تفہیم المسائل
سوال: اگر کسی چارپائی پر بچھی ہوئی چادر یا بستر پر کتّا بیٹھتا ہو، اس میں کتّے کے بال گھس جائیں، دھونے کے باوجود کچھ بال اس میں رہ جائیں تو کیا چادر یا بستر پاک ہے؟ (فیصل شہزاد )
جواب: کتّے کی جلد /بال اگر خشک ہوں ، اُس پر کوئی نجاست نہ لگی ہو یا اس کا لعاب چادر ، بستر وغیرہ کسی جگہ پر نہ لگاہو، تو کسی کو مَس کرنے یا کسی چادر وغیرہ پر بیٹھنے سے وہ جگہ ناپاک نہیں ہوتی، چادر یا بستر دھونے کے بعد بھی اگر بال رہ جائیں، لیکن نجاست کا اثر (بُو، رنگ یا لعاب)ختم ہو جائے تو چادر پاک تصور ہوگی، تاہم کتّے کے بال چھوڑنا مناسب نہیں، انہیں نکال دینا بہتر ہے۔ البتہ اگر کتّا کسی پاک چیزجیسے پاک پانی وغیرہ سے تر تھا توکپڑے وبدن پاک رہیں گے۔
کتّے کا لعاب ناپاک ہے، اگر کتے کا لعاب بہہ رہا ہو اور وہ کسی جگہ لگ جائے یا جس کپڑے کو کتّے نے چاٹا ہے، اگر اس پر کتّے کے لعاب کی تری کااثر ظاہرہو ،تو اس صورت میں یہ کپڑا ناپاک ہوجائے گا اور اگر تھوک کی تری نہیں لگی تو کپڑا پاک رہے گا، فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ترجمہ:’’ اگر کتّا کسی انسان کے بدن یا کپڑے کو منہ میں لے، تو جب تک اس میں تری کے آثار ظاہر نہ ہو جائیں ، کپڑا وغیرہ ناپاک نہیں ہوگا ، غضب ناک ہوکر یہ فعل کرے یا محبت میں دونوں صورتوں کا یہی حکم ہے ،’’منیۃ المُصَلّی ‘‘ میں اسی طرح ہے، ’’صیرفیہ‘‘ میں ہے کہ یہی مختار ہے، ابراہیم حلبی کی شرح منیۃ المصَلّی میں بھی اسی طرح ہے۔
اگر کتّا مسجد کی چٹائی پر سو جائے، اگر وہ خشک ہو تو وہ ناپاک نہیں ہوتا اور اگر وہ گیلا ہو اور ناپاکی کا اثر ظاہر نہ ہو تو بھی یہی حکم ہے، فتاویٰ قاضی خان میں بھی اسی طرح ہے، (فتاویٰ عالمگیری ،جلد1، ص:48)‘‘۔ تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے: ترجمہ:’’ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کتّا(خنزیر کی طرح ) نجس العین نہیں ہے اور اسی پر فتویٰ ہے ،اگرچہ بعض فقہاء نے نجاست کو ترجیح دی ہے جیساکہ ’’ ابن شحنہ‘‘ نے تفصیل سے بیان کیا ہے ، (ردالمحتار علیٰ الدرالمختار ،جلد1، ص:208)‘‘۔
اگر کتّے کا خشک جسم کسی شخص کے بدن یا کپڑوں کو مس کر جائے تووہ ناپاک نہیں ہوں گے، ہاں! اگرکتّے کے جسم پر تر نجاست لگی ہو اور چھونے سے وہ جسم یا کپڑوں پر لگ گئی تو جس حصے پر لگی وہ ناپاک ہو جائے گا، صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی لکھتے ہیں: ’’کتّابدن یا کپڑے سے چھو جائے، تو اگرچہ اس کا جِسْم تر ہو بدن اور کپڑا پاک ہے، ہاں اگر اس کے بدن پر نَجاست لگی ہو تو اور بات ہے یا اس کا لُعاب لگے تو ناپاک کر دے گا،(بہارِ شریعت ،جلد1،ص:395)‘‘۔