برطانیہ کے نائب وزیراعظم ڈیوڈ لیمی اور وزیر داخلہ شبانہ محمود سمیت اہم کابینہ اراکین نے وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق نائب وزیراعظم ڈیوڈ لیمی نے کہا کہ وزیراعظم اسٹارمر عہدہ چھوڑنے کی ٹائم لائن دیں جبکہ وزیر خارجہ نے وزیراعظم اسٹارمر کو کہا کہ انہیں اقتدار کی منتقلی کا طریقہ طے کر نا چاہیے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق شبانہ محمود سمیت کئی اہم اراکین نے بھی وزیراعظم سر اسٹارمر پر زور دیا ہے کہ وہ عہدہ چھوڑنے کی ٹائم لائن دیں۔
دا ٹائمز کے مطابق شبانہ محمود ان کم سے کم تین کابینہ اراکین میں سے ایک ہیں جنہوں نے وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر پر زور دیا ہےکہ وہ اپنی پوزیشن پر نظرثانی کریں۔
شبانہ محمود برٹش پاکستانی رکن پارلیمنٹ ہیں اور لیبر پارٹی میں انکی مضبوط پوزیشن ہے۔
دوسری جانب پانچ پارلیمانی پرائیویٹ سیکریٹریز عہدوں سے مستعفی ہوگئے ہیں۔
اپنا عہدے چھوڑنے والوں میں ہیلتھ سیکرٹری ویس اسٹریٹنگ کے معاون جو مورس شامل ہیں جبکہ استعفی دینے والے انوائرمنٹ سیکرٹری کے معاون ٹام رٹلینڈ پارلیمنٹری پرائیوٹ سیکرٹری کے عہدے پر تعینات تھے۔
ٹام رٹلینڈ نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم اسٹارمر کو عہدہ چھوڑنے اور نئے لیڈر کے انتخاب سے متعلق ٹائم ٹیبل دینا چائیے۔
برطانوی وزیراعظم سر اسٹارمر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنیوالے لیبر پارٹی کے اراکین کی تعداد 70 سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔
قبل ازیں برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کا کہنا تھا کہ میں کہیں نہیں جا رہا، لوگوں کو اُمید دلانے کی ضرورت ہے۔
حالیہ انتخابات اور لیڈر شپ چیلنج سے متعلق خطاب کرتے ہوئے کیئر اسٹارمر نے کہا کہ الیکشن کے نتائج انتہائی مشکل تھے، جن کی ذمے داری قبول کرتا ہوں۔