• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران امریکا جنگ بندی معاہدے پر واشنگٹن میں سیاسی ہلچل

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے ایک نئے معاہدے کا اعلان سامنے آنے کے بعد واشنگٹن میں سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔

ڈیموکریٹس معاہدے، جنگ سے متعلق حاصل اور لاحاصل کی تفصیلات جاننا چاہتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے حامی اس پیش رفت کو بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔

نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ معاہدے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے اور ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا جبکہ ڈیموکریٹک رہنماؤں نے معاہدے کی شرائط پر وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی جانب سے شدید تشویس پائی جا رہی ہے جن کا کہنا ہے کہ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ جنگ کے بعد حاصل ہونے والے نتائج کیا ہیں اور ایران نے کِن شرائط کو قبول کیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق جمعے کے روز ایک ابتدائی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوں گے جس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور دیگر اہم معاملات پر 60 دن تک مذاکرات جاری رہیں گے۔

ایرانی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی معاہدے کے تحت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں روک دی جائیں گی اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہو گی تاہم بعض امریکی رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ دونوں ممالک معاہدے کی مختلف تشریحات پیش کر رہے ہیں جس سے مستقبل میں نئے تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔

ادھر صدر ٹرمپ نے بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر مقررہ مدت میں جوہری معاہدہ طے نہ پایا تو ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کی جا سکتی ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید