واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان ہونے والی ہر بڑی ملاقات صرف دو ملکوں کی سفارتکاری نہیں ہوتی بلکہ پوری دنیا کے اعصاب پر اثر ڈالتی ہے۔جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیجنگ کا رخ کیا تو یہ محض ایک رسمی دورہ نہیںبلکہ ایک ایسا لمحہ تھا جس میں عالمی طاقتوں نے آئندہ کی عالمی سیاست کا رخ سمجھنے کی کوشش کی۔ بظاہر یہ ملاقات تجارت ٹیکنالوجی ،ایران، تائیوان اور اقتصادی معاملات کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے مگر اس کے اصل اثرات مشرقِ وسطیٰ اور پاکستان جیسے خطوں پر زیادہ گہرے پڑ سکتے ہیں۔
دنیا اس وقت ایک عجیب دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف امریکہ اپنی عالمی بالادستی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف چین خاموشی کے ساتھ عالمی معیشت، ٹیکنالوجی اور سفارتکاری میں اپنی جگہ مستحکم کر رہا ہے۔
ٹرمپ کےدورہ بیجنگ نے اس کشمکش کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ تجزیہ کار اسے علامتی مگر اہم قرار دے رہے ہیں کیونکہ فوری بڑے معاہدے سامنے نہیں آئے مگر عالمی طاقتوں کے لہجے بدلتے دکھائی دیے۔یہ منظر دنیا پہلے بھی دیکھ چکی ہے۔ 1972 ءمیں رچرڈ نکسن کے چین دورے نے عالمی طاقت کا توازن بدل دیا تھا۔ مگر آج کا چین کمزور نہیں بلکہ ایک معاشی اور ٹیکنالوجیکل طاقت بن چکا ہے۔ اب مقابلہ صرف نظریات کا نہیں بلکہ معیشت ،مصنوعی ذہانت، بندرگاہوں اور عالمی اثرورسوخ کا ہے۔
دورے کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے نے بھی دنیا کو اہم پیغام دیا۔ اعلامیے میں تائیوان دفاعی تنازعات یا ٹیکنالوجی پابندیوں پر کسی بڑی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا مگر دونوں ممالک نے رابطے برقرار رکھنے، ورکنگ گروپس قائم رکھنے اور اقتصادی و سفارتی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ یہی وجہ ہے کہ مبصرین اسے مکمل تصادم نہیں بلکہ کنٹرولڈ مقابلے کی پالیسی قرار دے رہے ہیں۔
یہ اعلامیہ مشرقِ وسطیٰ اور پاکستان جیسے خطوں کیلئے سب سے اہم اشارہ تھا۔ اگر دنیا کی دو بڑی طاقتیں رابطے کا دروازہ کھلا رکھنا چاہتی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آنے والےوقت میں سفارتی توازن عسکری تصادم سے زیادہ اہم ہوگا۔ دنیا اب دو سپر پاورز کے درمیان صرف جنگ نہیں بلکہ اثرورسوخ کی خاموش نیلامی میں داخل ہو رہی ہے۔سب سے اہم پہلو ایران کا ہے۔ امریکہ جانتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں اس کی سب سے بڑی مشکل صرف عسکری نہیں بلکہ سفارتی بھی ہے۔ ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے واشنگٹن اب صرف پابندیوں یا دھمکیوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا۔ یہی وجہ ہے کہ چین کو اس کھیل میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ چین ایران کا بڑا معاشی شراکت دار ہے اور تہران پر نرم مگر مؤثر اثر رکھتا ہے۔لیکن چین بھی امریکہ کے لیے مفت میں سفارتی خدمات انجام نہیں دے گا۔ اگر بیجنگ ایران پر دباؤ ڈالے گا تو اس کے بدلے میں وہ ٹیکنالوجی پابندیوں میں نرمی تجارتی رعایتیں یا خطے میں اپنے کردار کی قبولیت چاہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دورہ محض سفارتی آداب نہیں بلکہ عالمی سودے بازی کی ایک خاموش میز بھی تھا۔مشرقِ وسطیٰ کے لیے اس کے اثرات انتہائی اہم ہو سکتے ہیں۔ اگر امریکہ اور چین محدود سطح پر بھی کسی مفاہمت تک پہنچ جاتے ہیں تو خلیج میں کشیدگی وقتی طور پر کم ہو سکتی ہے۔ تیل کی قیمتیں مستحکم رہ سکتی ہیں اور ایران کے ساتھ مذاکرات کا ماحول بہتر ہو سکتا ہے۔تاہم اگر یہ مذاکرات ناکام رہتے ہیں تو دنیا ایک نئی سرد جنگ کے ماحول میں داخل ہو سکتی ہے جہاں ہر ملک کو واشنگٹن یا بیجنگ میں سے کسی ایک کیمپ کا انتخاب کرنا پڑے گا۔پاکستان کیلئے یہ صورتحال غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے امریکہ اور چین دونوں کے درمیان ایک نازک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک طرف سی پیک اور چینی سرمایہ کاری ہے جبکہ دوسری طرف آئی ایم ایف اور مغربی سفارتی دباؤ۔اگر امریکہ اور چین کے تعلقات میں نرمی آتی ہے تو پاکستان کیلئے معاشی مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ سی پیک پر دباؤ کم ہو سکتا ہے اور پاکستان خود کو ایک معاشی پل کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔ تاہم اگر کشیدگی بڑھتی ہے تو پاکستان شدید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔ واشنگٹن چاہے گا کہ اسلام آباد بیجنگ سے فاصلہ رکھے جبکہ چین پاکستان سے مزید اسٹریٹیجک وفاداری کی توقع کرے گا۔
پاکستان کیلئے سب سے بڑا خطرہ کسی ایک طاقت سے دشمنی نہیں بلکہ غلط وقت پر غلط کیمپ کا انتخاب ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والےوقت میں پاکستانی سفارت کاری کا اصل امتحان ہوگا۔ اسلام آباد کو اب صرف دوستیاں نہیں بلکہ توازن کی سیاست کرنا ہوگی۔اس پورے منظرنامے میں ایک اور اہم پہلو تائیوان اور ٹیکنالوجی جنگ کا ہے۔ امریکہ چین کی AI اور سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ چین اسے اپنی ترقی کے خلاف اقتصادی جنگ سمجھتا ہے۔ اگر یہ کشمکش مزید بڑھی تو پوری دنیا کی سپلائی چین متاثر ہوگی اور پاکستان جیسے ممالک کو مہنگی ٹیکنالوجی اور توانائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کا یہ دورہ بظاہر سفارتی تھا مگر درحقیقت عالمی طاقت کے نئے اصول لکھنے کی ایک کوشش بھی تھا۔ امریکہ دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ اب بھی سب سے بڑی طاقت ہے جبکہ چین یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ عالمی نظام اب صرف واشنگٹن کے اشاروں پر نہیں چل سکتا۔
مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اس بدلتی دنیا کو بہت غور سے دیکھ رہے ہیں۔ سعودی عرب اب صرف امریکہ پر انحصار نہیں کرنا چاہتا۔ ایران چین اور روس کے قریب جا رہا ہے۔ ترکی اپنی الگ راہ نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ خلیجی ریاستیں اب ایک بلاک کی سیاست سے نکل کر کثیر سمت خارجہ پالیسی کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ پاکستان کو بھی یہی سبق سیکھنا ہوگا۔
عالمی سیاست میں اصل طاقت اب صرف ٹینک اور میزائل نہیں رہے بلکہ تجارت ٹیکنالوجی توانائی اور سفارتی توازن بن چکے ہیں۔ ٹرمپ کے بیجنگ دورے نے دنیا کو یہی یاد دلایا ہے کہ آنے والی جنگیں شاید میدانوں میں کم اور معیشتوں، بندر گاہوں اور سفارتی میزوں پر زیادہ لڑی جائیں گی۔
پاکستان اگر اس بدلتی دنیا میں اپنی جگہ بنانا چاہتا ہے تو اسے صرف ردِعمل کی سیاست چھوڑ کر فعال حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ کیونکہ عالمی طاقتوں کی اس شطرنج میں وہ ممالک ہی محفوظ رہتے ہیں جو دوسروں کے مہرے بننے کے بجائے خود اپنی چال چلنا سیکھ لیتے ہیں۔