ڈاکٹر نعمان نعیم
ہمارا یہی دین، جودینِ فطرت اور انسانی فطرت کے عین مطابق ہے، ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ انسان کے پاس جو کچھ بھی ہے، وہ اس کے خالق و مالک، اللہ عزّوجل کا عطا کردہ ہے۔ اس طرح انسان کو عطیہ کردہ اللہ کے تمام عطیات امانت کی حیثیت رکھتے ہیں اور اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ امانت کی حفاظت، ایمان اور بندگی کا ایک لازمی تقاضا ہے۔
انسان کی زندگی، بقا و سلامتی،صحتوں، نعمتوں اور امانتوں میں شامل ہے، اسی طرح صحت کی حفاظت، وبائی، متعدی امراض سے بچائو، احتیاطی تدابیر اور صحت کو خطرات سے بچانے کی جدوجہد بندئہ مومن کی کلیدی ،بنیادی ذمّے داریاں ہیں۔ قرآن کریم میں اس حوالے سے واضح طور پر فرمایا گیا۔ ’’ اور نہ ڈالو اپنی جانوں کو ہلاکت میں‘‘(البقرہ/195) قرآنِ کریم کی یہ آیتِ مبارکہ بڑے وسیع معنٰی میں استعمال ہوئی ہے، مگر انسانی صحت و سلامتی کے حوالے سے اس کے معنیٰ یہی ہوسکتے ہیں کہ فطرت کے خلاف جنگ کرکے اپنی جان و صحت کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔
جامعۃ الازہر مصر اور عالمِ اسلام کے معروف علما و محقّقین پرمشتمل کمیٹی نے شریعتِ اسلامی کے بنیادی اصولوں پر مبنی انسانی صحت و سلامتی اور اس کے تحفّظ کو یقینی بنانے کے حوالے سے جن بنیادی تعلیمات پر مبنی اصول و ضوابط کو بنیادی اور لازمی قرار دیا، ان میں انسانی صحت اور اس کی بقا وحفاظت کے حوالے سے اقدامات کو یقینی بنانا بھی شریعت اور دین کے بنیادی تقاضوں میں شامل ہے۔
چناں چہ اسلامی شریعت کے بنیادی مقاصد کے تحت فقہ اسلامی کا یہ بنیادی اصول اور ضابطہ بیان کیا گیا کہ اسلامی شریعت انسانوں کے درمیان تعلقات کی تنظیم میں اور انسانوں اور اللہ تعالیٰ کے مابین تعلقات میں پانچ امورکا تحفّظ کرتی ہے، جن کے بغیرکوئی انسانی معاشرہ مکمل نہیں ہوسکتا۔ اگر ان میں سے کسی ایک مقصدکو بھی چھوڑ دیا جائے تو تمام معاشرہ اسے چھوڑ دے گا۔ اس قسم کی ناکامی افراد کے درمیان اور افراداور معاشرے کے درمیان اور بالآخر افراد اور ان کے خالق کے درمیان تعلقات اور رابطے کو توڑ دے گی یا ختم کردے گی۔
یہی وجہ ہے کہ علماء ان پانچ امور کو جن کا تحفّظ اور پاس داری انسانی معاشرے میں ہونی چاہیے، بہ الفاظ دیگران تمام پانچ مقاصد کا وجود انسانی معاشرے کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں تاکہ وہ مکمل ہوسکے اور ایسے تکلیف دہ رجحانات کو ختم کردے، جو معاشرے کو شدید تباہی اور نقصان سے دوچار کرسکتے ہیں۔ یہ پانچ مقاصد یہ ہیں۔ تحفّظِ دین، تحفّظِ جان، تحفّظِ نسل، تحفّظِ عقل اور تحفّظِ مال۔ اسلامی قانون سازی کا بنیادی مقصد اصولی طور پر ان پانچ بنیادی مقاصد کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
اسلام ہر اس عمل سے منع کرتا ہے، جو انسانی صحت و سلامتی کے لیے ضرر رساں اور انسانی زندگی کو تباہی کی طرف لے جانے والا ہو۔اسلامی شریعت اور اس کے بنیادی اصول اجتماعی سطح پر انسانی زندگی کے تحفّظ، صحت و سلامتی کو یقینی بنانے اور اسے تحفّظ عطا کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ ضوابط اور اسلامی قوانین ایک انسان کو ہدایت دیتے اور اسے پابند بناتے ہیں کہ وہ اپنی صحت و سلامتی اور زندگی کے تحفّظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے دیگر افراد کی صحت و سلامتی کو بھی یقینی بناتے ہوئے ان کے لیے بھی صحت و زندگی کے حوالے سے خطرات اور ضرر رسانی کا باعث نہ بنے، اس کے لیے شریعت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ’’لاضرر ولاضرار‘‘ (نہ کسی سے ضرر اور نقصان برداشت کرو اور نہ دوسرے انسانوں کے لیے ضرر رسانی اور نقصان کا باعث بنو) دینِ اسلام اور شریعت کی ان تعلیمات کے تناظر میں یہ آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ دینِ فطرت، اسلام موجودہ حالات کے تناظر میں ہے، شریعت اپنی اور دیگر انسانوں کی صحت و سلامتی کو یقینی بنانے اور انسانی جان کے تحفّظ کا حکم دیتی ہے۔ اس سے بچائو یقینی بنانے کے لیے حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل اور مختلف تدابیر اختیار کرنا ہرگز توکّل اللہ کے خلاف نہیں، بلکہ اللہ پر ایمان، دین کی تعلیمات اور خود توکّل کا بنیادی تقاضا ہے۔
اسلام ایسے بنیادی اصولوں اور ضابطوں کا مجموعہ ہے، جو ہر مسلمان پر اس امَر کو لازم ٹھہراتا ہے کہ وہ حفظانِ صحت کے بنیادی اصولوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنی اور دوسروں کی زندگی کے تحفّظ کو یقینی بنائے۔ ان تعلیمات سے بخوبی یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اس ضمن میں غفلت اور لاپروائی ایک بڑے گناہ کا درجہ رکھتی ہے۔
مہلک اور وبائی وائرس سے تحفّظ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بلاشبہ اسلامی تعلیمات اور شریعت کا بنیادی تقاضا ہے۔ یہ کسی بھی درجے میں ’’توکّل‘‘ کے منافی نہیں۔ ’’توکّل‘‘ کے معنیٰ، مفہوم بعض افراد ترکِ اسباب اور تدبیر کو اختیار نہ کرنا لیتے ہیں۔ یہ سوچ کسی بھی طرح درست نہیں، بلکہ ’’توکّل‘‘ کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ آدمی اپنی سی پوری کوشش کرے اور کسی حدتک ذرایع و وسائل کو اختیار کرنے کے بعد نتائج اللہ پر اٹھارکھے۔
یہ نہ سمجھے کہ میری کوشش ہی مطلوبہ نتائج کی ضامن ہے۔ جیسا کہ اعرابی والے واقعے سے سمجھ آتا ہے کہ اس نے مسجدِ نبویؐؐ کے دروازے پر اپنے اونٹ کو کھلا چھوڑدیا اور یہ گمان کیا کہ یہ توکّل ہے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا’’پہلے اسے رسّی سے باندھ، پھر توکّل کر۔‘‘متعدی اور مہلک امراض سے حفاظت کے لیے ممکنہ تدابیر اختیار کرنا اور حفظانِ صحت کے اصولوں پرعمل دینِ فطرت کا بنیادی تقاضا ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ معلّمِ انسانیت، فخرِ بنی آدم، حضرت محمدﷺنے آغاز ہی سے، پہلی اسلامی فلاحی ریاست مدینے میں حفظانِ صحت کے بنیادی اصول متعارف فرمائے۔ صحابہ کرامؓ حفظانِ صحت کے حوالے سے رسول اللہﷺ کے ارشادات پر پوری طرح عمل پیرا اور فکری و روحانی صحت کے ساتھ ساتھ جسمانی وبدنی صحت کا بھی بھرپور اہتمام فرماتے تھے۔ یہ کوئی تعجب خیز بات نہیں کہ دورِ رسالتؐ میں مدینہ منورہ میں آنے والے عیسائی اطباء کو کوئی کام نہیں ملا، اس لیے کہ نبوی ؐ معاشرے میں احتیاطی تدابیر اور حفظانِ صحت کے اسلامی اصولوں پر پوری طرح عمل ہورہا تھا۔
دورِ نبویؐ میں مدینہ منورہ سے باہر طاعون کا دور دورہ تھا اور کسی کے پاس بھی اس مہلک بیماری سے بچائو کی کوئی تدبیر نہ تھی ، یہ طاعون اس دور میں ایسی ہی خطرناک متعدی اور موذی بیماری تھی، جیسی حالیہ برسوں ’’کورونا وائرس‘‘تھا، لیکن صحابہ کرامؓ اس مہلک اورمتعدی وبا سے محفوظ تھے، کیوں کہ وہ رسول اللہﷺ کی ہدایات اور سنہری تعلیمات کی بدولت مدینہ منورہ کے پاکیزہ و صاف ستھرے ماحول میں حفظانِ صحت کی اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا صاف ستھری زندگی گزاررہے تھے۔
آج جب کہ چودہ صدیاں بیت چکی ہیں۔ جدید طبّی سائنس حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل اور اس مہلک، متعدی مرض سے بچائو اور تحفّظ کے لیے اسی اقدام کو حفاظتی تدبیر اور موثر ذریعہ قرار دے رہی ہے اور پوری دنیا اسی فارمولے پر عمل پیرا بھی ہے۔ گویا آج کی مہذّب، ترقی یافتہ دنیا اور جدید طبّی سائنس بھی رسول اللہ ﷺ کے فرمان کی عظمت و صداقت کی گواہی دینے پر مجبور ہے۔