لاہور میں دو روزہ کتھک فیسٹیول کا انعقاد صرف سراہا نہیں دل میں بسایا گیا،مان سعید اور کچھ دوستوں نے مل کر اپنی تاریخ کا انوکھا دو روزہ میلہ الحمرا کے ہال نمبر ایک میں سجایا،دوسرے دن شام چھ بجے ہال میں داخل ہوئے تو ہال تقریباً بھرا ہوا تھا لیکن باہر ابھی بڑی تعداد قطاروں میں منتظر تھی،پروگرام شروع ہوا تو کوئی سیٹ تو کیا سیڑھی بھی خالی نہ رہی، نوجوانوں نے نظم و ضبط اور آداب کے ساتھ ہال کا نظام سنبھال رکھاتھا، پرفارمنسز اور کمپیئرنگ میں ایسا ربط تھا کہ فلم کا گمان ہو ، وقت پر بتی بجھی اور جلی، میوزک بجا اور بند ہوا ، پردے گرے اور ہٹے، کچھ لمحوں کا توقف یا انتظار دکھائی نہ دیا۔کمپیئرنگ کرتے ابوذرمادھو نے اپنے پنجابی لباس اور زبان میں گیانی گفتگو کی جبکہ سعدیہ احمد نے اردو میں تاریخی ثقافتی انداز اپنایا،حاضرین کی اکثریت نوجوان نسل پر مشتمل تھی جنہوں نے پہلی بار کسی فیسٹیول میں حصہ لیا تھا،ان کی دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ ہر اچھےا سٹیپ پر ہال تالیوں اور شاباشی نعروں سے گونج اٹھتا ۔ میں ، بینا جواد اور ڈاکٹر غزالہ عرفان نوجوانوں کی اس عمدہ کاوش اور حاضرین کے ذوق کو سراہتے رہے۔ اس طرح کے فیسٹیول نہ صرف فنونِ لطیفہ سے دلچسپی بڑھاتے ہیں بلکہ کتھک جیسے قدیم کلاسیکی رقص کی ترویج، بقا اور نئی نسل تک منتقلی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
کتھک کوئی عام رقص نہیں بلکہ ایک تہذیب کی علامت ہے، پاؤں سے دھرتی کو چومتے اورہوا میں لہراتے وجودوں کی داستان گوئی ہے۔ مجھے تو کتھک بھی تصوف کا ایک سلسلہ نظر آتا ہے جہاں گرو احترام اور عقیدت کے حوالے سے مرشد کے مقام پر فائز ہے اور رقاص فنا فی المرشد کی عملی تصویر ، طبلے کی تھاپ سے دل اور روح کی تاریں جوڑ کر وجود ایک انوکھا تجربہ کرتے ہیں اور دیکھنے والوں کو بھی اس کیف میں شامل کرتے ہیں۔موسیقی کے ہر سُر میں روحانیت کی لے اور وجدانیت کا سرور ہے ، یہی حال رقص کا ہے ، آٹھ کلاسیکی رقصوں میں سے کتھک ایک بہت قدیم اور خوبصورت رقص مانا جاتا ہے، جس کی جڑیں ہندو اور پھر اسلامی یعنی مغلیہ دور کی درباری ثقافت سے جڑی ہوئی ہیں۔
کتھک ’’کتھا‘‘ سے ہے اور کتھا کا مطلب کہانی سنانا ہے، شروع میں اس رقص کے ذریعے مذہبی کہانیوں اور اساطیری واقعات کو چہرے کے تاثرات اور جسم کی مختلف حرکات کے ذریعے بیان کیا جاتا تھا، یعنی بنیاد مذہبی تھی اس لئے رقص ایک خاص رکھ رکھاؤ ، عقیدت اور تہذیب کا حامل تھا۔ مغلیہ دور میں اسے درباری رقص کی حیثیت حاصل ہونے سےاس میں موسیقی، ناز و ادا اور تیز گھومنے والی حرکات شامل ہو گئیں جس نے اسے اور دل آویز بنا دیا ۔ تیز رفتار چکر کے علاوہ پاؤں کو گھنگروؤں کی تال سے باندھنا، ہاتھوں اورجسم کی نازک حرکات اورچہرے کے تاثرات سے کہانی بیان کرنا اور کلاسیکی موسیقی کیساتھ ہم آہنگ ہو جانا اس رقص کی خاص پہچان ہے ۔ کتھک کے تین بڑے روایتی انداز یا گھرانے ہیں، بنیادی اصول تو وہی ہیں مگر ہر گھرانے کے رقص میں ایک خاص رنگ جھلکتا ہے جیسے لکھنؤ گھرانے میں نزاکت اور ادائیں ،جے پور گھرانے میں تکنیکی مہارت اور پاؤں کی تیز حرکت اوربنارس گھرانے میں روایتی روحانی انداز پر زور دیا جاتا ہے۔
کیونکہ کتھک برصغیر کا قدیم رقص ہے اور ثقافت مذہب و سیاست سے ماورا ہوتی ہے اس لئے تقسیم کے بعد بھی دونوں ملکوں کے درمیان ثقافتی جڑت اور سیکھنے کایہ سلسلہ جاری رہا ، آج بھارت اور پاکستان کے علاوہ دنیا کے کئی اور ملکوں میں بھی کتھک سکھایا اور پیش کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں شیما کرمانی اور نگہت چوہدری اس فن کی ترویج کو زندگی کا مقصد بنا کر آگے بڑھ رہی ہیں اور اب ان کے قافلے میں بہت سے نئے ستارے بھی شامل ہو چکے ہیں ۔ بغیر لفظوں کے موسیقی کی لہروں پر احساسات کی زبانی کہانی سننا عجیب روحانی اور ماورائی فضا میں لے جاتا ہے ،روحانی اور جمالیاتی اظہار کے علاوہ کتھک ثقافتی ورثے کی علامت ہے۔ جس طرح پہلے بات ہو چکی کہ کتھک میں گرو کا بہت احترام کیا جاتا ہے ، اس لئےلاہور کا پہلا کتھک فیسٹیول (LKF) مہاراج غلام حسین کتھک کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے ترتیب دیا گیا تھا اور اس کا مقصد پاکستان میں کلاسیکی رقص کی روایات کو دوبارہ زندہ کرنا تھا،اس میں تعلیمی ورکشاپس کا شاندار اہتمام کیا گیا،پینل ڈسکشنز میں فنکاروں اور ماہرین نے کتھک کی تاریخی جڑوں اور اس کی موجودہ دور میں اہمیت پر گفتگو کی اور اسے مشترکہ ثقافتی ورثے کے طور پر اجاگر کیا۔
ان ورکشاپس اور سیشنز کی قیادت مان سعید اور حماد رشید جیسے سینئر فنکاروں نے کی ،اس ایونٹ میں عالمی سطح کے کتھک فنکاروں سجاتا بنرجی اور سونیا سبری MBE کے ساتھ آن لائن سیشنز بھی شامل تھے۔ تاہم اس پہلے لاہور کتھک فیسٹیول کے تمام منتظمین کو شاباش اور مبارکباد اور ان کیلئے بھی محبت جنہوں نے بھرپور شرکت کر کے اسے کامیاب میلہ بنایا۔ شام کے شو میں تجربہ کار اور اساتذہ کے ساتھ نئے اورابھرتے ہوئے رقاصوں کی شاندار پرفارمنسز نے سب کو حیران اور پرجوش کر دیا، جن میں نگہت چوہدری، شیما کرمانی، مان سعید ، عدنان جہانگیر، حماد رشید ، جیسیکا، بینا جواد کی ہر سکھ سکھیاں اور نوجوان رقاص شامل تھے۔ نوجوان ایسی ثقافتی سرگرمیوں کا حصہ بن کر خود کو بھی اُجالتے ہیں اور سماج میں بھی امن ، محبت اور احترام کی کرنیں بکھیر کر زندگی کو حسین بناتے ہیں۔