچررز نے مزاحمت کی لیکن بالآخر انہیں Auto Disable سرنجوں پر منتقل ہونا پڑا۔یہ نہایت تشویشناک بات ہے کہ اطلاعات کے مطابق کچھ کمپنیاں اب بھی دوبارہ استعمال ہونے کے قابل سرنجیں بنا رہی ہیں اور انہیںAuto Disable ظاہر کر رہی ہیں۔ یہ ایک مجرمانہ فعل ہے۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو فوری کارروائی کرنی چاہیے، اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کونگرانی مزید سخت کرنی چاہئے۔ HIV کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ ایک آنے والا طوفان ہے جو سماجی استحکام، معیشت اور قومی ترقی کے لیے خطرہ ہے۔ اسے قومی سلامتی کے مسئلے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔

(صاحبِ تحریر سابق معاون خصوصی برائے صحت ہیں)

تازہ ترین