جہاز کے دروازے کھلے، سیڑھیاں نیچے آئیں اور چند لمحوں بعد پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف تیز قدموں کے ساتھ نیچے اترتے دکھائی دیے۔یہ کوئی غیر معمولی منظر نہیں تھا، مگر نہ جانے کیوں میری نظر چند لمحوں کیلئےوہیں رک گئی۔ ان کے قدموں میں ایسی پھرتی تھی جو عام طور پر نوجوانوں میں دکھائی دیتی ہے۔ چہرے پر سفر کی تھکن نہیں تھی بلکہ ایک عجیب سی تازگی اور اعتماد تھا۔ میں نے فوراً دل میں سوچا، آخر ان کی عمر کتنی ہوگی؟میں نے بعد میں جب ان کی تاریخِ پیدائش دیکھی تو معلوم ہوا کہ شہباز شریف 23 ستمبر 1951 ءکو پیدا ہوئے تھے اور اس وقت ان کی عمر تقریباً74برس بنتی ہے۔یہ جان کر حیرت اور بڑھ گئی۔74 برس کی عمر میں لوگ آرام تلاش کرتے ہیں، مگر پاکستان کا وزیراعظم آج بھی دن رات ایک کیے ہوئے ہے۔ کبھی سعودی عرب کے اہم دورے، کبھی عرب ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں، کبھی برطانیہ اور امریکہ میں سفارتی سرگرمیاں، اور کبھی خطے میں ایران امریکہ کشیدگی کے دوران مسلسل رابطے، مشاورت اور سفارتی بھاگ دوڑ۔
حالیہ مہینوں میں جس انداز سے شہباز شریف نے عالمی سطح پر پاکستان کا مقدمہ پیش کیا، اس نے پاکستان کے وقار کو نئی بلندی دی۔خاص طور پر ایران امریکہ کشیدگی کے دوران پاکستان کا متوازن اور ذمہ دارانہ کردار دنیا بھر میں محسوس کیا گیا، اور اس کے پیچھے شہباز شریف کی ذاتی محنت، مسلسل مصروفیات اور غیر معمولی توانائی واضح طور پر دکھائی دیتی رہی۔
سچ یہ ہے کہ اچھی صحت صرف اللہ کی نعمت نہیں بلکہ نظم و ضبط، ورزش، احتیاط اور مسلسل متحرک رہنے کا نتیجہ بھی ہوتی ہے۔شہباز شریف کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی صحت کو صرف ذاتی معاملہ نہیں سمجھا بلکہ اسے قومی ذمہ داری کا حصہ بنایا ہوا ہے، کیونکہ دنیا میں جب کسی ملک کا وزیراعظم چلتا ہے تو دراصل اس کے ساتھ پورے ملک کا تاثر بھی چلتا ہے۔لیکن بات صرف ان کی پھرتی اور صحت تک محدود نہیں۔گزشتہ کچھ عرصے میں مجھے ایک اور چیز بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، اور وہ یہ کہ شہباز شریف عوامی مسائل پر غیر معمولی توجہ دیتے ہیں۔اتنی مصروفیات کے باوجود اگر کہیں کسی پاکستانی کے ساتھ زیادتی ہو، کوئی اوورسیز پاکستانی مشکل میں ہو، یا کوئی ایسا معاملہ سامنے آئے جس سے پاکستان کی ساکھ متاثر ہوتی ہو، تو وزیراعظم نہ صرف اس کا نوٹس لیتے ہیں بلکہ اس کی نگرانی بھی کرتے ہیں۔اس پورے عمل میں ان کے ساتھ عطا تارڑ ایک انتہائی متحرک اور اہم کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں، جو ہر اہم معاملے کو وزیراعظم تک پہنچانے اور اسکے فالو اپ میں مسلسل سرگرم رہتے ہیں۔چند روز قبل میری ایک خبر شائع ہوئی۔ایک پاکستانی نوجوان کو ایجنٹوں نے روس بھیجا۔ اسے کک کے ویزے پر لے جایا گیا لیکن وہاں پہنچ کر اسے مجبور کیا گیا کہ وہ روسی فوج میں شامل ہو کر یوکرین جنگ کا حصہ بنے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ مزید پاکستانی بھی اسی جال میں پھنس چکے ہیں۔مجھے لگا شاید کوئی ادارہ رسمی کارروائی کرے گا، مگر حیرت اس وقت ہوئی جب وزیراعظم آفس نے براہ راست اس معاملے کا نوٹس لیا۔شہباز شریف کی ہدایات پر ایف آئی اے متحرک ہوئی، ڈاکٹر عثمان انور نے فوری کارروائی کی، ایجنٹوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی، بینک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے اور بیرونِ ملک موجود ملزمان کے ریڈ وارنٹ تک کی بات سامنے آئی۔یہ سب کچھ چوبیس گھنٹوں کے اندر ہوا۔
اسی طرح اوورسیز پاکستانی ڈاکٹر نسیم شہزاد کا معاملہ بھی میرے ذہن میں تازہ ہے۔وہ ایسی شخصیت ہیں جنہیں تمغہ امتیاز اور ہلالِ امتیاز جیسے اعزازات مل چکے ہیں۔ دنیا کے پچپن ممالک میں ان کے دفاتر موجود ہیں اور ان کا شمار بین الاقوامی سطح کی بڑی کاروباری شخصیات میں ہوتا ہے۔مگر پاکستان میں ماضی کے دورِ حکومت میں ان کے ساتھ جو زیادتیاں ہوئیں، وہ ایک سنجیدہ سوالیہ نشان تھیں۔جب اس معاملے پر میرا کالم شائع ہوا تو وزیراعظم شہباز شریف نے فوری نوٹس لیا اور شفاف تحقیقات کی ہدایت جاری کی۔یہ احساس خود بہت بڑا ہوتا ہے کہ ریاست ایک اوورسیز پاکستانی کی آواز سن رہی ہے۔
اسی طرح سنگاپور میں مقیم پاکستانی کاروباری شخصیت عبداللطیف صدیقی کا معاملہ بھی اہم ہے۔وہ بحری تجارت کے شعبے میں پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کرنا چاہتے تھے، مگر عمران خان کے دورِ حکومت میں انہیں جس انداز سے مایوس کیا گیا، انتظار کروایا گیا اور واپس بھیج دیا گیا، اس سے نہ صرف ایک سرمایہ کار بددل ہوا بلکہ پاکستان کا نقصان بھی ہوا۔جب یہ معاملہ اجاگر ہوا تو شہباز شریف نے ذاتی دلچسپی لی اور وفاقی وزیر جنید انور چوہدری کو اس پر خصوصی ہدایات دیں۔جنید انور چوہدری نے بھی بھرپور تعاون کیا اور آج وہ منصوبہ دوبارہ آگے بڑھ چکا ہے۔شہباز شریف کو جب پہلی بار جہاز کی سیڑھیاں اترتے دیکھا تھا تو مجھے صرف ان کی جسمانی پھرتی نے متاثر کیا تھا، مگر اب محسوس ہوتا ہے کہ ان کی اصل طاقت صرف صحت نہیں بلکہ وہ مسلسل متحرک سوچ ہے جو انہیں آرام سے بیٹھنے نہیں دیتی۔ایک ایسا وزیراعظم جو عالمی سطح پر پاکستان کا مقدمہ بھی لڑ رہا ہے اور ایک عام پاکستانی کے مسئلے پر بھی فوری توجہ دے رہا ہے، یقیناً وہ پاکستان کے لیے ایک مثبت امید کی علامت ہے۔
ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو استحکام دے، ترقی دے اور ایسی قیادت عطا کرے جو صرف اقتدار نہ چلائے بلکہ قوم کے درد کو بھی محسوس کرے، عوام کی آواز بھی سنے اور پاکستان کو دنیا میں وہ مقام دلائے جس کا یہ ملک حقیقی معنوں میں حق دار ہے۔