• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بجٹ میں عوام کو ریلیف نہیں ملتا، صرف نمبرز تبدیل کردیے جاتے ہیں: حافظ نعیم الرحمان

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

 امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ٹیکس کا ظالمانہ نظام نافذ ہے، بجٹ میں عوام کو ریلیف نہیں ملتا، صرف نمبرز تبدیل کردیے جاتے ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیم کا بجٹ جی ڈی پی کا 0.5 فیصد ہے، جب آپ تعلیم اور صحت کو آؤٹ سورس کر رہے ہیں تو کیسے نظام چلے گا، تعلیم کی ایمرجنسی نافذ کر کے بجٹ کم کر دیا ہے، اگر تعلیم پر بجٹ مختص بھی ہے تو خرچ نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا ہے کہ بجٹ میں عوام کو کچھ نہیں ملا، بجٹ محض نمبرز آگے پیچھے کرنے کا نام ہی رہ گیا ہے، ایف بی آر اپنا ہدف پورا نہیں کرتا، عام آدمی 60 فیصد ٹیکسز دے رہا ہے، پیٹرولیم لیوی کو ختم کرنا چاہیے، پی ایس ڈی پی میں ایم این ایز کے فنڈز کو ختم کیا جائے۔ 

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سرکاری گاڑی 13سو سی سی سے زائد کی نہیں ہونی چاہیے، آپ سرکار کی گاڑی 1300 سی سی سے کم کر دیں، آئی پی پیز کے کیپیسٹی چارجز ختم کریں، یہ ایف بی آر کے بابو 3400 سی سی گاڑیوں پر گھومیں اور بوجھ عوام پر پڑے؟  

امیر جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ اس ملک میں سودی نظام کا خاتمہ نہیں ہو سکا، 26 ویں ترمیم میں جنہوں نے سود ختم کرنے کی شق ڈلوائی وہ بتائیں پالیسی ریٹ ایک فیصد کیسے بڑھ گیا۔

انہوں نے کہا کہ صرف مفادات کے حصول کے لیے نورا کشتی کی جاتی ہے، بجلی، پیٹرول، گیس کی قیمتوں سے براہ راست عوام کو فرق پڑتا ہے، حکومت خود تسلیم کرتی ہے کہ آئی ایم ایف کا دباؤ ہے، بجٹ میں بہت سی رقم اپنی نااہلی چھپانے کے لیے رکھی گئی ہے۔

قومی خبریں سے مزید