• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی بے ہنگم افزائش نے اس مقدس پیشے کو بتدریج ایک منافع بخش کاروبار میں بدل دیا ہے۔ آج ہمیں ایک بنیادی سوال کا سامنا ہےکہ کیا واقعی ہمارا اصل مسئلہ ڈاکٹروں کی کمی ہے، یا ہم ایک ایسے غیر متوازن، کمزور اور سمت سے محروم نظامِ صحت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جو اپنی بنیادوں میں ہی نقائص کا شکار ہے؟پاکستان میں عمومی تاثر یہی ہے کہ زیادہ ڈاکٹر پیدا کرنے سے صحت کے مسائل حل ہو جائیں گے۔ یہی سادہ سوچ ہماری پالیسی سازی پر بھی غالب رہی ہے۔ ہر سال ہزاروں طلبہ ایم بی بی ایس میں داخلے کیلئےکوشاں ہوتے ہیں جبکہ نجی شعبہ اس خواہش کو ایک منافع بخش موقع میں بدل دیتا ہے، اور یوں تعلیم خدمت کے بجائے کاروبار بن جاتی ہے۔اس رجحان کا سب سے تشویشناک پہلو فیسوں کا شدید تفاوت ہے۔ نجی میڈیکل کالجز کی سالانہ فیسیں 20 سے 30 لاکھ روپے تک جا پہنچی ہیں، جبکہ افواجِ پاکستان کے زیرِ انتظام اداروں میں یہی فیس تقریباً 4 سے 5 لاکھ روپے اور سرکاری کالجز میں 18 سے 25 ہزار روپے سالانہ ہے۔ یہ تضاد واضح کرتا ہے کہ ایک طرف تعلیم مکمل طور پر کمرشلائز ہو چکی ہے جبکہ دوسری طرف کچھ ادارے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے اسے قابلِ رسائی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کروڑوں روپے خرچ کر کے بننے والا ڈاکٹر کیا دیہی علاقوں میں خدمات انجام دے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ مہنگی تعلیم کے باعث ڈاکٹر کی اولین ترجیح اپنی سرمایہ کاری کی واپسی بن جاتی ہے، جس کا نتیجہ کمرشل پریکٹس، غیر ضروری ٹیسٹ اور مہنگے علاج کی صورت میں نکلتا ہے۔تاہم اصل مسئلہ اس سے بھی گہرا ہے۔ صحت کا نظام صرف ڈاکٹر کے گرد نہیں گھومتا بلکہ ایک مربوط ٹیم ورک ہوتا ہے۔ دنیا کے کامیاب نظاموں میں ڈاکٹر نرسز، فارماسسٹس، لیب ٹیکنیشنز اور دیگر عملے کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ ہمارے ہاں اس کے برعکس نرسنگ اور پیرا میڈیکل شعبے کو نظر اندازکرکےپورا بوجھ ایک ہی ستون ڈاکٹرپر ڈال دیا گیا ہے۔یہی عدم توازن دیہی صحت کے مراکز، بی ایچ یوز اور رورل ہیلتھ یونٹس میں واضح نظر آتا ہے۔ ماضی میں بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ ڈاکٹر اور عملہ وہاں جانے کو تیار نہیں تھا، جسکے باعث ہزاروں مراکز غیر فعال رہے۔ حکومتِ پنجاب نے اس صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے کروڑوں روپے خرچ کر کے ان مراکز کو ری ویمپ کیا اور پھر انہیں نجی شعبے کے حوالے کر دیا، جہاں فی یونٹ تقریباً 8 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہوں اور ادویات کیلئے فراہم کیے جاتے ہیں۔بظاہر یہ ماڈل ایک عملی حل دکھائی دیتا ہے، لیکن اس میں کئی سنگین خطرات بھی موجود ہیں۔ کرپشن کے ماحول میں یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ آپریٹرز کم تربیت یافتہ یا غیر تربیت یافتہ عملہ رکھ کر اخراجات بچائیں، جبکہ نگرانی کے کمزور نظام کے باعث معیار پر سمجھوتہ ہو۔ مالی دباؤ کے تحت سروس کوالٹی کے بجائے لاگت کم کرنے کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ملک میں پہلے ہی ہزاروں ڈاکٹرز بے روزگار ہیں، اور یہی بی ایچ یوز ان کیلئے ایک قدرتی روزگار کا ذریعہ بن سکتے تھے۔ مگر آؤٹ سورسنگ سے یہ خدشہ بڑھ گیا کہ ان مواقع پر مستند ڈاکٹرز کی بجائے کم لاگت عملہ تعینات کیا جائیگا۔یہ صورتحال محض انتظامی کمزوری نہیں بلکہ ایک وسیع تر پالیسی خلا کی عکاسی کرتی ہے۔ اگر اس ماڈل کو مؤثر نگرانی، شفاف احتساب اور واضح معیار کے بغیر جاری رکھا گیا تو یہ بھی اسی طرح ایک سمجھوتہ بن سکتا ہے جیسے ماضی میں میڈیکل کالجز کی بے قابو افزائش نے معیار کو متاثر کیا۔اس کے برعکس، کچھ مثبت مثالیں بھی موجود ہیں۔ پاک فوج کے طبی نظام میں سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے دور میں اصلاحات کے ذریعے انسانی وسائل کی منظم ترقی پر توجہ دی گئی۔ آرمی میڈیکل کور میں پیرا میڈیکل اسٹاف کی تربیت، نرسنگ کی بہتری اور ٹیم ورک پر مبنی نظام نے ایک مؤثر ماڈل پیش کیا، جسکے باعث فوجی اسپتالوں کا معیار بہتر اور نظم و ضبط مضبوط ہے۔

ریگولیٹری اداروں، خصوصاً پی ایم ڈی سی، کا کردار صرف لائسنس دینا نہیں بلکہ قومی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی کرنا ہے۔ ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ جو طالب علم MDCAT میں کامیاب نہیں ہو سکا، وہ بیرونِ ملک جا کر کیسے معیاری ڈاکٹر بن سکتا ہے؟ اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے بیرونِ ملک تعلیم کیلئے MDCAT اور رجسٹریشن کو لازمی قرار دینا ایک مثبت قدم ہے، بشرطیکہ اس پر سختی سے عمل درآمد ہو۔ مزید یہ کہ طلبہ کو یہ آگاہی بھی دی جانی چاہیے کہ کون سی غیر ملکی جامعات پی ایم ڈی سی سے منظور شدہ ہیں، بصورتِ دیگر انکی ڈگریاں قابلِ قبول نہیں ہوں گی۔ نیشنل رجسٹریشن ایگزام کے حالیہ نتائج اس مسئلے کو مزید واضح کرتے ہیں، جہاں بیرونِ ملک سے فارغ التحصیل طلبہ کی کامیابی کا تناسب صرف 21 فیصد رہا، جس کی بڑی وجہ کلینکل ایکسپوژر کی کمی ہے۔

آج سب سے بڑی ضرورت ہیومن ریسورس پلاننگ کی ہے۔ ہمیں یہ تعین کرنا ہوگا کہ آئندہ دہائی میں کتنے ڈاکٹرز، نرسز، فارماسسٹس اور ٹیکنیشنز درکار ہونگے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف ڈاکٹرز کی تعداد بڑھ رہی ہے جبکہ دوسری طرف انہیں ہاؤس جاب اور تخصص کے مواقع نہیں مل رہے۔ہم ڈاکٹر تو پیدا کر رہے ہیں مگر انہیں کھپانے کیلئے نظام تیار نہیں کر سکے۔ یہی اصل بحران ہے۔وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ تسلیم کریں کہ مسئلہ صرف ڈاکٹروں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ ایک متوازن اور فعال نظامِ صحت کی تشکیل ہے۔ صحت کا نظام ایک زنجیر کی مانند ہوتا ہے جسکی مضبوطی اسکی سب سے کمزور کڑی پر منحصر ہوتی ہے۔ جب تک ہم نرسنگ، پیرا میڈیکل اور فارمیسی کے شعبوں کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر مضبوط نہیں کریں گے، تب تک صحت کی معیاری سہولیات کا خواب ادھورا رہے گا۔

تازہ ترین