پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیٹر بابر اعظم کا کہنا ہے کہ پچ بیٹنگ کے لیے اچھی تھی اور گیند بہتر انداز میں بیٹ پر آ رہی تھی، تاہم پاکستانی ٹیم بڑی پارٹنرشپس قائم کرنے میں ناکام رہی۔
سہلٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بابر اعظم نے کہا کہ میں نے اور سلمان علی آغا نے شراکت داری بنانے کی کوشش کی، آغاز بھی اچھا تھا لیکن بدقسمتی سے پارٹنرشپ لمبی نہیں چل سکی۔
بابر اعظم کا کہنا تھا کہ بنگلادیش کے فاسٹ بولر ناہید رانا ریڈ بال کرکٹ کے معیاری تیز گیند باز ہیں جبکہ ہر ٹیم کے پاس 140 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار کے بولرز موجود ہوتے ہیں اور بیٹرز انہیں ہینڈل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پاکستانی بیٹر نے کہا کہ میں نے اپنی نیچرل گیم کھیلنے کی کوشش کی لیکن بعض اوقات رنز بنتے ہیں اور بعض اوقات نہیں بنتے، میری اور سلمان علی آغا کی وکٹیں میچ کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئیں اور انہی دو وکٹوں کے بعد میچ کا مومنٹم تبدیل ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ ٹیم مسلسل کرکٹ کھیل رہی ہے اور کسی قسم کی ذہنی رکاوٹ نہیں، تاہم منصوبے کے مطابق پارٹنرشپس نہیں بن پا رہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں دو یا تین اچھی شراکت داریاں انتہائی ضروری ہوتی ہیں اور بیٹرز کو ذمہ داری لے کر بڑی پارٹنرشپس قائم کرنا ہوں گی۔
بابر اعظم نے اعتراف کیا کہ ایک وکٹ گرنے کے بعد جلد مزید وکٹیں گر جاتی ہیں اور ٹیم سنبھل نہیں پاتی، جس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق کھلاڑی اور کوچز مسلسل اس مسئلے کے حل پر بات کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیم ہر سیریز، ہر میچ اور ہر ورلڈ کپ میں اچھا کرنے کے ارادے سے میدان میں اترتی ہے اور کوئی بھی شکست کے ذہن کے ساتھ نہیں کھیلتا۔
بابر اعظم کا کہنا تھا کہ غلطیوں کو کم سے کم کرنا ہی ٹیم کے لیے بہتر ہوگا، جبکہ ہر ملک میں مختلف انداز کی کرکٹ کھیلنا پڑتی ہے اور بہتری کی ہمیشہ گنجائش رہتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وائٹ بال اور ریڈ بال کرکٹ کے لیے تین ماہ کا کیمپ لگایا جا رہا ہے اور جتنے طویل کیمپ ہوں گے اتنا ہی فائدہ ہوگا۔