افغانستان میں طالبان حکومت نے رہائشی زمینوں اور جائیدادوں کو سرکاری ملکیت قرار دے کر ضبط اور دوبارہ فروخت کرنے سے متعلق نیا قانون نافذ کر دیا ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق نئے قانون کے تحت سابقہ مالکانہ حقوق ختم تصور کیے جائیں گے اور زمینیں دوبارہ شہریوں کو فروخت کی جائیں گی۔
رپورٹس کے مطابق طالبان حکومت کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ رہائشی بستیوں اور نجی اراضی کو ’سرکاری زمین‘ قرار دے کر اپنے قبضے میں لے سکے گی۔
افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت پہلے ہی ہزاروں ایکڑ نجی زمین سرکاری جائیداد کے نام پر ضبط کر کے اپنے کنٹرول میں لے چکی ہے۔