وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ جب کبھی بھی اتفاق رائے ہوا 28ویں ترمیم آجائے گی۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں جیو نیوز سے گفتگو میں رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا 28ویں ترمیم پر اگلے دس، پندرہ دنوں تک اتفاق رائے ہونے والا ہے، سال میں جب کبھی بھی اتفاق رائے ہوا تو ترمیم آ جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ 28ویں آئینی ترمیم کے بجٹ سے قبل آنے کا کوئی چانس نہیں ہے، ترمیم ہمارے اتحادیوں کی مشاورت کے بغیر نہیں آئے گی۔
وزیراعظم کے مشیر نے مزید کہا کہ ترمیم میں کشمیر اور گلگت بلتستان کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی تجویز زیر غور ہے، جی بی اور آزاد کشمیر کا یہ مطالبہ ہے کہ انہیں این ایف سی نیٹ میں لایا جائے۔
اُن کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو گرانٹس کے اوپر نہیں رکھنا چاہیے وہ پاکستان کا حصہ ہیں، یہ چیزیں زیر بحث ہیں سب کو اپنی تجاویز دینی چاہئیں۔
رانا ثناء اللّٰہ نے یہ بھی کہا کہ ووٹرز کی عمر کے تعین پر مزید بحث ہونی چاہیے یہ کوئی ایجنڈا نہیں ہے، ایک تصور ہے بچہ جب 16 یا 18 سال کا ہو جائے تو وہ آزاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ جتنی بھی شکایات ہیں 18 سے 22 سال کے درمیان ہیں، جن بچوں کی آئس یا ڈرگز سے اموات ہوئی ہیں، ان کی عمریں بھی یہی تھیں۔