• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

15.5 گرام سونا اور چار ہزار نقد کی صورت میں زکوٰۃ کا حکم

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: مجھے زکوٰۃ کے بارے میں معلوم کرنا ہے، میرے پاس 15.5 گرام سونا ہے جو کہ ایک تولہ سے زیادہ ہے اور چار ہزار رقم ہے، کیا مجھ پر زکوٰۃ بنتی ہے؟

جواب: پہلے اُصولی مسئلہ سمجھ لیجیے اس کی روشنی میں آپ کا جواب واضح ہوجائے گا، اگر کسی کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سے کم سونا ہو، لیکن سونے کے ساتھ بنیادی ضرورت اور ماہانہ اخراجات سے زائد نقدی ہو تو زکوٰۃ واجب ہونے کا نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت ہے، تاہم یہ رقم کتنی ہو جسے سونے کے ساتھ ملاکر چاندی کے نصاب کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا، اس بارے میں اہلِ علم کی دو رائے ہیں: (1) ضرورت سے زائد رقم جتنی بھی ہو اُسے سونے کے ساتھ ملاکر نصاب مکمل کیا جائے گا، خواہ یہ معمولی سی رقم ہو۔ (2) ضرورت سے زائد رقم کی مالیت پانچ درہم چاندی کی قیمت کے برابر ہو، تب اسے سونے کے ساتھ ملا کر نصاب کا اعتبار کیا جائے گا۔ ہمارے بعض اہلِ فتویٰ نے موجودہ دور میں اس قول کو ترجیح دی ہے۔

پانچ درہم چاندی کا وزن 15.309 گرام ہے، کراچی میں چاندی کے موجودہ نرخ کے حساب سے پندرہ اعشاریہ تین سو نو گرام کی قیمت کم و بیش بارہ ہزار روپے ہے۔ یعنی اگر کسی کے پاس ساڑھے سات تولہ سے کم سونا ہوتو چاندی کے اعتبار سے نصاب مکمل کرنے کے لیے آج کل اس کے ساتھ بنیادی ضرورت اور ماہانہ اخراجات سے زائد بارہ ہزار روپے ہونے چاہییں، اس سے کم رقم ہو تو زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔

مذکورہ تفصیل کی روشنی میں آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ ساڑھے پندرہ گرام سونے کے ساتھ موجود رقم چوں کہ پانچ درہم کی قیمت سے کم ہے، اس لیےآپ صاحبِ نصاب نہیں ہیں اور آپ پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔

تاہم اگر آپ احتیاط پر عمل کرتے ہوئے اہلِ علم کی پہلی رائے کے مطابق زکوٰۃ دینا چاہیں تو حکم یہ ہوگا کہ اگر آپ مقروض نہیں ہیں اور یہ چار ہزار روپے آپ کے ماہانہ ضروری اخراجات سے زائد ہیں تو سونے کے ساتھ انہیں ملا کر چوں کہ کراچی کے موجودہ نرخ کے مطابق ان کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے زیادہ ہے؛ لہٰذا سال گزرنے کی صورت میں ڈھائی فیصد زکوٰۃ کردیجیے۔ (سنن أبوداؤد،کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ السائمۃ، ج:3، ص:24، ط:دارالرسالۃ العالمیۃ، رد المحتار، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال، ج:2، ص:303، سعید - بدائع الصنائع، کتاب الزکاۃ، فصل شرائط فرضيۃ الزکاۃ، 2/ 8، ط: سعيد)

اقراء سے مزید