آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: میرے پاس دو تولہ سونا ہے، اور 150000 روپے بھی میرے ذمے واجب الادا ہیں، کیا مجھ پر زکوٰۃ فرض ہے؟
جواب: اگر آپ کے پاس صرف دو تولہ سونا ہے، نقدی، چاندی یا مالِ تجارت کی صورت میں مزید کچھ بھی مال نہیں ہے تو آپ پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے، اگرچہ آپ مقروض نہ بھی ہوتیں۔
البتہ اگر آپ کے پاس دو تولہ سونے کے ساتھ کچھ نقدی، چاندی یا مالِ تجارت میں سے کوئی اور مال بھی ہے تو دیکھا جائے گا کہ اگر ان تمام چیزوں کی مجموعی مالیت میں سے ڈیڑھ لاکھ روپے قرض کے منہا کرنے کے بعدبقیہ مالیت 52.5 تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو ایسی صورت میں آپ کے ذمہ زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہوگی۔
اگر قرض کی رقم منہا کرنے کے بعد بقیہ مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے کم ہو تو آپ پر زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی۔ (سنن أبی داؤد،کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ السائمۃ، ج:3، ص:24، ط:دارالرسالۃ العالمیۃ، فتاویٰ شامی، کتاب الزکاۃ،باب زکاۃ المال،ج:2،ص:303،سعید،بدائع الصنائع، کتاب الزکاۃ،فصل شرائط فرضيۃ الزکاۃ،2/ 8، ط: سعيد)
اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
iqra@banuri.edu.pk