مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کی گرفت میں ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف خطے کے امن کیلئے خطرہ بنتی جا رہی ہے بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا کی سیاست، معیشت اور سفارتی توازن پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ خلیجی خطہ ہمیشہ سے عالمی طاقتوں کی دلچسپی کا مرکز رہا ہے، کیونکہ یہاں توانائی کے وسیع ذخائر، اہم بحری راستے اور اسٹرٹیجک اہمیت رکھنے والے ممالک موجود ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایران اور امریکا کے تعلقات میں پیدا ہونے والی ہر تلخی عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن جاتی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات کوئی نئی بات نہیں۔ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے آئے ہیں۔ کبھی مسئلہ جوہری پروگرام کو لے کر سامنے آیا، کبھی اقتصادی پابندیوں نے حالات کو خراب کیا، اور کبھی خطے میں اثر و رسوخ کی جنگ نے کشیدگی کو بڑھا دیا۔ امریکا ایران پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ خطے میں اپنے اثرات بڑھانے کیلئے مختلف گروہوں کی حمایت کرتا ہے، جبکہ ایران خود کو ایک خودمختار ریاست قرار دیتے ہوئے اپنی سلامتی اور دفاع کے حق کی بات کرتا ہے۔
حالیہ برسوں میں یہ کشیدگی کئی مرتبہ خطرناک حد تک بڑھتی دکھائی دی۔ خلیج میں بحری تنازعات، میزائل حملوں کے خدشات، اور سخت بیانات نے دنیا کو یہ احساس دلایا کہ اگر یہ صورتحال بے قابو ہوئی تو اس کے نتائج صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی حیثیت اور کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو جغرافیائی، مذہبی اور سفارتی طور پر اس صورتحال سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ ایک طرف پاکستان کے ایران کے ساتھ برادرانہ اور سرحدی تعلقات ہیں، تو دوسری جانب امریکا کے ساتھ بھی اس کے طویل سفارتی اور معاشی روابط موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ہمیشہ کوشش کرتا آیا ہے کہ وہ اس کشیدگی میں کسی فریق کا حصہ بننے کے بجائے ایک متوازن اور ذمہ دار کردار ادا کرے۔پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم اصول یہ رہا ہے کہ خطے میں امن اور استحکام کو ترجیح دی جائے۔ اسی لیے پاکستان بارہا اس بات پر زور دیتا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مسائل کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے نکالا جائے۔ پاکستان بخوبی جانتا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر تصادم کی صورتحال پیدا ہوئی تو اسکے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے،سب سے پہلا اثر معیشت پر پڑ سکتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی مہنگائی، توانائی بحران اور معاشی دباؤ جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر خلیجی خطے میں کشیدگی مزیدبڑھتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں بلنداضافہ یقینی ہے، جس کا براہِ راست بوجھ پاکستانی عوام پر پڑے گا۔ پیٹرول، بجلی اور روزمرہ اشیاءمزید مہنگی ہو سکتی ہیں، جبکہ صنعتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوں گی دوسرا اہم پہلو بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کا ہے۔
لاکھوں پاکستانی خلیجی ممالک میں روزگار حاصل کیے ہوئے ہیں اور ان کی بھیجی گئی ترسیلاتِ زر پاکستان کی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر خطے میں جنگی صورتحال دوبارہ پیدا ہوتی ہے تو نہ صرف ان پاکستانیوں کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ پاکستان کیلئے ایک اور حساس مسئلہ داخلی استحکام کا ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف مذہبی اور سیاسی رجحانات موجود ہیں۔ اگر ایران اور امریکا کے درمیان تنازع شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات داخلی سیاست اور فرقہ وارانہ ماحول پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ہمیشہ محتاط پالیسی اپنانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ ملک کے اندر امن و امان کی صورتحال متاثر نہ ہو۔ پاکستان نے مختلف مواقع پر ثالثی اور مفاہمت کا کردار ادا کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ پاکستانی قیادت نے بارہا یہ پیغام دیا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور خطے کے تمام ممالک کو مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے۔ اگرچہ عالمی سیاست میں بڑے فیصلے طاقتور ممالک کے مفادات کے مطابق ہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود پاکستان کی یہ کوشش اہمیت رکھتی ہے کہ وہ ایک ذمہ دار اسلامی اور ایٹمی ریاست کے طور پر امن کی بات کرے۔یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان کیلئے مکمل غیر جانبداری برقرار رکھنا آسان نہیں۔ امریکا عالمی طاقت ہے اور پاکستان کے معاشی و سفارتی مفادات اس سے جڑے ہوئے ہیں، جبکہ ایران ایک ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے پاکستان کیلئے جغرافیائی اور علاقائی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی لیے پاکستان کو ہر قدم نہایت احتیاط سے اٹھانا پڑتا ہے تاکہ کسی بھی جانب جھکاؤ اس کے قومی مفادات کو نقصان نہ پہنچائے۔آج دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں جنگیں صرف میدانوں میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ معیشت، سفارت کاری اور اطلاعات کے محاذ پر بھی لڑی جاتی ہیں۔ ایران اور امریکا کی کشیدگی بھی اسی پیچیدہ عالمی سیاست کا حصہ ہے۔ ایسے میں پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ وہ جذبات کے بجائے تدبر، دانشمندی اور قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی پالیسی مرتب کرے۔ آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی صرف دو ممالک کا معاملہ نہیں بلکہ پورے خطے کے مستقبل کا سوال ہے۔ اگر حالات مزید خراب ہوتے ہیں تو اس کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ پاکستان کیلئے بہترین راستہ یہی ہے کہ وہ امن، مذاکرات اور توازن کی پالیسی پر قائم رہے، کیونکہ جنگوں کی آگ جب بھڑکتی ہے تو اس کی تپش دور بیٹھے لوگوں کو بھی متاثر کیے بغیر نہیں رہتی۔