ماہرین اب اس بات پر کافی حد تک متفق ہیں کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے سے پہلے نہ کسی حکمت عملی کو جانچا اور نہ ہی ایران کی تاریخ سے استفادہ کیا ۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ جتنی بھی سلطنتوں نے ایران پر حملہ کیا ، وہ سب کی سب ختم ہو گئیں لیکن ایران اب بھی قائم ہے۔ 330قبل از مسیح میں سکندر نے فارس (موجودہ ایران) تک فتوحات حاصل کر لیں لیکن وہ صرف 32سال کی عمر میں مر گیا اور اسکی سلطنت ایک نسل تک بھی قائم نہ رہ سکی ۔
صدر ٹرمپ بھی اسی ڈگر پر رواں ہیں جسکی وجہ سے ایران شدید حملوں کے باوجود مشرق وسطیٰ میں ایک مضبوط طاقت بن کر ابھر رہا ہے ۔ ایران نے ایسی طاقت بننے کیلئے کسی جنگ کا آغاز نہیں کیا بلکہ خود صدر ٹرمپ نے ایران پر یہ جنگ تھوپی ہے۔
یاد رہے کہ ستر کی دہائی اور خاص طور پر ویتنام جنگ کے بعد امریکہ جب قرضوں میں ڈوب گیا تواس نے گولڈ اسٹینڈرڈ ختم کر دیا ، سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ کر کے تیل کی قیمت ڈالر ز میں متعین کروائی اور اسکے بدلے میں سعودیہ کو فوجی تحفظ اور اسلحہ فراہم کیا۔ یہ ایک ایسا ماڈل تھا جسے بعد میں پورے خلیجی ممالک نے بھی اپنا لیا،یوں 1974سے 2024تک تیل ڈالرز میں بکنے لگا ۔ اس نے دنیا بھر میں 800فوجی اڈے بنائے جس سے امریکی عالمی تسلط کو مزید تقویت ملی ۔ یہ سب کچھ پیٹرو ڈالر کے طفیل ممکن ہو اکیونکہ اب امریکہ ڈالر چھاپ کر اپنے اخراجات پورے کر لیتا ہے۔لیکن 2026ء میں عالمی زر مبادلہ کے ذخائر میں ڈالر کا حصہ 57فیصد رہ گیا ہے جو پچھلے پچاس سال کی کم ترین سطح ہے۔اس کے ساتھ اس جنگ کے بعد تہران کا آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے اور دیگر کرنسیوں میں ٹرانزٹ متعین کرنے سے امریکہ کے عالمی مالیاتی نظام کیلئے نئے مضمرات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جس نے پیٹرو ڈالر کے بنیادی ستون یعنی ڈالر میں تیل کی تجارت اور خلیجی ممالک کے ساتھ امریکہ کے دفاعی تعلقات کوبیک وقت دباؤ میں ڈال دیا ہے جس سے خلیجی ممالک کا امریکہ پر اعتماد کم ہو رہا ہے۔سعود ی عرب بھی ویژن 2030کے تحت دفاعی پیداوار کو مقامی طور پر حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ امریکہ پر کم سے کم انحصار کیا جا سکے۔اس کے ساتھ ساتھ ایم بریج پروجیکٹ اور چین کے ساتھ کرنسی سوائپ کے اقدامات کے ذریعے مالیاتی نظا م کو متنوع بنا رہا ہے جس سے ڈالر اور سوئفٹ کے نظام کو بائی پاس کیا جا سکتا ہے۔روس اور ایران جیسے عالمی پابندیوں کے شکار ممالک جو عالمی تیل کے 14فیصد ذخائر رکھتے ہیں ، پہلے ہی ڈالر سے ہٹ کر یوآن ، روبل اور دیگر کرنسیوں میں تجارت کر رہے ہیں۔ یہ تمام ساختی تبدیلیاں ، اس جنگ سے پہلے ہی پیٹرو ڈالر کے نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہی تھیں اور اس جنگ نے ان رجحانات کو مزید تیز کر دیا ہے۔سونے پر سہاگہ یہ کہ یکم مئی 2026ء سے متحدہ عر ب امارت نے اوپیک سے علیحدگی اختیار کر لی ہے جس نے امریکی ڈالر کو دنیا کی سب سے طاقتور کرنسی بنایا تھا۔متحدہ عرب امارات نے اس نظام کی 65سالہ تاریخ میں سب سے بڑا انحراف کیا ہے کیونکہ یہ اوپیک کا تیسرا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔اس نظام نے اب تک اپنے اتحاد کے ذریعے عالمی نظام میں تیل کے بدلے ڈالر کی بالا دستی کو قائم کیا ہوا ہے۔گو کہ متحدہ عرب امارات نے ابھی تک ڈالر کو نہیں چھوڑا لیکن اوپیک سے الگ ہو کر اس نے تیل کو ڈالر سے علیحدہ کرنے کا اختیار محفوظ کر لیا ہے جو صدر ٹرمپ کے سر پر منڈلاتاایک خطرہ بن گیا ہے۔اسی وجہ سے حال ہی میں امریکہ نے متحدہ عرب امارات کو ہنگامی ڈالر ز سوائپ دے دیا ہے ۔اگرچہ امارات کے پاس 2ٹریلین ڈالرز سے زائد امریکی اثاثے موجود ہیں لیکن جیسے ہی آبنائے ہرمز کھلے گی اور امارات 2027تک پانچ ملین بیرل تیل یومیہ نکال سکے گا تونہ صرف تیل کی قیمتیں گریں گی بلکہ اوپیک بھی مارکیٹ کو کنٹرول کرنے کی صلاحیتوں سے محروم ہوسکتا ہے۔ جس کے بعد امارات اپنا تیل یوآن ، روپے ، درہم یا کرپٹو میں بیچ سکتا ہے۔ بیکر انسٹیٹیوٹ کے مطابق اس طرح امارات سالانہ پچاس ارب ڈالر سے زائد کما سکتا ہے ۔ یوں اگر یہ رقم ڈالر کے نظام سے باہر ہو جائے تویہ امریکہ کی عالمی تسلط کی پالیسیوں پر کاری ضرب لگا سکتی ہے۔یاد رہے کہ1973میں اوپیک نے تیل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے پوری عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اب پچاس سال کے بعد ایک نیا ہتھیار استعمال ہونے جا رہا ہے جس کا نشانہ وہ مالیاتی نظام بن سکتا ہے جس نے 1974ء سے امریکہ کی عالمی برتری کو ممکن بنایا ہوا ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ اس جنگ کے نتیجے میں امریکہ کا عالمی تسلط تو کمزور ہو سکتا ہے لیکن امریکی سلطنت کا خاتمہ اتنا آسان نہیںکیونکہ آج امریکہ تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور اگر اس نے وینزویلا کے تیل کو بھی اپنے کنٹرول میں برقرار رکھا تو وہ اکیلا عالمی سپلائی پر اثر انداز ہو سکتا ہے جس سے تیل کی بڑی تجارت ڈالر میں ہی ہوتی رہے گی ۔ہاورڈ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے لکھا ہے کہ امریکی صدور کی پالیسیوں سے امریکی معیشت پر زیادہ اثر نہیں پڑتا کیونکہ امریکی معیشت کا تقریبا 90فیصد حصہ براہ راست تجارت پر منحصر ہے۔ جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ کو جنگوں اور ٹیرف سے کمزور نہیں کیا جا سکتا بلکہ پیٹرو ڈالر پر کاری ضرب سے ہی امریکہ کا یہ عالمی تسلط زوال پذیر ہو سکتا ہے۔ دنیا کا بتدریج قابل تجدید ذرائع توانائی کی طرف بڑھنے سے فوسل فیولز پر انحصار کم ہوگا اوریوں تیسری دنیا کے ممالک کو بڑے پیمانے پر ڈالر ذخیرہ کرنے کی ضرورت بھی کم سے کم ہوتی چلی جائے گی۔