6اور7مئی2025ء کی درمیانی شب جب بھارتی افواج نے’’ آپریشن سندور‘‘کے دوران پاکستان میں 9مقامات پر 24حملے کئے تو فضاؤں میں ایک ایسی خوفناک جنگ لڑی گئی جسے موجودہ دور کا سب سے بڑا فضائی معرکہ قرار دیاگیا۔ اس فضائی معرکے کے دوران فرانسیسی ساختہ رفال طیارے کے ناقابل شکست ہونے کے خواب ہی چکنا چور نہیں ہوئے بلکہ بھارتی فضائیہ کا آتما وشواس اور آہنکار بھی پاش پاش ہوگیا۔ دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان ایئر فورس نے دنیا کے جدید ترین جنگی جہاز رفال کو اس طرح اندھا ،گونگا اور بہرہ کردیا کہ اسے نہ تو حملہ کرنے کا موقع ملا اور نہ ہی اپنے دفاع کو یقینی بنانے کی مہلت مل سکی۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے شکار کیلئے آنے والے بھارتی جنگی جہازوں کو گھات لگا کر یوں نشانہ بنایا کہ امریکی صدر ٹرمپ کسی بھی اہم موقع پراس کارنامے کا ذکر کرنا نہیں بھولتے۔ یہ سب کیسے ہوا؟ معرکہ حق اور آپریشن بنیان مرصوص کی پہلی سالگرہ کے موقع پر آج ہم یہی معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سب سے پہلے ہم پاکستان اور بھارت کی ایئر فارمیشن اور فضاؤں میں لڑنے کی استعداد جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ بھارتی فضائیہ کی سب سے بڑی طاقت اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹری کا تیارکردہ EL/W 2090 ارلی Airborne Warning system ہے۔ یہ لڑاکا طیارہ نہیں مگر پوری جنگ کا دارومدار اس پر ہوتا ہے کیونکہ اسکا کام دشمن کے جنگی جہازوں کا سراغ لگانا ہے۔ Active electronically scanned array یعنی AESA ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ جاسوس طیارہ 500کلومیٹر کی دوری سے دشمن کے لڑاکا طیاروں کا پتہ لگا لیتا ہے۔ اسکے جواب میں پاکستان کے پاس سویڈن کے بنائے ہوئے SAAB-2000 ارلی ایئر بارن وارننگ طیارے ہیں۔AESA ریڈار پر انحصار کرنیوالے ان طیاروں کی رینج بھی 500کلومیٹر ہے۔لڑاکا طیاروں کی بات کریں تو بھارتی فضائیہ کے پاس SU-30,MIG-29 اور فرانسیسی ساختہ رفال طیارے ہیں جبکہ پاکستان کے پاس یوں توامریکہ سے خریدے گئے F-16بھی ہیں مگر اس فضائی معرکے میں پاک فضائیہ کا انحصار JF-17 تھنڈر اور J-10C جنگی جہازوں پر تھا۔
پاک فضائیہ اس بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے نہ صرف پہلے سے تیار تھی بلکہ دشمن پر گھات لگا کر وار کرنے کا منصوبہ بھی پہلے سے تیار کیا جاچکا تھا۔منصوبہ یہ تھا کہ بھارت کے EL/W 2090 ارلی Airborne Warning system کو چکمہ دیکر بھارتی فضائیہ کے جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا جائے۔ اس منصوبے کے تحت دو تدابیر اختیار کی گئیں جو کارگر ثابت ہوئیں۔ ایک یہ کہ پاکستان کے لڑاکا طیاروں نے کم بلندی پر رہتے ہوئے آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں اپنی فارمیشن بنائی اور دوسرا ریڈار آن نہیں کئے۔ چونکہ بھارتی EL/W2090صرف High Altitude پر ہی طیاروں کا سراغ لگا سکتا تھا، اسلئے پاکستانی جنگی جہاز 200میٹر کی بلندی پر رہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ جب پاکستانی لڑاکا طیاروں نے ریڈار آن نہیں کئے تو انہوں نے بھارتی جنگی جہازوں کا سراغ لگا کر انہیں BVRسے نشانہ کیسے بنایا؟ دراصل یہ کام Early Airborne warning جہاز Saab 2000 نے کیا۔
رئیل ٹائم لوکیشن اور ڈیٹا لیکر JF-17تھنڈر اورJ10Cطیاروں کو بھیجا گیا جنہوںنے یہ ڈیٹا PL-15میزائل میں فیڈکرلیا اور نشانے پر داغ دیا۔صرف یہی نہیں بلکہ ایک J10Cطیارے کوبطور چارہ استعمال کیا گیا۔جونہی یہ جنگی جہاز فضا میں بلند ہوا تو بھارتی جنگی جہازوں نے اس کا شکار کرنے کیلئے اپنے ریڈار آن کرلئے۔ریڈار کی الیکٹرومیگنیٹک ویوز دو دھاری تلوار کی طرح ہوتی ہیں ایک طرف ان سے دشمن کے جنگی جہاز کی موجودگی کا سراغ لگایا جاسکتا ہے تو دوسری طرف ان سے آپ خود بھی دشمن کی نظروں میں آجاتے ہیں۔اس کی مثال واٹس ایپ بلیو ڈبل چیک کی سی ہے ،اگر آپ نے اسے آف کر رکھا ہو کہ کسی کو معلوم نہ ہوکہ آپ نے میسج دیکھ لیا ہے یا نہیں تو جسے آپ میسج بھیجتے ہیں ،اس کے بارے میں بھی یہ نہیں جان سکتے ۔
6اور7مئی کی درمیانی رات 12بج کر 10منٹ پر بھارتی جنگی جہازوں نے اڑانیں بھرنا شروع کیں ۔اس کے جواب میں 12بج کر 12منٹ پر پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے فضاؤں میں منڈلانا شروع کردیا۔سرحد پار بھارتی فضائیہ کے 72جنگی جہاز چنگھاڑ رہے تھے جن میں 14جدید ترین رفال طیارے تھے ۔جبکہ پاکستان ایئر فورس کے42جنگی جہازوں نے پاکستانی فضاؤں کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے پوزیشنیں سنبھال رکھی تھیں ۔
لگ بھگ ساڑھے بارہ بجے تک یہ بات واضح ہوچکی تھی کہ تصادم ناگزیر ہے۔ جب ایک بج کر 4منٹ پر بھارتی فضائیہ نے عباس کیمپ کوٹلی پر میزائل داغااورپھر مظفر آباد،باغ ،شکر گڑھ ،مرید کے اور بہاولپور سمیت 9مقامات پر کارروائی کی تو پاک فضائیہ کے شاہینوں کو حکم ملا کہ جن بھارتی طیاروں سے حملہ کیا جارہا ہے انہیں مار گرایا جائے ۔یہاں سے ناک آؤٹ فیز کا آغاز ہوا ۔بھارتی جنگی جہاز لائن آف کنٹرول سے کہیں دور اپنی فضاؤں میں تھے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ سرحد عبور کرنے کا انجام بہت بھیانک ہوگا۔چونکہ بھارتی فضائیہ کو رفال طیاروں پر بہت گھمنڈ تھا اسلئے پاک فضائیہ نے انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
بھارتی فضائیہ کے رفال طیارے جنکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا نشانہ کبھی نہیں چوکتا ،نہ تو انہیں وار کرنے کا موقع ملا اور نہ ہی حملے سے بچنے کی مہلت مل پائی کیونکہ شاہینوں نے گھات ہی ایسی لگائی تھی کہ وہاں سے بچ نکلنا ناممکن تھا۔پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو بذات خود آپریشن کنٹرول روم میں بیٹھے اس Deception Planکو لیڈ کررہے تھے اور انہوں نے اپنے فائٹر پائلٹس کو واضح طور پر یہ کمانڈ دی کہ بھارت کا غرور توڑنے اور ہیکٹری ختم کرنے کیلئےسب سے پہلے رفال کو نشانہ بنایا جائے اور پھرپہلی کامیابی تب ملی جب پاکستان کے جنگی جہاز J10Cسے BVRٹیکنالوجی کے ذریعے داغے گئے PL-15میزائل نے لائن آف کنٹرول سے 53ناٹیکل مائیلز کی دوری پر گاڈزیلا کے کوڈ سے دندناتے رفال طیارے کے پرخچے اُڑادیئے ۔یہی وہ وقت تھا جب رفال طیارے اُڑانے والے بھارتی ہوابازوں میں سراسیمگی اور دہشت پھیل گئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے بھارت کے 6جنگی جہاز تباہ ہوگئے۔