• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پروفیسر مولانا ڈاکٹر عبدالشہید نعمانی ؒ (علم و عمل کا روشن باب)

ڈاکٹر سعید احمد صدیقی

موت سے کس کو رستگاری ہے

آج وہ، کل ہماری باری ہے

علم و فضل کی دنیا آج ایک ایسے چراغ سے محروم ہو گئی ہے جس کی روشنی نے برسوں تک طالبانِ علم کے قلوب و اذہان کو منور کیے رکھا۔ جامعہ کراچی کے شعبۂ عربی کے سابق سربراہ، شیخ زائد اسلامک سینٹر جامعہ کراچی کے سابق ڈائریکٹر اور جامعہ کراچی سوشل سائنسز کے سابق ڈین، جید عالمِ دین، ممتاز محقق، ماہرِ عربی زبان و ادب اور علمی و فکری حلقوں کی ہر دلعزیز شخصیت، پروفیسر مولانا ڈاکٹر عبدالشہید نعمانی رحمہ اللہ کے انتقال کی خبر نے علمی و ادبی دنیا کو سوگوار کر دیا ہے۔ ان کی وفات نہ صرف جامعہ کراچی بلکہ پورے ملک کے علمی حلقوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔

مرحوم مولانا عبدالشہید نعمانی نور اللہ مرقدہ علمی اور دینی خاندان سے تعلق رکھتے تھے،آپ کے خاندان میں اکابرین علمائے کرام پیدا ہوئے اور اپنے علم عرفان سے پورے برصغیر کو جگمگایا۔ آپ خود ایک ایسے صاحبِ علم انسان تھے جن کی زندگی علم، تحقیق، تدریس، دیانت اور اخلاص کا حسین امتزاج تھی۔ 

ان کے وجود میں ایک شفیق استاد، باوقار محقق، غیر جانب دار ممتحن، صاحبِ طرز مقرر اور نفیس انسان کی تمام خوبیاں جمع تھیں۔ عربی زبان و ادب پر ان کی گہری دسترس اور تحقیقی بصیرت کا اعتراف ملک بھر کے علمی ادارے کرتے تھے۔

ان کی علمی گفتگو میں وقار بھی ہوتا تھا اور استدلال کی وہ قوت بھی جو سامع کو متاثر کیے بغیر نہ رہتی تھی۔ وہ برصغیر کے عظیم محدث، علمِ اسمائے الرجال کے امام اور بلند پایہ محقق مولانا عبدالرشید نعمانی رحمہ اللہ کے فرزندِ ارجمند تھے۔ اس نسبت نے ان کے علمی مزاج میں وقار، تحقیق میں گہرائی اور دین سے وابستگی میں پختگی پیدا کی۔ انہوں نے اپنے خانوادۂ علم و فضل کی روایت کو نہایت ذمہ داری اور استقامت کے ساتھ آگے بڑھایا۔علّامہ اقبالؒ نے شاید ایسے ہی اہلِ علم کے بارے میں کہا تھا:

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

پروفیسر ڈاکٹر عبدالشہید نعمانی مرحوم نے اپنی پوری زندگی علم کی خدمت کے لیے وقف کیے رکھی۔ جامعہ کراچی میں ان کی تدریسی خدمات ایک عہد کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ہزاروں طلبہ نے ان سے اکتسابِ علم کیا اور بے شمار محققین نے ان کی نگرانی میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ان کے شاگرد آج ملک و بیرونِ ملک مختلف جامعات، مدارس اور علمی اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور اپنے استادِ محترم کے علمی فیض کو آگے منتقل کر رہے ہیں۔

ان کی سب سے نمایاں خوبی ان کی اصول پسندی اور میرٹ پر مبنی فیصلے تھے۔ خواہ کسی امیدوار کا انٹرویو ہو، تحقیقی مقالے کا جائزہ ہو یا پی ایچ ڈی کا زبانی امتحان (وائیوا) ، انہوں نے ہمیشہ حق اور انصاف کا دامن تھامے رکھا۔ وہ سفارش، تعلق اور دباؤ سے بالاتر ہو کر صرف اہلیت اور صلاحیت کی بنیاد پر فیصلہ کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ علمی حلقوں میں ان کی رائے کو نہایت احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں

اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں

مرحوم نہایت وسیع حلقۂ احباب رکھتے تھے۔ علماء، اساتذہ، طلبہ، ادباء، محققین، کتب خانوں کے منتظمین اور مختلف جامعات سے وابستہ افراد ان سے قلبی تعلق رکھتے تھے ۔ ان کی مجلس میں شفقت بھی تھی ، علم بھی تھا اور خلوص کی ایسی خوشبو بھی جو ہر ملنے والے کو اپنا گرویدہ بنا لیتی تھی۔ وہ صرف ایک استاد نہیں، بلکہ ایک سرپرست، مربی اور مخلص خیر خواہ تھے۔

معروف عالمِ دین مولانا عبدالحلیم چشتی رحمہ اللہ علیہ سے ان کی خاندانی نسبت بھی اہلِ علم میں معروف تھی ، جبکہ ڈاکٹر حافظ محمد ثانی کے وہ تایا زاد بھائی تھے۔ ان کے خاندان کی علمی خدمات ایک روشن تاریخ رکھتی ہیں اور ڈاکٹر صاحب نے اس روایت کو مزید استحکام بخشا۔

ان کی تصنیفی و تحقیقی خدمات بھی ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ عربی ادب، تحقیق اور دینی علوم پر ان کے مقالات اور کتب اہلِ علم کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ انہوں نے عربی زبان کی تدریس کو محض ایک مضمون نہیں، بلکہ ایک تہذیبی اور فکری امانت سمجھا۔ ان کے قلم میں متانت تھی، اسلوب میں شائستگی تھی اور فکر میں وسعت۔

علم والوں کی یہی بات بڑی ہوتی ہے

جتنا دیتے ہیں، خزانے میں کمی ہوتی نہیں

مرحوم مولانا عبدالشہید نعمانی نور اللہ مرقدہ کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے،اسے پُر کرنا آسان نہیں ۔ آج ان کے شاگرد، احباب اور متعلقین خود کو یتیم محسوس کر رہے ہیں۔ جامعہ کراچی کی راہداریوں ، شعبۂ عربی کی علمی نشستوں، تحقیقی مجالس اور ادبی محفلوں میں ان کی کمی شدت سے محسوس کی جائے گی۔

مرحوم مولانا عبدالشہید نعمانی نور اللہ مرقدہ ایک ایسے شفیق استاد تھے جو صرف کتابیں نہیں پڑھاتے ، بلکہ کردار سازی بھی کرتے تھے ۔ ان کے لہجے میں شفقت ، گفتگو میں حلم اور طبیعت میں انکسار نمایاں تھا ۔ وہ اختلاف کے باوجود احترامِ آدمیت کو مقدم رکھتے اور نوجوان نسل کی حوصلہ افزائی میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔

چراغِ علم بجھ تو گیا، روشنی باقی ہے

وہ ایک شخص گیا، اس کی زندگی باقی ہے

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مرحوم مولانا عبدالشہید نعمانی نور اللہ مرقدہ کی علمی خدمات کو محفوظ کریں ، ان کے افکار کو نئی نسل تک پہنچائیں اور ان کی دیانت، تحقیق پسندی اور اخلاص کو اپنی علمی زندگیوں کا حصہ بنائیں۔ یہی ان کے لیے بہترین خراجِ عقیدت ہوگا۔

مرحوم پروفیسر مولانا عبدالشہید نعمانی کی نمازِ جنازہ معروف دینی درسگاہ جامعۃ الرشید میں ادا کی گئی، جس میں جید علمائے کرام، معزز اساتذہ، طلبۂ کرام، اہلِ علم و دانش اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے کثیر تعداد میں عقیدت مندوں نے شرکت کی۔ نمازِ جنازہ کے اجتماع نے اس حقیقت کا بھرپور اظہار کیا کہ مرحوم اپنی علمی، تدریسی اور دینی خدمات کے باعث ہر حلقۂ فکر میں یکساں احترام اور محبت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔

بعد ازاں مرحوم کی تدفین جامعہ کراچی کے قبرستان میں ان کے والدین کے پہلو میں عمل میں آئی، جہاں علم و ادب، تحقیق و دانش اور تعلیم و تدریس سے وابستہ متعدد نامور شخصیات آسودۂ خاک ہیں۔ یوں پروفیسر مولانا عبدالشہید نعمانی بھی اپنے علمی رفقاء اور اہلِ دانش کے قافلے میں شامل ہوگئے۔

ان کی رحلت علمی و دینی حلقوں کے لیے ایک عظیم خسارہ ہے، جس کی تلافی بآسانی ممکن نہیں۔ ان کی علمی خدمات، تدریسی کاوشیں اور شاگردوں کی ایک وسیع جماعت ان کے لیے صدقۂ جاریہ اور بہترین یادگار ہیں۔

الله تعالیٰ مرحوم عبدالشہید نعمانی سے رضا و رضوان کا معاملہ فرمائے ، ان کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنّت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اللہ رب العزت ان کے اہلِ خانہ، شاگردوں، متعلقین اور تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

رہے گا علم کا سورج ہمیشہ تابندہ

اگرچہ ڈوب گیا آج اک ستارۂ علم

اقراء سے مزید