• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مولانا محمد راشد شفیع

(گزشتہ سے پیوستہ)

جانور قربان کرنے کی فضیلت

قربانی کی ایک عظیم الشان صورت وہ ہے، جو اللہ تعالیٰ نے اُمّتِ محمدیہ ﷺ کو عیدالاضحی کی قربانی کی صورت عطا فرمائی جو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یادگار ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں نبی کریم ﷺ نے قربانی کی بہت زیادہ اہمیت اور فضیلت بیان فرمائی ہے۔ حضرت زید بن ارقمؓ فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا،’’ یا رسول اللہ ﷺ! یہ قربانی کیا ہے؟‘‘ آپﷺ نے ارشاد فرمایا،’’ تمہارے باپ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سُنّت ہے۔‘‘

صحابۂ کرام ؓنے عرض کیا،’’یارسول اللہ ﷺ!اِس میں ہمارے لیے کیا ثواب ہے؟‘‘ فرمایا،’’ ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔‘‘عرض کیا’’اور اُون میں ؟‘‘ فرمایا،’’ اس کے ہر بال کے بدلے بھی ایک نیکی ہے۔‘‘ (ابنِ ماجہ) ایک اور حدیث میں نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا،’’ ایّامِ قربانی (یعنی10 تا 12 ذی الحج) انسان کا کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قربانی کے جانور کا خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں اور قیامت کے روز قربانی کا یہ جانور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے سینگوں، بالوں اور کُھروں سمیت حاضر ہوگا اور بلاشُبہ قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبولیت کا درجہ پا لیتا ہے، تو اے مومنو! خُوش دِلی سے قُربانی کیا کرو۔‘‘ (تِرمِذی)

ایک اور روایت میں نبی کریم ﷺ نے اپنی پیاری بیٹی، حضرت بی بی فاطمۃ الزہراءؓ سے ارشاد فرمایا’’اے فاطمہؓ !اُٹھو اپنی قُربانی کے جانور کے پاس جاؤ اور اُسے لے کر آؤ کيوں کہ اُس کے خون کا پہلا قطرہ گرنے پر تمہارے پچھلے گناہ بخش ديے جائيں گے۔‘‘ اُنہوں نے عرض کیا’’ یا رسول اللہ ﷺ ! يہ انعام ہم اہلِ بیتؓ کے ساتھ خاص ہے يا ہمارے اور تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے؟‘‘

اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’ہمارے اور تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔‘‘ (المستدرک) اِسی طرح ایک اور روایت میں نبی کریم ﷺ کا ارشادِگرامی ہے،’’جس میں وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے، وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔‘‘ (سنن ابنِ ماجہ)

حضرت عبداللہ ابنِ عمرؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ دس سال مدینہ منورہ میں مقیم رہے اور ہر سال قربانی فرماتے تھے۔‘‘(سنن ترمذی) نبی کریم ﷺ کا ہر سال قربانی کرنا اِس عمل کی اہمیت، فضیلت اور تاکید کے لیے کافی ہے۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سیاہ، سفید رنگت والے اور بڑے سینگوں والے دو مینڈھوں کی قربانی فرمایا کرتے، اپنے دستِ مبارک سے اُنہیں ذبح فرماتے۔‘‘(صحیح بخاری)

قربانی کے عمل کی اہمیت کا اندازہ اِس امر سے بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ نبی کریمﷺ نے حجۃ الوداع کے موقعے پر ایک سو اونٹوں کی قربانی فرمائی۔ ایک روایت کے مطابق، نبی کریم ﷺ نے اپنے دستِ اقدس سے اِن ایک سو میں سے63 اونٹوں کو ذبح فرمایا،جب کہ باقی اونٹ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے آپ ﷺ کے حکم پر ذبح کیے۔(صحیح بخاری)

قربانی کس پر واجب ہے؟

اِس سلسلے میں جامعہ علومِ اسلامیہ، علّامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن،کراچی کے ایک فتوے کے مطابق، قربانی واجب ہونے کا نصاب وہی ہے، جو صدقۂ فطر کے واجب ہونے کا نصاب ہے، یعنی جس عاقل، بالغ، مقیم مسلمان مرد یا عورت کی ملکیت میں قربانی کے ایّام میں قرض کی رقم منہا کرنے بعد ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابر رقم ہو یا تجارت کا سامان یا ضرورت سے زاید اِتنا سامان موجود ہو، جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو یا ان میں سے کوئی ایک چیز یا ان پانچ چیزوں میں سے بعض کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو،تو ایسے مرد وعورت پر قربانی واجب ہے۔

قربانی واجب ہونے کے لیے نصاب کے مال، رقم یا ضرورت سے زاید سامان پر سال گزرنا شرط نہیں ہے اور اس کا تجارتی ہونا بھی شرط نہیں۔ اگر کوئی شخص ذی الحجہ کی بارہویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پہلے مقررہ نصاب کا مالک ہوجائے، تو اُس پر قربانی واجب ہے۔

قربانی سے متعلق چند اہم مسائل

(1) بعض گھرانوں میں گھر کے تمام افراد کی طرف سے صرف ایک بکرا قربان کیا جاتا ہے، حالاں کہ بسا اوقات گھر کے کئی افراد صاحبِ نصاب ہوتے ہیں اور اِس وجہ سے اُن سب پر قربانی واجب ہوتی ہے، لہٰذا اُن سب کی طرف سے الگ الگ قربانی کرنا ضروری ہے۔

(2)بڑے جانور مثلاً گائے، بھینس اور اُونٹ میں سات حصّے ہوسکتے ہیں۔ (عالمگیری)

(3) کسی دوسرے شخص کی طرف سے واجب قربانی ادا کرنے کے لیے اجازت لینا ضروری ہے، ورنہ قربانی ادا نہیں ہوگی۔ البتہ، اگر کسی جگہ پر اپنے متعلقین کی طرف سے قربانی کرنے کی عادت اور رواج ہے، تو اس صورت میں اجازت لینا ضروری نہیں، بغیر اجازت بھی قربانی کا فریضہ ادا ہو جائے گا۔

(4) قربانی کے وقت قربانی کرنا ہی لازم ہے، کوئی دوسری چیز اس کے قائم مقام نہیں ہوسکتی۔

مثلاً قربانی کرنے کی بجائے بکرا یا اُس کی قیمت صدقہ کرنے سے قربانی ادا نہیں ہوگی۔ بعض افراد کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ قربانی کرنے کی بجائے کسی ضرورت مند یا غریب افراد کی مدد کرنی چاہیے۔

اِس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ ضرورت مندوں کی مدد کرنا بہت نیک عمل ہے اور قرآن و حدیث میں ایسا کرنے کی بہت ترغیب بھی دی گئی ہے، تاہم، قربانی ایک مخصوص عبادت ہے، جو جانور قربان کرنے ہی سے ادا ہوتی ہے۔

اگر قربانی کرنا پیسے اور وقت کا زیاں ہوتا، تو نبی کریم ﷺ کبھی بھی قربانی کرنے کی تاکید نہ فرماتے۔ پھر یہ کہ خود نبی کریم ﷺ کے قول اور عمل سے ثابت ہے کہ عید الاضحی پر جانور قربان کرنا اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا اور خوش نودی کا باعث ہے۔ 

(5) قربانی کے جانور کا بے عیب ہونا ضروری ہے۔

(6) گو کہ قربانی کا گوشت مکمل طور پر خود بھی رکھا جاسکتا ہے، تاہم بہتر یہی ہے کہ اس کے تین حصّے کیے جائیں۔ ایک حصّہ اپنے لیے رکھے، دوسرا حصّہ رشتے داروں کو دے اور تیسرا حصّہ فقراء ومساکین کو دے۔ یہ اِس لیے بھی ضروری ہے کہ تمام لوگ عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔

اقراء سے مزید