اسلام صرف عبادات کا نام نہیں....یہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:"آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا۔"یہ اعلان حجۃ الوداع کے موقع پر میدانِ عرفات میں ہوا۔ اس دن اللہ نے واضح کر دیا کہ انسانیت کی رہنمائی کیلئےاسلام مکمل نظام ہے۔ اب کسی نئے راستے کی ضرورت نہیں۔ اسلام عبادت بھی سکھاتا ہے، اخلاق بھی، انصاف بھی اور معاشرے کی تعمیر بھی۔لیکن آج ہمارا معاشرہ کیوں ٹوٹ رہا ہے؟ظلم کیوں بڑھ رہا ہے؟کرپشن، جھوٹ، بے حیائی، ناانصافی اور بے سکونی کیوں عام ہے؟اس لیے کہ ہم نے دین کو صرف مسجد تک محدود کر دیا۔نماز کو دین سمجھ لیا مگر معاملات، عدل، کردار اور معاشرت کو بھلا دیا۔قرآن ہمیں پکارتا ہے: ’’اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔‘‘اسلام صرف نماز نہیں، نظامِ عدل بھی ہے۔صرف روزہ نہیں، معاشرتی انصاف بھی ہے۔صرف عبادت نہیں، انسانیت کی خدمت بھی ہے۔اللہ نے امتِ مسلمہ کو ایک عظیم ذمہ داری دی: ’’تم بہترین امت ہو، جو لوگوں کی بھلائی کیلئے نکالی گئی۔‘‘یہ صرف نصیحت کا پیغام نہیں، ایک مشن ہے۔ایک جدوجہد ہے۔ایک دعوت ہے کہ ہم معاشرے میں خیر پھیلائیں اور برائی کے خلاف کھڑے ہوں۔آج ہمارے گھروں کے مسائل بھی اسی دوری کا نتیجہ ہیں۔ساس بہو کے جھگڑے، نند بھابھی کے تنازعے، شوہر کی بے توجہی، جہیز کا ظلم، دوسری شادی کا خوف، غربت، مہنگائی، بیٹیوں کی تعلیم روک دینا... یہ سب ہمارے معاشرتی زخم ہیں۔گھر دیواروں سے نہیں، اخلاق سے بنتے ہیں۔رشتے لہجوں سے ٹوٹتے ہیں۔عورت صرف روٹی سے نہیں، عزت اور توجہ سے زندہ رہتی ہے۔کتنی عورتیں ایسی ہیں جو ہنستی تو ہیں مگر اندر سے ٹوٹ چکی ہوتی ہیں۔کتنی بیٹیاں صرف اس لیے پڑھ نہیں پاتیں کہ ’’بس پانچویں تک کافی ہے۔‘‘حالانکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بیٹیوں کی اچھی تربیت جنت کا ذریعہ ہے۔آج سوشل میڈیا نے بھی موازنہ، احساسِ کمتری اور بے چینی کو بڑھا دیا ہے۔ہم دوسروں کی زندگی دیکھ کر اپنی خوشیاں بھول جاتے ہیں۔حالانکہ اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے۔ سوال یہ ہے:کیا ہم صرف رونے کیلئےپیدا ہوئی ہیں؟صرف برداشت کرنے کیلئے؟نہیں!عورت کمزور نہیں، نسلیں بنانے والی طاقت ہے۔اگر ماں جاگ جائے تو نسل کبھی نہیں سوتی۔اسی لیے اسلام اجتماعی جدوجہد کا درس دیتا ہے۔قرآن کہتا ہے:’’نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کا ساتھ دو۔‘‘اکیلی آواز کمزور پڑ جاتی ہے، لیکن جب لوگ ایک مقصد پر جمع ہو جائیں تو معاشرے بدل جاتے ہیں۔اسی سوچ کے ساتھ 1941ء میں سید ابو الاعلیٰ مودودی نے جماعتِ اسلامی کی بنیاد رکھی۔ ان کا مقصد صرف ایک سیاسی جماعت بنانا نہیں تھا بلکہ اسلام کو مکمل نظامِ زندگی کے طور پر پیش کرنا تھا۔انہوں نے دیکھا کہ:مساجد آباد ہیں مگر معاشرہ خالی ہے۔نمازیں موجود ہیں مگر انصاف نہیں۔اسلام کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔تب ایک آواز اٹھی:اسلام صرف ماننےکیلئے نہیں، قائم کرنے کیلئےآیا ہے۔جماعتِ اسلامی ایک ایسی دعوت ہے جو انسان کو صرف تقریریں نہیں، کردار دیتی ہے۔یہ ایک ایسی جدوجہد ہے جو قرآن کو رہنما اور سنت کو راستہ بناتی ہے۔یہ صرف سیاست نہیں، تربیت بھی ہے۔صرف نعرہ نہیں، ذمہ داری بھی ہے۔آج امت کو ایسے نوجوانوں، ایسی ماؤں، ایسی بیٹیوں کی ضرورت ہے جو صرف شکایت نہ کریں بلکہ تبدیلی کا حصہ بنیں۔جو اپنی صلاحیتیں دین، معاشرے اور انسانیت کی بھلائی کیلئے استعمال کریں۔ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا:کیا ہم تماشائی بنے رہیں گےیا تاریخ بدلنے والوں میں شامل ہوں گے؟اگر ہم چاہتے ہیں کہ:ظلم ختم ہو،انصاف قائم ہو،بیٹیاں محفوظ ہوں،نوجوان مایوسی سے نکلیںاور ہمارا ملک ایک حقیقی فلاحی ریاست بنےتوپھر صرف دعا کافی نہیں، عمل بھی ضروری ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ:’’اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔‘‘آج وقت ہے کہ ہم اٹھیں۔اپنے گھروں میں دین لائیں۔اپنے اخلاق بہتر کریں۔اپنی بیٹیوں کو مضبوط بنائیں۔ظلم کے خلاف آواز بلند کریںاور نیکی کو عام کریں۔جماعت اسلامی صرف کسی تنظیم کا نام نہیں۔ یہ ایک ایسی جدوجہد جسکا ہدف اللہ کی رضا اور معاشرے کی اصلاح ہے۔یاد رکھیں!قومیں نعروں سے نہیں، کردار سے بنتی ہیں۔تاریخ وہی لوگ بدلتے ہیں جن کے اندر یقین، حوصلہ اور مقصد زندہ ہو۔اگر تم یقین کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ تو منزل تمہاری ہو سکتی ہے۔اگر تم ہمت کے ساتھ سفر شروع کرو تو راستے خود بنتے چلے جاتے ہیں۔اب وقت ہمارا ہے۔اب خاموش رہنے کا نہیں، کردار ادا کرنے کا وقت ہے۔آئیں حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں جماعت اسلامی کے ممبر بنیں کہ اب صرف خواب دیکھنے کا نہیں، تاریخ بنانے کا وقت ہے۔اور اگر ہم نہیں... تو پھر کون؟اور اگر اب نہیں... تو پھر کب؟بدل دو نظام کہ اب وقت ہمارا ہے۔