• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’ٹرمپ کی توانائی ناکہ بندی کا خاتمہ چاہتے ہیں‘، کیوبا نے امریکی حکام سے مذاکرات کی تصدیق کر دی

---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

کیوبا نے تصدیق کی ہے کہ اس کے دارالحکومت ہوانا میں حالیہ دنوں میں امریکی حکام کے ساتھ اہم مذاکرات ہوئے ہیں جنہیں کیوبا نے احترام اور پیشہ ورانہ انداز میں ہونے والا تبادلہ قرار دیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق کیوبا کی وزارتِ خارجہ کے اہلکار نے بتایا ہے کہ مذاکرات میں کسی قسم کی دھمکی یا آخری تاریخ نہیں دی گئی ہے۔

کیوبا نے واضح کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے عائد کردہ تیل کی ناکہ بندی کا خاتمہ ان مذاکرات کی اولین ترجیح ہے، حکام نے اس اقدام کو معاشی دباؤ اور عالمی سطح پر بلیک میلنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے عام شہری شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکا نے مذاکرات جاری رکھنے کے لیے کئی شرائط رکھ دی ہیں جن میں سیاسی قیدیوں کی رہائی، سیاسی اصلاحات اور معیشت کو کھولنے کے اقدامات شامل ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق امریکا نے انٹرنیٹ کی سہولت کی فراہمی اور ماضی میں ضبط کیے گئے اثاثوں کے معاوضے جیسے معاملات بھی اٹھائے ہیں جبکہ کیوبا میں بیرونی اثر و رسوخ پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیوبا پر فوجی کارروائی کے اشاروں اور تیل فراہم کرنے والے ممالک پر محصولات کی دھمکیوں کے باعث صورتِ حال مزید کشیدہ ہو گئی ہے جبکہ توانائی بحران کے سبب کیوبا کو شدید معاشی مشکلات اور انسانی بحران کے خدشات کا سامنا ہے۔

ادھر میکسیکو، اسپین اور برازیل سمیت کئی ممالک نے کیوبا کی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید