• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا نے دوبارہ حملے کیے تو اسے پہلے سے زیادہ سخت ردعمل ملے گا، ایرانی فوج

فوٹو: ایرانی میڈیا
فوٹو: ایرانی میڈیا 

ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ خطے اور آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ کی اصل وجہ امریکی رویے کا تضاد ہے، امریکا نے دوبارہ ایران پر حملے کیے تو اسے پہلے سے بھی زیادہ سخت ردعمل ملے گا۔

ایران نے کہا کہ جنگ کی آگ شدت کے ساتھ وسیع ہوجائے گی اور خطے میں عدم تحفظ کی وجہ بنے گی، ایرانی تیل تنصیبات پر حملوں کی دھمکی سے یا تو تیل، گیس برآمدات سب کیلئے ہوں گی یا کسی کیلئے بھی نہیں ہوں گی۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج رات پھر ایران پر حملے کرنے کا اعلان کردیا۔ ایران کے جزیرہ خارگ اور تیل کے انفراسٹرکچر پر قبضے کا عندیہ بھی دے دیا۔

جواب میں ایران نے کہا کہ ایران تیار ہے، جزیرہ خارگ پر حملہ ہوا تو ایران کا امریکا کو جواب تباہ کن ہوگا۔ 

ایرانی پارلیمانی قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج ایران اور جزیرہ خارگ کا دفاع کرنے کیلئے پوری طاقت کے ساتھ کھڑی ہیں۔

اسی دوران سعودی عرب نے جنگ بندی کے دوران حملوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران، ایک بار پھر پاکستانی میزبانی اور قطر کی کوششوں سے ہونے والے مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔

ایک بڑی پیشرفت یہ ہوئی کہ امریکا اسرائیل ایران جنگ کے بعد پہلی بار متحدہ عرب امارات اور ایرانی حکام میں ملاقات ہوئی ہے۔ جنگ کے بعد ایران اور یو اے ای کے درمیان کشیدگی اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے ایسے میں یہ ملاقات انتہائی مثبت قرار دی جارہی ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اسی دوران ایک امریکی ٹی وی سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران ہار ماننے کے بعد سفید جھنڈا لہرا دے تو اس کے ساتھ تاریخ کی بہترین ڈیل ہوسکتی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید