امریکا میں کالج اور یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کو اس سال شدید معاشی دباؤ اور کمزور جاب مارکیٹ کا سامنا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکا میں حکومتی فنڈنگ میں کٹوتیوں، عالمی تنازعات، ٹیرف پالیسیوں اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال نے نئی ملازمتوں کے مواقع محدود کر دیے ہیں۔
عرب میڈیا کی جانب سے شائع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں امریکا میں 6.9 ملین نوکریاں موجود تھیں تاہم نئی بھرتیوں میں معمولی اضافہ ہوا جبکہ ملازمین اپنی موجودہ نوکریاں چھوڑنے سے گریز کر رہے ہیں، اس صورتِ حال میں نئے گریجویٹس کے لیے روزگار حاصل کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔
صحت عامہ، تحقیق، میڈیا، بین الاقوامی امور اور ٹیکنالوجی جیسے شعبے خاص طور پر متاثر ہوئے ہیں۔
حکومتی فنڈنگ میں کمی کے بعد کئی بڑی امریکی جامعات نے نئی بھرتیوں پر پابندیاں لگا دی ہیں جس سے ریسرچ اور تعلیمی شعبوں میں مواقع کم ہو گئے ہیں، مصنوعی ذہانت بھی انٹری لیول ملازمتوں کے لیے بڑا خطرہ بن رہی ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں شائع ماہرین کی رائے کے مطابق سافٹ ویئر، کسٹمر سروس اور دیگر وائٹ کالر شعبوں میں ابتدائی سطح کی نوکریوں میں 16 فیصد کمی دیکھی گئی ہے جبکہ تجربہ کار ملازمین کی طلب برقرار ہے۔
رپورٹ کے مطابق کئی کمپنیاں اب بھرتیوں کے ابتدائی مراحل میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہی ہیں جہاں امیدواروں کے انٹرویو بھی اے آئی سسٹمز کے ذریعے لیے جا رہے ہیں، اس عمل پر نوجوان امیدواروں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں نئے گریجویٹس کی بے روزگاری کی شرح 5.6 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو عمومی بے روزگاری کی شرح 4.2 فیصد سے زیادہ ہے، تقریباً 41 فیصد گریجویٹس اپنی تعلیم کے مطابق ملازمت حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔