تفہیم المسائل
سوال: بینک سے جو گاڑی لیز پر لی جاتی ہے، اس کی اقساط اور بینک کا مارک اپ دیا جاتا ہے، اس طریقے پر گاڑی لینا شرعاً کیسا ہے؟ اسی طرح مکان بنانے کے لیے گورنمنٹ جو لون دیتی ہے، مارک اپ کے ساتھ واپس لیتی ہے ؟(محمد اسامہ جاوید، اسلام آباد )
جواب: سودی بینکوں کے ذریعے جو گاڑیاں لی جاتی ہیں، وہ سودی عقد پر مبنی ہوتی ہیں، لہٰذا شرعاً ناجائز ہیں ۔ اسلامی بنک یا کسی بھی اسلامک فائنینشل انسٹی ٹیوٹ (IFI )کے ساتھ عقد کرنے کا سب سے سادہ اور سیدھا طریقہ یہ ہے کہ اسلامی بینک کارخریدے اور قیمتِ خرید پر اپنا منافع شامل کرکے قیمت طے کرلے اوراسے ماہانہ /سہ ماہی /ششماہی یا سالانہ اقساط پر خریدا ر کو فروخت کردے۔
اگر خریدار مقررہ مدت میں قیمت ادانہ کرسکے تو بینک یا اسلامی مالیاتی ادارہ قیمت میں اضافہ نہ کرے، یہ عقد مرابحہ کہلاتا ہے اور یہ اسلامی بینکوں میں مروّج ہے، اگرچہ پسندیدہ بات تویہ ہے کہ شراکت یا مضاربت کی بنیاد پر عقد کیاجائے۔ دوسری صورت اجارہ (Lease)ہے، جب آپ کسی اسلامی بینک سے عقدِ اجارہ کریں گے تو وہ آپ کو تفصیل سے آگاہ کردیں گے۔
تیسری صورت مشارکہ مُتناقصہ (Diminishing Musharakah)کی ہے اور مکانات کی خریداری کے لیے بالعموم عقد ’’مشارکۂ مُتناقصۂ ‘‘ کی بنیاد پر ہوتا ہے، اس کا تفصیلی طریقۂ کار آپ کو اسلامی بینک کا نمائندہ یا شریعہ بورڈ کا رکن بتادے گا ۔(واللہ اعلم بالصّواب)