تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، شعور اور مستقبل کی بنیاد ہوتی ہے۔ دنیا کی وہ تمام قومیں جو آج ترقی یافتہ اور مستحکم سمجھی جاتی ہیں، انہوں نے سب سے پہلے اپنے تعلیمی نظام کو مضبوط بنایا۔ بدقسمتی سے پاکستان میں آج تک ایسا یکساں نظامِ تعلیم قائم نہیں ہو سکا جو ملک کے ہر بچے کو برابرکے مواقع فراہم کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارا تعلیمی نظام تقسیم، عدم مساوات اور زوال کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان میں ایک ہی وقت میں کئی تعلیمی نظام رائج ہیں۔ ایک طرف مہنگے نجی اسکول ہیں جہاں جدید سہولیات، انگریزی ماحول اور بین الاقوامی معیار کی تعلیم دی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف سرکاری اسکولوں کی بڑی تعداد ایسی ہے جہاں بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔ کہیں عمارتیں خستہ حال ہیں، کہیں اساتذہ کی کمی ہے اور کہیں بچوں کیلئے فرنیچر اور پینے کا صاف پانی تک موجود نہیں۔ اس کے علاوہ مدارس کے الگ نظام اور مختلف تعلیمی بورڈز نے پورے ڈھانچے کو مزید تقسیم کر دیا ہے۔ اگر چاروں صوبوں کی صورتحال دیکھی جائے تو مسائل کی نوعیت مختلف ہونے کے باوجود ایک بات مشترک نظر آتی ہے: معیاری تعلیم کی کمی۔ پنجاب میں تعلیمی ڈھانچہ نسبتاً بہتر ضرور سمجھا جاتا ہے، مگر وہاں بھی سرکاری اور نجی اداروں کے معیار میں واضح فرق موجود ہے۔ سندھ خصوصاً دیہی علاقوں میں تعلیمی بحران زیادہ سنگین ہے، جہاں کئی اسکول بند پڑے ہیں یا صرف کاغذوں تک محدود ہیں۔ بلوچستان میں غربت، دور دراز علاقے اور سہولیات کی کمی بچوں کی تعلیم میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا کے کئی پسماندہ علاقوں میں آج بھی تعلیمی وسائل ناکافی ہیں۔ اس طرح ہر صوبہ اپنے مسائل سے لڑ رہا ہے، مگر نقصان پورے ملک کے مستقبل کو ہو رہا ہے۔ تعلیم میں یہی عدم مساوات آگے چل کر معاشرتی تقسیم کو جنم دیتی ہے۔ ایک امیر بچے اور ایک غریب بچے کی تعلیم میں زمین آسمان کا فرق ہونا کسی بھی معاشرے کیلئےخطرناک ہے۔ ایک طبقہ جدید تعلیم، ٹیکنالوجی اور بہتر مواقع تک رسائی حاصل کر لیتا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ بنیادی تعلیم سے بھی محروم رہ جاتا ہے۔ نتیجتاً احساسِ محرومی، بے روزگاری اور طبقاتی فرق میں اضافہ ہوتا ہے۔ تعلیم کے زوال کی ایک بڑی وجہ پالیسیوں کا عدم تسلسل بھی ہے۔ ہر حکومت نئے وعدے اور منصوبے تو پیش کرتی ہے، مگر عملی طور پر کوئی دیرپا تبدیلی نظر نہیں آتی۔ نصاب تبدیل ہوتے رہتے ہیں، تعلیمی پالیسیاں بدلتی رہتی ہیں، مگر اسکولوں کی حالت اور معیارِ تعلیم میں خاطر خواہ بہتری نہیں آتی۔ تعلیم کا بجٹ بھی ہمیشہ ضرورت سے کم رکھا جاتا ہے، حالانکہ ترقی یافتہ ممالک اپنی آمدنی کا بڑا حصہ تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔ اساتذہ کی تربیت اور احتساب کے مؤثر نظام کا فقدان بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ کیونکہ ایک اچھا استاد ہی اچھی نسل تیار کرتا ہے۔ اگر استاد کو مناسب تربیت، عزت اور سہولیات نہ ملیں تو تعلیمی معیار بہتر نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح امتحانی نظام بھی زیادہ تر رٹّے پر مبنی ہے، جہاں طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کے بجائے صرف نمبروں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کو فوری طور پر ایک مضبوط اور یکساں نظامِ تعلیم کی ضرورت ہے۔ ایسا نظام جہاں امیر اور غریب، شہری اور دیہی، اور چاروں صوبوں کے بچوں کو برابر تعلیمی مواقع میسر ہوں۔ پورے ملک میں یکساں اور معیاری نصاب نافذ کیا جائے جس میں جدید علوم، تحقیق، سائنسی سوچ اور اخلاقیات کو شامل کیا جائے۔ سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنائی جائے، اساتذہ کی تربیت پر توجہ دی جائے اور ہر بچے تک تعلیم کی رسائی یقینی بنائی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ فنی اور تکنیکی تعلیم کو بھی فروغ دینا ضروری ہے تاکہ نوجوان صرف ڈگریاں حاصل کرنے کے بجائے عملی مہارتیں بھی سیکھ سکیں۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، اور اگر پاکستان نے اپنے نوجوانوں کو جدید تقاضوں کے مطابق تعلیم نہ دی تو ہم ترقی کی دوڑ میں مزید پیچھے رہ جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ تعلیم صرف کتابوں کا علم نہیں بلکہ قوموں کی تقدیر بدلنے کا ذریعہ ہے۔ اگر آج بھی تعلیم کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو آنے والی نسلیں بھی انہی مسائل کا شکار رہیں گی۔ حکومت، اساتذہ، والدین اور معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر تعلیم کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ کیونکہ مضبوط اسکول، اچھے اساتذہ اور یکساں نظامِ تعلیم ہی ایک مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان کی ضمانت ہیں۔