امریکی کانگریس کے 62 سے زائد ارکان نے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کو خط لکھ کر اسرائیل پر زور دیا ہے کہ غزہ کے کینسر مریضوں، خصوصاً بچوں کو علاج کے لیے مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم جانے کی اجازت دی جائے۔
عرب میڈیا کے مطابق خط پر ایوانِ نمائندگان کے 51 اور سینیٹ کے 11 ارکان نے دستخط کیے ہیں۔
ارکان نے مطالبہ کیا ہے کہ بیمار بچوں اور ان کے تیمار داروں کے طبی انخلاء کو یقینی بنایا جائے اور اسرائیل اس بات کی ضمانت دے کہ علاج کے بعد انہیں واپس غزہ آنے دیا جائے گا۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق اس وقت غزہ میں تقریباً 11000 کینسر کے مریض موجود ہیں جبکہ جنگ کے دوران صحت کا نظام شدید تباہی کا شکار ہو چکا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق غزہ کے 94 فیصد اسپتال تباہ حال ہیں۔
مارچ 2025ء میں اسرائیلی افواج نے غزہ کے واحد خصوصی کینسر اسپتال، تُرک فلسطینی دوستی اسپتال کو بھی تباہ کر دیا تھا۔
خط میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں کینسر کی تشخیص عملاً موت کا پروانہ بن چکی ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق اکتوبر 2023ء سے کینسر سے ہونے والی اموات میں 3 گنا اضافہ ہوا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق طبی انخلاء کی منظوری کے انتظار میں کم از کم 1200 افراد جان گنوا چکے ہیں جن میں 6 سالہ خون کے کینسر میں مبتلا ایک بچہ بھی شامل تھا۔
خط میں غزہ سے طبی راہداری قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ مریضوں کو فلسطینی علاقوں کے دیگر اسپتالوں تک پہنچایا جا سکے، خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے طبی مراکز مریضوں کے علاج کے لیے تیار ہیں اور اخراجات برداشت کرنے کی پیشکش بھی کر چکے ہیں۔
ارکانِ کانگریس نے زور دیا ہے کہ غزہ کے کینسر کے مریضوں کو فوری طور پر علاج تک رسائی دی جائے کیونکہ ان کے علاج میں سب سے بڑی رکاوٹ اسرائیلی حکومت کی جانب سے سفری اجازت ناموں کی عدم منظوری ہے۔