• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
فائل فوٹو
فائل فوٹو

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: قربانی کے جانور کی کھال کا مصرف کیا ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسے صدقہ کرنا واجب ہے، اگر یہ بات صحیح ہے تو اس کی دلیل کیا ہے ؟

جواب: قربانی کرنے والا اپنی قربانی کے جانور کی کھال جب تک فروخت نہ کردے، اس وقت تک اسے تین قسم کے اختیارات ہوتے ہیں:

1- قربانی کی کھال خود استعمال کرے۔

2- کسی کو ہدیے کے طور پر دے۔

3- فقراء اور مساکین پر صدقہ کرے۔ (الفتاوىٰ الهندية، كتاب الأضحية، الباب السادس في بيان ما يستحبّ في الأضحية والانتفاع بها، ج: ۱، ص: ۳۰۱، ط: دار الفکر- رد المحتار، کتاب الأضحیة،328/6، سعید)

البتہ اگر قربانی کرنے والے نے قربانی کی کھال خود یا وکیل کے ذریعے فروخت کردی تو حاصل شدہ قیمت صدقہ کرنا واجب ہے۔

اگر قربانی کی کھال کسی کو ہدیہ کردی تو جسے ہدیہ کی گئی ہے، اس کے لیے کھال فروخت کر کے اس کی رقم استعمال کرنا جائز ہے۔

غرض قربانی کی کھال سے متعلق بعض لوگوں کا یہ کہنا درست نہیں ہے کہ قربانی کی کھال کو صدقہ کرنا واجب ہے، بلکہ اس کے حکم میں وہی تفصیل ہے جو اوپر ذکر کی گئی۔(الفتاویٰ البزازیۃ علیٰ ھامش الھندیۃ: کتاب الأضحیۃ،294/6، رشیدیہ)

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

iqra@banuri.edu.pk

اقراء سے مزید