• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اہل مشرق پندرہویں صدی عیسوی میں چھاپہ خانے کی ایجاد کے بعد سے اس انقلاب سے منقطع ہو گئے جسے معروف اصطلاح میں نشاۃ ثانیہ کہا جاتا ہے۔ صوت کو بامعنی ابلاغ یعنی زبان تخلیق کرنے کے بعد نسل انسانی کی سب سے انقلابی کاوش چھاپہ خانہ کی ایجاد تھی۔ علم کے جو ذخائر ہاتھ سے لکھے مخطوطوں کی صورت میں صاحبان دولت کے ایوانوں میں بند تھے چھاپہ خانے نے عام آدمی کو ان تک رسائی عطا کی۔ گویا خلق خدا کی ذہنی صلاحیتوں کے دروازے کھل گئے۔ اس انقلاب سے دریافت، ایجاد اور تحقیق کے دریچے وا ہوئے۔ فکر و فلسفہ پر اہل کلیسا کا اجارہ ختم ہوا۔ سیاسی اور تمدنی بندوبست کی ممکنہ صورتوں پر مباحث شروع ہوئے۔ غلامی اور صنفی امتیاز جیسی نا انصافیوں کیخلاف آواز اٹھنے لگی۔ اٹھارہویں صدی کی روشن خیالی اس روایت کا نقطہ عروج تھی جہاں تہی دست خلقت نے انقلاب فرانس کی صورت میں حق حکمرانی پر نالش دائر کی۔ صنعتی انقلاب نے پیداوار کا حجم ہی نہیں بڑھایا، خالص جسمانی مشقت کو ایجادات کی صورت میں سہولت کا راستہ بھی دکھایا۔ یہ کوئی مثالی دنیا نہیں تھی۔ اس میں جنگ کی لعنت موجود تھی اور غلامی، طاقت نیز نسلی امتیاز کے لغو مفروضات موجود تھے۔ نشاۃ ثانیہ کے یورپ میں ارتکازسے نوآبادیاتی بندوبست نے جنم لیا لیکن یہ سفر یہاں رکا نہیں۔ صدیوں بعد برصغیر پاک و ہند میں ایک مسلمان رہنما نے جنم لیا جس کا نام محمد علی جناح تھا۔ دسمبر 1938 میں قائداعظم نے مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ پٹنہ میں عورتوں کی سماجی، معاشی اور ثقافتی بہبود کا پروگرام مرتب کرنے کے لیے عورتوں کی ایک کمیٹی قائم کی۔ اس موقع پر جب کسی نے پردے کا سوال اٹھایا تو محمد علی جناح نے فوراً مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے لیے اپنی عورتوں کو تمام مواقع فراہم کرنا زندگی اور موت کا سوال ہے۔ کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اسکی عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ ہر میدان میں شریک عمل نہ ہوں‘۔ 1944ء میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی یونین سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے کہا کہ عورتوں کو گھروں کی چار دیواری میں قید رکھنا انسانیت کیخلاف جرم کے مترادف ہے۔ محمد علی جناح جنہوں نے 1921ء میں علی گڑھ یونیورسٹی کی طلبا یونین کے نائب ڈاکٹر محمد اشرف کو قیام انگلستان کے بارے میں اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا تھا۔ ’میں خوش نصیب تھا کہ مجھے قیام انگلستان کے آخری دو برسوں میں لبرل فلسفہ سیاست کو سمجھنے کا موقع ملا۔ میں نے اس نقطہ نظر پر گرفت حاصل کی اور یہ میری زندگی کی بنیادی شناخت ٹھہرا‘۔

نہایت افسوس کی بات ہے کہ محمد علی جناح کے قائم کردہ پاکستان میں آج صنفی مساوات اور لبرل ازم دونوں گالی کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ یہ قصہ تو اپریل 1948ء ہی میں شروع ہو گیا تھا جب دستور ساز اسمبلی میں عورتوں کے بارے میں بدزبانی کی گئی تھی اور پھر یہ روایت ہمارے سیاسی اور تمدنی مکالمے میں چلی آئی۔ انسانی تاریخ میں جہاں عورت اور مرد کی مساوات کو جھٹلایا جاتا ہے وہاں عورتوں کی بے حرمتی، ہراسانی، صنفی تشدد اور قانونی ناانصافی جیسی علامات نمودار ہو جاتی ہیں۔ جمہوریت شہریوں میں مواقع کی مساوات کا نام ہے۔ پاکستان نے ستمبر 1994 ء کو عورتوں کیخلاف ہر قسم کے صنفی امتیاز کیخلاف اقوام متحدہ کے کنونشن میں شمولیت اختیار کی تھی۔ یہ تاریخی فیصلہ محترمہ بینظیر بھٹو نے کیا تھا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ فروری 1979ء میں ضیا آمریت نے عورتوں کے خلاف حدود آرڈیننس نامی امتیازی قانون خود بینظیر بھٹو اور انکی والدہ کی سیاسی ساکھ مجروح کرنے کیلئے نافذ کیا تھا۔اس معاہدے کی پہلی شق میں امتیاز کی تعریف اس طرح کی گئی ہے۔ ’’جنس پر مبنی کوئی بھی امتیاز، اخراج، یا پابندی جو ازدواجی حیثیت سے قطع نظر، عورتوں کیلئے انسانی حقوق کے احترام، دستیابی اور تحفظ کو اخراج، پابندیوںیا کسی دوسرے ذرائع سے نقصان پہنچاتی ہو‘‘۔ دستور پاکستان کی شق پچیس میں صنفی امتیاز کی ممانعت کی گئی ہے۔

معروف الدوابی نامی ایک غیر ملکی شخص کا مدون کردہ حدود آرڈیننس اس قدر ناقص تھا کہ اسے 2006 ء میں تبدیل کرنا پڑا لیکن اس دوران پاکستانی معاشرے میں عورتوں کا مقام قانونی، تمدنی، معاشی اور تہذیبی طور پر اس زوال کا شکار ہوا کہ آج ستر کی دہائی کے روشن خیال پاکستان کا تصور کرنا بھی محال ہے۔ ملک بھر میں عورتوں کی تحقیر ایک ایسی روایت میں تبدیل ہو چکی ہے کہ جسے سستی شہرت حاصل کرنا ہو وہ لبرل ازم کو گالی دیتا ہے یا عورتوں کیخلاف ہرزہ سرائی کرتا ہے۔ ہمارے ایک ڈرامہ نگار جو اپنی تحریر کو الہام کا درجہ دیتے ہیں ٹیلی ویژن اسکرین پر عورتوں کے بارے میں بدزبانی کی شہرت رکھتے ہیں۔ ایک اور معروف صحافی جن کا طرز تکلم ذہنی تشنج کی چغلی کھاتا ہے اکثر عورتوں کے بارے میں ناقابل اشاعت بیانات ارشاد فرماتے ہیں۔ شو بزنس میں سستا مقام حاصل کرنے کی خواہش مند نوجوان خواتین جو شاید فیمینزم کے ہجے تک نہیں جانتیں، کبھی فیمینزم کو لعنت قرار دیتی ہیں اور کبھی فرماتی ہیں کہ اپنے آپ کو فیمنسٹ کہنے والی عورتیں خود کو ذلیل کر رہی ہیں۔ یہ کہنا تو تحصیل حاصل ہو گا کہ گزشتہ دہائی کے وسط میں جب نیا پاکستان تعمیر کیا جا رہا تھا تو اس گلشن ناآفریدہ کے معماروں نے شو بزنس، صحافت اور کھیلوں جیسے شعبوں میں ایسی قلمیں لگائیں جن پر اب برگ و بار آ رہا ہے۔ پاکستان کی زیر زمین ثقافت کے ان درخشاں ستاروں کو کیا معلوم کہ صنفی امتیاز کی تحریک کئی ادوار سے گزری ہے۔ نپولین اور وکٹوریا کے استہزا آمیز جملوں سے لے کر بیسویں صدی کے پہلے نصف تک قانون حقوق بالخصوص عورتوں کیلئے ووٹ کے حق کا چرچا تھا۔ کوئی پچاس برس پہلے صنفی اقدار میں نا انصافی کیخلاف آواز بلند ہوئی اور اب ہم فیمینزم کے جس مرحلے سے گزر رہے ہیں اس کے بیشتر پہلو ہمارے معاشرے میں زیر بحث لانا ہی مشکل ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ صنفی مساوات کو یقینی بنائے بغیر پاکستان میں جمہوریت پھل پھول سکتی ہے اور نہ معاشی ترقی اور تہذیبی ارتفاع کا خواب دیکھا جا سکتا ہے۔اور آخری خبر یہ ہے کہ سکھر کے قریب روہڑی میں دو بچوں کی چوبیس سالہ ماں گولن بھارو نے سرکاری اہلکاروں کو بتایا کہ مجھے معلوم ہے کہ میں ماری جائوں گی لیکن میں اپنے باپ کی عزت کیلئے اپنے شوہر کے گھر جا رہی ہوں۔ گولن بھارو قتل کر دی گئی۔ ثنا خوان تقدیس مشرق پہ آفرین ہے۔

تازہ ترین