آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: میں ایک نیم سرکاری اسکول میں ٹیچر ہوں، میری ماہانہ تنخواہ پینتالیس ہزار (45,000) روپے ہے، یہ نوکری نامعلوم مدت کے لیے کنٹریکٹ کی بنیاد پر ہے، براہِ مہربانی مجھے بتائیں کہ کیا مجھ پر زکوٰۃ، صدقۃ الفطر اور قربانی واجب ہیں؟
جواب: آپ کا سوال زکوٰۃ، صدقۂ فطر اور قربانی، تینوں سے متعلق ہے، چوں کہ زکوٰۃ اور صدقۂ فطر و قربانی کے نصاب میں کچھ فرق ہے، اس لیے زکات اور صدقۂ فطر و قربانی سے متعلق جواب علیحدہ علیحدہ تحریر کیا جارہا ہے۔
اگر آپ کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یاساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر نقد رقم یا مالِ تجارت موجود ہو یا ان چاروں چیزوں میں سے کسی بھی دو یا زائد کا مجموعہ ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر پہنچتی ہو تو آپ زکوٰۃ کے احکام کے اعتبار سے صاحبِ نصاب ہیں، لہٰذا جس تاریخ کو آپ صاحبِ نصاب ہوئے، قمری اعتبار سے اس پر سال مکمل ہونے کے بعد آپ پر زکات واجب ہوگی۔
مذکورہ چار قسم کے اَموال (سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت) کے علاوہ دیگر اَشیاء خواہ ضرورت اور استعمال سے زائد ہوں، اور ان کی مالیت خواہ کتنی ہو، (مثلاً ضرورت سے زائد رہائشی مکانات یا ضرورت سے زائد استعمال کی گاڑیاں وغیرہ جن میں تجارت کی نیت نہ ہو) ان پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔ البتہ اَز خود چَرنے والے جانور مویشی کسی کی ملکیت میں ہوں اور وہ اپنے مقررہ نصاب کو پہنچ جائیں تو ان پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔
صدقۂ فطر اور قربانی کے بارے میں یہ حکم ہے کہ اگر عید الفطر کی صبح صادق کے وقت آپ کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر نقدی یا مالِ تجارت یا استعمال سے زائد کسی بھی قسم کا سامان موجود ہو (مثلًا: رہائشی مکان کے علاوہ کوئی مکان یا جائیداد وغیرہ) یا مذکورہ پانچ چیزوں میں سے کسی بھی دو یا زائد کا مجموعہ ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو تو آپ پر صدقۂ فطر واجب ہوگا، نیز اسی تفصیل کے مطابق اگر عید الاضحی کے ایام میں آپ کے پاس مال موجود ہو تو آپ پر قربانی واجب ہوگی۔
خلاصہ یہ کہ صدقۂ فطر اور قربانی کے وجوب کے لیے صرف سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت یا اَز خود چَرنے والے جانوروں کا ہونا ضروری نہیں ہے،بلکہ مذکورہ اَموال یا ضرورت و استعمال سے زائد کسی بھی قسم کا اتنا مال یا سامان موجود ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو صدقۂ فطر و قربانی واجب ہوں گے، نیز صدقہ فطر یا قربانی واجب ہونے کے لیے اس مال پر سال گزرنا بھی شرط نہیں ہے۔ (سنن أبو داؤد،کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ السائمۃ، ج:3، ص:24، ط:دارالرسالۃ العالمیۃ - رد المحتار، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال، ج:2، ص:303، ط: سعيد، و باب صدقۃ الفطر، ج: 1، ص: 471، ط: دار الکتب العلميۃ، و کتاب الأضحيۃ، ج: 6، ص: 312 سعید)