امریکا میں عیسائی صیہونیت کی تحریک کو مستقبل میں بڑے چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ نوجوان قدامت پسند اور انجیل کو ماننے والے عیسائیوں میں اسرائیل کی حمایت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔
الجزیرہ میں شائع کی گئی خصوصی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی نوجوانوں کو غزہ جنگ اور ایران تنازع نے یہودیوں اور اسرائیل سے مزید دور کر دیا ہے۔
1990ء کی دہائی میں عیسائی صیہونیت کو زوال پذیر قرار دیا گیا تھا لیکن بعد میں یہ تحریک امریکی سیاست میں انتہائی طاقتور بن کر ابھری تھی، اس تحریک نے ریپبلکن سیاست، عراق جنگ اور اسرائیل کی غیر مشروط حمایت میں اہم کردار ادا کیا تھا، آج بھی اس کے کروڑوں حامی موجود ہیں، خاص طور پر امریکا کے ’بائبل بیلٹ‘ علاقوں میں۔
الجزیرہ کے مطابق حالیہ سرویز میں سامنے آیا ہے کہ نوجوان عیسائیوں میں اسرائیل کے لیے حمایت نمایاں حد تک گھٹ چکی ہے، 2021ء کے ایک سروے میں صرف 33.6 فیصد نوجوان عیسائیوں نے اسرائیل کی حمایت کی تھی۔
ماہرین کی رائے کے مطابق امریکی نوجوان نسل اب اسرائیل کو مذہبی پیشگوئیوں کے بجائے انسانی حقوق اور سماجی انصاف کے تناظر میں دیکھ رہی ہے۔
الجزیرہ نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایک تحقیق کے مطابق نوجوان عیسائیوں میں ’قبل اَز ہزار سالہ عقیدہ‘ بھی کمزور ہو رہا ہے جس کے تحت اسرائیل کی حمایت کو حضرت عیسیٰؑ کی واپسی اور آخری زمانے کی پیشگوئیوں سے جوڑا جاتا ہے، 2011ء میں اس عقیدے کے حامی 65 فیصد تھے جبکہ 2021ء میں یہ شرح صرف 21 فیصد رہ گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق اس کے باوجود عیسائی صیہونی تنظیمیں اب بھی مالی اور سیاسی طور پر مضبوط ہیں، صرف 36 بڑی تنظیموں کی سالانہ آمدن تقریباً 2.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، ان تنظیموں نے ایران پر پابندیوں، اسرائیل کے لیے اربوں ڈالر امداد اور مشرق وسطیٰ کی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کے لیے بھرپور لابنگ کی۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس تحریک کے اثر و رسوخ میں فوری طور پر بڑی کمی کا امکان نہیں تاہم طویل مدت میں نوجوان نسل کے بدلتے نظریات صیہونیت کی بنیادوں کو کمزور کر سکتے ہیں۔
اسرائیل بھی اس رجحان سے پریشان ہے اور امریکی نوجوانوں اور گرجا گھروں میں اپنی حمایت برقرار رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر مہمات چلا رہا ہے۔