وہ وقت بھی بہت جلد آجائے گا جب عاشق اور معشوق کو سرے سے ملاقات کی ضرورت ہی نہیں محسوس ہوگی، لیکن اِس سے پہلے کہ حالات اُس نہج تک پہنچیں، میں نے عشاق کی سہولت کیلئےنمونے کے کچھ برقی خطوط تیار کیے ہیں جو حسب ضرورت واٹس ایپ پر بھیجے جا سکتے ہیں۔
خط نمبر 1:، بخدمت جناب شیخ سجاد ولد حاجی رزاق شیخ،برانڈرتھ روڈ، لاہور
شیخ صاحب! ہمیں ڈیٹنگ کرتے ہوئے تقریباً چار ہفتے ہوگئے ہیں لیکن سچ پوچھیں تو اِس عرصے میں مجھے آپ سے خاصی مایوسی ہوئی ہے۔ اس ایک ماہ میں ہم دو چار مرتبہ ہی شاپنگ پر گئے ہونگے اور ہر مرتبہ جب بل دینے کا مرحلہ آیا تو اُس وقت آپ کی جیب سے ہزار دو ہزار ہی نکلے۔ رکشے میں بٹھا کر آپ مجھے دہی بھلے کھلانے لے کر گئے، پہلے آپ نے رکشے والے سے بھاؤ طے کرنے میں آدھا گھنٹہ لگایا، اُس کے بعد غریب دہی بھلے والے کو بھی زِچ کرکے پیسے دیے۔ میں تو اُس دن کو کوستی ہوں جب شکیلہ کے کہنے پر میں نے آپ کو اپنی تصویر واٹس ایپ کی تھی۔ اور پھر آپ شکی مزاج بھی ہیں۔ جس دن سے آپ نے مجھے اپنے دوست کبیر (جو کسی مشہور کروڑ پتی یا شاید ارب پتی کا بیٹا ہے، میں ابھی تحقیق کر رہی ہوں) کیساتھ دیکھا ہے، آپ کی حرکتیں عجیب و غریب ہو گئی ہیں۔ میں آپ کو جوابدہ تو نہیں ہوں لیکن ریکارڈ کی درستی کیلئے بتا دوں کہ وہ محض ایک دوست ہے۔ ہاں، وہ پیسہ پانی کی طرح بہاتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ میں اس کی دولت کی طرف مائل ہوں۔ مجھے کہیں سے اڑتی اڑتی خبر ملی ہے کہ حاجی صاحب برانڈرتھ روڈ والا پلازہ آپ کے نام کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ کیا یہ سچ ہے؟ کسی نے بتایا ہے کہ اس پلازے کی مالیت ستّر کروڑ روپے سے اوپر ہے۔ دیکھو سجاد! مجھے آپ کی جائیداد کے جھگڑوں سے کوئی لینا دینا نہیں لیکن اگر پلازہ واقعی اتنے کا ہے تو آپ کو چاہیے کہ اسے جلد از جلد اپنے نام کروا لیں۔ میں نے سنا ہے حاجی صاحب ماشا اللہ 75 برس کے ہو چکے ہیں اور ڈاکٹروں نے انہیں دوسرے بائی پاس کا مشورہ دیا ہے۔ اللہ انہیں سلامت رکھے، ویسے میں ایک ایسے سرجن کو جانتی ہوں جس کے آپریشنوں کی کامیابی کی شرح پچاس فیصد ہے۔ آپ چاہیں تو میرے حوالے سے اُن سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
فقط، آپ کی سابقہ محبوبہ۔نوٹ: اگر برانڈرتھ روڈ والا پلازہ آپ کے نام ہو جائے تو مجھے اطلاع ضرور دیجیے گا، میں اپنے ’سابقہ‘ ہونے کے فیصلے پر نظرِ ثانی کر سکتی ہوں۔
خط نمبر 2: ایک ’ہونے والے‘ شوہر کے نام
جانِ من! ہماری شادی کے دن قریب آ رہے ہیں اور میں اس قدر جذباتی ہو رہی ہوں کہ بیان سے باہر ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ میرا پورا خاندان شادی کا ایسے انتظار کر رہا ہے جیسے لوگ عید کے چاند کا کرتے ہیں۔ ہنی مون کا پلان بھی فائنل ہو چکا ہے۔ چھوٹو (میرا چھوٹا بھائی) ملائیشیا دیکھنا چاہتا ہے جبکہ مُنّی (چھوٹی بہن) کے خوابوں میں سوئٹزرلینڈ بستا ہے۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ اسے ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ نے کتنا جذباتی کر رکھا ہے۔ امی اور ابو کی صرف یہ خواہش ہے کہ (ہماری) شادی کے فوراً بعد عمرہ کر لیں۔ میں نے انہیں تسلی دی ہے کہ جب ہم ہنی مون پر جائیں گے تو راستے میں انہیں جدہ ڈراپ کر دیں گے اور واپسی پر انہیں پک کر لینگے، ویسے عمرے کے بعد وہ ہمیں زیورخ میں جوائن بھی کر سکتے ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے؟ خرچہ بھی بچ جائے گا اور سفرِ ثواب و سفرِ دنیا دونوں ساتھ ساتھ ہو جائیں گے۔ اوہ! میں بتانا بھول گئی کہ میں نے اپنی نوکری سے استعفیٰ دیدیا ہے۔ مجھے پتا ہے کہ آپ کو میرا جاب کرنا پسند نہیں۔ ویسے بھی جب سے ہماری منگنی ہوئی ہے، میرا باس مجھ سے کچھ ناخوش رہنے لگا تھا۔ پتہ نہیں یہ مرد اتنے حاسد کیوں ہوتے ہیں؟ خیر، اب مجھے اسکی پروا نہیں۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں ایک آئیڈیل ہاؤس وائف بن کر رہونگی اور پورے گھر کی ذمہ داری تنہا سنبھالونگی۔ کھانے میں مجھے ’ہیپی میل‘ بہت پسند ہے! گھر کے چھوٹے موٹے کاموں کیلئے کوئی ماسی رکھ لیں گے جو صفائی ستھرائی کرلیا کرئیگی، دو چار برتن دھو دیا کرئیگی اور بہت ہوا تو واشنگ مشین میں کپڑے ڈال دیگی بس۔ باقی کاموں کیلئے میں خود کافی ہوں۔ ہاں، ایک حساس معاملہ آپ کے گوش گزار کرنا ہے۔ آپ کا چھوٹا بھائی، جو کسی مدرسے کا فارغ التحصیل ہے، مجھے کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ اسے صاف کہہ دیجیے گا کہ وہ ہمارے گھر سے دور ہی رہے۔ اسی طرح آپ کی بڑی بہن، جنکی طلاق ہو چکی ہے، وہ مجھے بالکل ساس بہو والے ڈراموں کا کوئی کردار لگتی ہیں۔ اگر وہ ہمارے گھر آئینگی تو لڑائیاں ہی ہونگی۔ اوہ خدایا! خط کتنا طویل ہو گیا، یہ میری آپ سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اگلی بار جب گھر آئیں تو میرے لیے وہ ڈائمنڈ رنگ لانا مت بھولیے گا، تصویر واٹس ایپ کر دی ہے۔
فقط، آپ کی ہونے والی شریکِ حیات۔
خط نمبر 3:ہیلو مسٹر تیمور۔ تمہاری بہن سارہ سے میری دوستی اب محض ایک نند بھابی والا روایتی تعلق نہیں رہی۔ وہ اتنی پیاری ہے کہ کیا بتاؤں، اُسکی شخصیت میں ایک ایسا سحر، ایسی نسوانیت اور ایسا حسن ہے کہ جسکے سامنے تمہاری مردانہ وجاہت ماند پڑ جاتی ہے۔ اکثر جب تم میرے لیے پھول لاتے ہو تو میرا جی چاہتا ہے کہ کاش یہ انتخاب سارہ کا ہوتا۔ اس کا ذوق، اس کا لباس اور اس کا وہ مخصوص اندازِ گفتگو جس میں ایک ان کہی اپنائیت چھپی ہوتی ہے مجھے عجیب سی بے چینی میں مبتلا کر دیتی ہے۔ تم اسے میری ’سہیلیوں والی محبت‘ سمجھ کر نظر انداز کر سکتے ہو لیکن میرے اندر ایک ایسا احساس پنپ رہا ہے جو رشتوں کی ان دیواروں کو گرانا چاہتا ہے جو معاشرے نے کھڑی کر رکھی ہیں۔ تمہیں تو پتا ہے کہ میں کس قدر پروگریسو ہوں۔ ایک دن تم مجھ سے پوچھ رہے تھے ناں کہ میرے انسٹاگرام پر ایل جی بی ٹی کی اتنی ریلز کیوں آتی ہیں، تو اسکی وجہ بھی میری ترقی پسندانہ سوچ ہے۔ یہ لفظ مجھے بہت پسند ہے، بندہ کچھ کچھ پڑھا لکھا لگتا ہے۔ باقی باتیں بعد میں، سارہ کی کال آ رہی ہے۔
فقط، تمہاری (ایک عجیب سی الجھن میں گرفتار) محبوبہ