• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اسکے سر پر اپنی چھت اور اپنا مکان ہو جس کیلئے وہ پوری زندگی جدوجہد کرتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں ایک کروڑ 20لاکھ ہاؤسنگ یونٹس کی کمی کا سامنا ہے جو 2030ء تک بڑھکر 2 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے ۔ گیلپ پاکستان کے مردم شماری سروے کے مطابق 4 کروڑ سے زائد افراد ذاتی گھر کی نعمت سے محروم ہیں، یہ اُن لاکھوں سفید پوش خاندانوں کی کہانی ہے جو اپنی عمر اور کمائی کا بڑا حصہ صرف کرائے کی ادائیگیوں کی نذر کر دیتے ہیں۔ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن اور منی لانڈرنگ سے کمائے گئے کالے دھن کی سرمایہ کاری اور اس شعبے میں ٹیکسوں کی بھرمار سے گھروں کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوچکی ہیں جبکہ ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن (HBFC) اور بینک اونچی شرح سود پر قرضے دیتے ہیں جو تنخواہ دار طبقے کیلئے ناقابل برداشت ہیں۔ پوری دنیا میں مکانات بینکوں سے قرضے یعنی مارگیج فنانسنگ کے ذریعے خریدے جاتے ہیں لیکن پاکستان میں اب بھی مکانات بینک قرضوں کے بجائے اپنی جمع پونجی سے خریدے جاتے ہیں۔ دنیا میں جی ڈی پی میں مارگیج فنانسنگ کی شرح میں پہلے نمبر پر ڈنمارک ہے جہاں 80 سے 100فیصد مکانات مارگیج فنانسنگ سے لئے جاتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر نیدر لینڈ (90فیصد)، کینیڈا (70 فیصد)، امریکہ (65)، برطانیہ (60 فیصد)، جنوبی کوریا (55 فیصد)، سنگاپور (45فیصد)، ملائیشیا (44فیصد)، بھارت (11فیصد) جبکہ پاکستان میں مارگیج فنانسنگ کی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

پاکستان میں مارگیج فنانسنگ کے فروغ نہ پانے کی ایک وجہ ’’فور کلوژر قانون‘‘ کا نہ ہونا ہے جسکے باعث بینکوں کو قرض کی وصولی کیلئے عدالتوں میں کئی سال لگ جاتے ہیں اور عدالتیں اکثر قرض داروں کو حکم امتناعی (Stay Order) دے دیتی ہیں جس سے بینکوں کے قرضوں کی وصولی مشکل ہوجاتی ہے لیکن نئے قانون میں اس پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے7 مئی 2026 ء کو ’’اپنا گھر پروگرام‘‘ کا اعلان کیا جس میں 2700 اسکوائر فٹ (10مرلہ) مکان اور 1500 اسکوائر فٹ فلیٹ خریدنے یا بنانے کیلئے ایک کروڑ روپے کا قرضہ 5 فیصد شرح سود پر 20 سال کیلئے لیا جاسکتا ہے لیکن 10سال بعد اس قرضے پر مارکیٹ شرح سود لگے گی جس پر عوام کو تشویش ہے کہ 10سال بعد ہاؤس لون پر مارکیٹ شرح سود کیا ہوگی۔ میری حکومت کو تجویز ہے کہ فنانسنگ کی پوری مدت کیلئے ایک مستحکم اور واضح طریقہ کار متعین کیا جائے۔ حکومت نے آئندہ 4سالوں میں 5لاکھ مکانات بنانے کا اعلان کیا جن کی مجموعی مالیت 3200ارب روپے ہوگی۔ پروگرام کے پہلے سال 50ہزار گھروں کی تعمیر کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وزیراعظم ہاؤسنگ اسکیم کے تحت 25 لاکھ، 50 لاکھ،75 لاکھ یا پھر زیادہ سے زیادہ ایک کروڑ روپے کے قرضے لئے جاسکتے ہیں۔ 25لاکھ روپے قرض لینے والے افراد کو 16500 روپے ماہانہ، 50 لاکھ روپے قرض لینے والے افراد کو 33000 روپے ماہانہ، 75 لاکھ روپے قرض لینے والے افراد کو 49500 روپے جبکہ ایک کروڑ روپے قرض لینے والے افراد کو 66000روپے ماہانہ قسط ادا کرنا ہوگی۔ اسکیم کے تحت بینک قرضہ لینے والے کو 90 فیصد قرضہ دے گا جبکہ بقایا 10 فیصد قرض دار کو اپنے پاس سے ادا کرنا ہوگا۔ اپنا گھر پروگرام کے تحت اب تک 1845 افراد کو 5 ارب روپے سے زائد ہاؤسنگ قرضے فراہم کئے گئے ہیں، 25304درخواستوں میں سے 8990 درخواستیں منظور ہوئیں جن کے قرضوں کی مالیت 37 ارب روپے سے زائد ہے۔

ہاؤسنگ لون اسکیم کامیاب بنانے کیلئے ڈیفالٹ کی صورت میں حکومت نے بینکوں کیلئے نئے خصوصی اختیارات ’’فور کلوژزر قانون‘‘ تجویز کئے ہیں جس کا بل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی فنانس اینڈ ریونیو میں پیش کیا گیا لیکن بل پر شدید اعتراضات کے باعث اسے ترامیم کیلئے واپس کردیا گیا ہے۔ اس قانون کے مطابق اگر کوئی صارف مارگیج کی قسطیں ادا نہیں کرتا تو بینک اسے ہر30 دن بعد 90 روز تک 3 نوٹس بھیجے گا اور 90 روز تک ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں گروی رکھا گیا مکان بینک اپنے قبضے میں لیکر رقم وصولی کیلئے اسے نیلام کرسکے گا۔ میرے نزدیک فور کلوژر قانون میں گروی مکان نیلامی کیلئے قبضے میں لینے کی 90دن کی مدت کم ہے کیونکہ مہنگائی، بیروزگاری، کاروباری مشکلات اور بیماری وہ عوامل ہیں جس سے مارگیج فنانسنگ کی ادائیگی میں تاخیر ہوسکتی ہے اور صرف 90دن میں گھر کا چھن جانا کسی فیملی کیلئے بہت بڑا دھچکا ہوگا۔ ہم نے کریڈٹ کارڈ اور آٹو فنانسنگ کی ریکوری میں اکثر دیکھا ہے کہ بینک کے ریکوری آفیسر جارحانہ رویہ اختیار کرتے ہیں، جائیداد کی قیمت میں اضافے کے باعث خدشہ ہے کہ بینک جائیداد کی نیلامی اور اسے خالی کرانے کیلئے غیر ضروری دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ مارگیج فنانسنگ کو فروغ ہو اور لوگ بینک فنانسنگ کے ذریعے اپنے ذاتی مکانات خرید سکیں لیکن صرف 90دن میں گھر کی ضبطگی اور نیلامی میرے نزدیک غیر منصفانہ عمل ہے جس کے باعث قائمہ کمیٹی فنانس اینڈ ریونیو نے موجودہ ’’فور کلوژر قانون‘‘ میں ترمیم تجاویز کی ہیں جس میں مارگیج فنانسنگ کی ریکوری کیلئے خصوصی مارگیج عدالتیں قائم کرنا، زمین کا ریکارڈ ڈیجیٹل کرنا، عدالتوں میں مارگیج کیسز کے جلد فیصلے اور بینکوں کے ساتھ قرض لینے والوں کو بھی قانونی تحفظ دینا شامل ہے تاکہ ڈیفالٹ کی صورت میں قرضے کی ری اسٹرکچرنگ یعنی قسطوں میں نرمی کی گنجائش موجود ہو اور قرض دار کو فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہو۔ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک اور سیکریٹری خزانہ کا کہنا ہے کہ جب تک بینکوں کو جلد پراپرٹی حاصل کرنے کے اختیارات نہیں دیئے جائیں گے، پاکستان میں مارگیج فنانسنگ کو فروغ حاصل نہیں ہوگا۔ نئی اسکیم کو کامیاب بنانے کیلئے ہمیں قرض لینے اور قرض دینے والے کے مابین تحفظ اور توازن قائم رکھنا ہوگا تاکہ پاکستان میں ہاؤس فنانسنگ اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر ترقی کرسکے۔

تازہ ترین