لاہور (رپورٹ :۔محمد صابر اعوان سے) ماہرین صحت نے کہا ہےکہ پاکستان آبادی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن گیا ہے اورجس تیزی سے آبادی بڑھ رہی ہے اگر اسے موثر انداز میں کنٹرول نہ کیا گیا آئندہ 25سالوں میں پاکستان کی آبادی 25کروڑ سے بڑھ کر 50کروڑ ہو جائے گی،بڑھتی آبادی کے مسائل سنگین، خاندانی منصوبہ بندی ایک مضبوط، محفوظ اور خوشحال مستقبل کی ضمانت ہے۔ایم ڈی، میر خلیل الرحمٰن فاؤنڈیشن شاہ رخ حسن خان نے کہا کہ میر خلیل الرحمن فاؤنڈیشن نے اس اہم قومی مسئلے پر عوامی شعور بیدار کرنے کیلئے کام کا آغاز کیا ہے۔سابق وفاقی وزیر سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ صحت، تعلیم اور آبادی میں اضافے جیسے چیلنجز ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔محکمہ ہیلتھ و پاپولیشن کے ڈائریکٹر کیپٹن عثمان علی خان نے کہا کہ بڑھتی آبادی، ماں اور بچے کی صحت، اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔گرین اسٹار کے سربراہ ڈاکٹر سید عزیز نے کہا کہ بچوں کی پیدائش میں کم از کم تین سال کا وقفہ ضروری ہے۔ صوبائی وزراء ، پارلیمنٹرین میڈیا اور معاشرے کے ہر فرد کو آبادی کے کنٹرول اورموت کے گڑھے میں گرتی مائوں اور بچوں کو بچانے کے لئے اپنا موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ جنگ جیو گروپ نے ہر دور میں عوامی شعور کی آگاہی اور اب آبادی کے کنٹرول کے لئے اپنا مضبوط کردار ادا کیا ہے ان خیالا ت کا اظہار گزشتہ روزمحکمہ ہیلتھ و پاپولیشن کے زیراہتمام پارلیمنٹرینز، وزراء اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ خاندانی منصوبہ بندی کے فروغ پر منعقدہ مشاورتی ورکشاپ میں مقررین نےاظہار خیال کرتے ہوئے کیا ۔تقریب کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر صحت و آبادی خواجہ عمران نذیر تھے جبکہ تقریب میں ایم ڈی، میر خلیل الرحمٰن فاؤنڈیشن شارخ حسن خان نے خصوصی طور پر شرکت کی تقریب میں سابق وزیر زکیہ شاہنواز، سابق وفاقی وزیر سائرہ افضل تارڑ،عظمی کار دار ، سیکرٹری صحت و آبادی نادیہ ثاقب اور اسما عباسی سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت و آبادی خواجہ عمران نذیر نے کہا ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی ایک مضبوط، محفوظ اور خوشحال مستقبل کی ضمانت ہے، جبکہ ماں اور بچے کی بہتر صحت کے لیے اس پر مؤثر عملدرآمد ناگزیر ہے۔