(سڈنی)
پاکستان میں صحافت کے شعبہ میں اقتصادی امور کے حوالے سے محنت اور کاوشوں کے بعد پچھلے سال جب باقاعدہ طور پر اپنا مسکن آسٹریلیا کے شہر سڈنی منتقل کیا تو خیال یہی تھا کہ اب صحافت کی لمبی اننگز کھیلنے کے بعد باقاعدہ طور پر ریٹائرمنٹ کی زندگی فیملی کے ساتھ گزاری جائے لیکن یہاں آکر بھی یہی جذبہ زندہ رہا کہ پاکستان تو ہم سب کا ہے ہم جہاں بھی ہوں اپنے ملک کیلئے سوچتے رہیں اور جو کچھ بھی ہو سکے ملک کیلئے کرتے رہیں۔ اس عرصہ میں بورڈ آف انویسٹمنٹ کی طرف سے آسٹریلیا میں اعزازی انویسٹمنٹ قونصلر کاشعبہ قبول کرنے کی آفر موصول ہوئی۔اللہ تعالی کا بڑا شکر ادا کیا کہ اس کے کرم سے پاکستان کی خدمت کرنے کا ایک نادراور بہترین موقع مل گیا۔سونے پرسہاگہ یہ کہ آسٹریلیا کے ہائی کمشنر عرفان اشرف اور سڈنی میںہمارے قونصلیٹ جنرل قمرالزمان جن سے میرے دیرینہ دوستانہ اور پروفیشنل ورکنگ کے حوالے سے اچھے رابطے تھے انکی طرف سے بھر پور پذیرائی ملی۔ ہماری ساری صحافتی پیشہ ورانہ زندگی ستمبر 1981سے جنگ گروپ کے ساتھ بطور کامرس رپورٹر،پھر ایڈیٹر بزنس ،پھر ایڈیٹر بریک فاسٹ ود جنگ اور قومی امور پر بڑی کانفرنسوں غرض وہ سب کچھ کیا جو اقتصادی صحافت کے شعبہ میںہوتا ہے اورملک وقوم کی رہنمائی اور خدمت کیلئے کیا جاسکتا ہے۔اس دوران نوائے وقت ،دی نیشن گروپ کے ساتھ بھی بطور چیف رپورٹر اور ایکسپریس گروپ کے ساتھ مختصر کام کیا لیکن ہر جگہ اقتصادی امور کو ہی فوقیت دی اس ساری زندگی کے اس مرحلہ پرحکومت پاکستان کی طرف سے پاکستان کی مختلف مشکلات سے دوچار غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ترغیب دینے اور پاکستانی برآمدات کیلئے آسٹریلیا میں اہم کردار ادا کرنے کا موقع مل گیا ۔اس عہدے پر تقرری کے احکامات پاکستان کے معروف سینئربزنس مین قیصر احمد شیخ وزیر بورڈ آف انویسٹمنٹ نے جاری کیے ۔قیصر شیخ پاکستان کی چند اہم ترین کاروباری شخصیات میں سے ایک ہیں جو کراچی ،لاہور، فیصل آباد ، اسلام آباد غرض ہر جگہ اپنا ایک احترام اور مقام رکھتے ہیں۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے اعزازی قونصلر کی ذمہ داری یہ ہے کہ آسٹریلیا یادیگر ممالک میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کیا جائے اور انہیں پاکستان کے پاس موجودبے پناہ وسائل سے بھی آگاہی دی جائے۔اس سلسلے میں اسلام آباد اور صوبوںکو غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے پالیسیوں میں مختلف رکاوٹوں اور خامیوںکی نشاندہی بھی کرنا ہے اس کے ساتھ ساتھ امن و امان کی صورتحال بھی بہتر بنانے پر توجہ دینا ہو گی۔ آسٹریلیا کے ساتھ پاکستان صنعتی اور تجارتی شعبہ میں زراعت ،پٹرولیم ،معدنیات ،انسانی وسائل (ہیومن ریسورس) فنی تعلیم وتربیت ،ٹیکسٹائل ،پراپرٹی، رئیل اسٹیٹ ،گارمنٹس ،لیدر، کارپٹس اور دیگر کئی لاتعداد شعبوں میںدو طرفہ تجارت اور ہماری لارج اسکیل اور میڈیم سیکٹر کی صنعتوں میں آسٹریلیا کے بزنس مینوں او ر سرمایہ کاروں کو راغب کیاجا سکتا ہے ،اس کیلئے ایف بی آر کو ٹیکس پالیسیوں میں نرمی اور Boiکے اسپیشل اکنامک زون سیکٹر میں آسڑیلیا کے کارپوریٹ سیکٹر کی دلچسپی بڑھ سکتی ہے ۔اسی طرح آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ وغیرہ میں موجود پاکستانی خاندان اور کاروباری افراد کیلئے خصوصی ترغیبات اور سرمایہ کاری کے تحفظ کے حوالے سے عملی اقدامات کی ضرورت ہے اپنے اس نئے منصب کے ساتھ ارادہ ہے کہ ماہ اگست کے پاس سڈنی میں عالمی سطح کی انویسٹمنٹ کانفرنس منعقد کی جائے گی جس میں بورڈ آف انویسٹمنٹ اور ایس ای ایف سی کی بھر پور معاونت اور سہولت حاصل ہو جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن ملبورن اور سڈنی کے قونصلر جنرل دفاتر بھی بھر پور تعاون کریں گے اس وقت پاکستان روڈ شو اسی طرح ترتیب دیا جائیگا کہ اس میں لاہور ،کراچی ،سیالکوٹ ،فیصل آباد، اسلام آباد اور یگر اہم مقامات کے چیمبرز آف کامرس کے افراد کا بڑا تجارتی وفد تشکیل دیا جائے ۔ اس بابت آسٹریلوی حکام پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاو ن کیلئے تیار ہیں بشرطیکہ ہماری بیوروکریسی بھی پاکستان میںٹیکسوں اور سرمایہ کاری کی پالیسیوںکو بزنس فرینڈلی بنائے اس وقت اللہ کے فضل سے پاکستان ،امریکہ ایران ثالثی کے حوالے سے عالمی سطح پر سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اللہ پاک پاکستان کا بھرپور بھرم رکھے اور پاکستان کی ساکھ عالمی سطح پر مثبت فوائد بھی فراہم کر سکے اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کے ساتھ ضرورت سے زیادہ دوستی کی بجائے امریکی سپورٹ سے پاکستان کے اقتصادی حالات میں بہتری کیلئے حکمت عملی اختیار کی جائے جیسے دنیا سوچتی ہے ہمیں بھی ایسا ہی سوچنا ہو گا ۔