• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم پڑھا کرتے تھے کہ انسان پہلے حیوان تھا طبی معنوں میں نہیں بلکہ تہذیب و تمدن کے حوالے سے۔ وہ دوسرے حیوانوں کی طرح کسی قاعدے قانون کا پابند نہیں تھا بلکہ اپنے پیٹ کی آگ بجھانےکیلئے وہ انسانوں سمیت کسی بھی جانور کی زندگی کا چراغ گل کر دیتا تھا ۔نہ تو وہ رشتوں ناطوں پر یقین رکھتا تھا اور نہ ہی کسی کی آہ و فریاد اس کے دل پر اثر کرتی تھی۔ اس کے ہاں صدیوں تک سمندر اور جنگل کا قانون رائج تھا جس میں بڑی مچھلی کو چھوٹی مچھلیاں کھا جانے کی مکمل آزادی حاصل تھی اور جسمانی طور پر سب سے طاقتور جانور باقی سب جانوروں پر حکومت کرنے کا اہل تھا ۔اسے نہ تو ووٹ کی ضرورت تھی اور نہ ہی کسی کی رضامندی کی ۔اسکی ذات کا واحد مقصد دوسروں کو دھکیلتے اور گراتے ہوئے آگے بڑھنا اور اپنی فتوحات کے جھنڈے گاڑنا تھا ۔اسے اس بات سے کوئی غرض نہ تھی کہ کوئی اس کے بارے میں کیا سوچے گا۔ غاروں کے اندر رہنے والے اس انسان نما حیوان نے صدیوں تک دوسروں کے خون سے ہولی کھیلی لیکن آہستہ آہستہ ان کے اندر ایسے انسان پیدا ہونے لگے جنہوں نے اسے ہمدردی کے لفظ سے آشنا کیا۔

ے کی بجائے علم و حکمت کی درسگاہیں بنانے کی رغبت دلائی۔ ان درسگاہوں نے انسانی زندگی کو حیوانی دور سے نکالا ۔جیو اور جینے دو کے اصول سکھائے۔ دوسروں کے جذبات کا احترام کرنے اور قتل و غارت گری کی جگہ امن و آشتی کی تعلیم دی۔ اور غاروں کی جگہ انسانوں کے رہنے کیلئے پر تعیش گھر اور محل تعمیر کئے۔ لیکن کیا انسان نے اپنی ہیئتِ ترکیبی کو بدل دیا ؟ کیا اس نے ظلم کرنا چھوڑ دیا ؟ کیا اس نے اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کی خاطر دوسروں کی حق تلفی کرنےکیلئے اپنا پرانا وطیرہ ترک کر دیا ؟ وہ تمام آفاقی سچائیاں جن کو اقوام متحدہ کے چارٹر میں سمو دیا گیا ہے کیا انسان کی فطرت کا حصہ بن گئی ہیں؟ کیا اب انسان کسی پر ظلم ہوتا نہیں دیکھ سکتا ؟

کیا اب اس کی ہوسناک نظریں دوسروں کے مال و دولت اور زمین پر سے ہٹ گئی ہیں؟ جب ہم حالیہ صدی میں ہونے والے کچھ ہولناک واقعات کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ دیکھ کر رونگٹے کھڑے کر دینے والی اذیت کا احساس ہوتا ہے ..سچ تو یہ ہے کہ اس صدی میں بھی جو انسانی تہذیب کی معراج سمجھی جاتی ہے۔ انسانی فطرت میں ذرہ برابر تبدیلی نہیں آئی ۔صرف حیلے بہانے اور بیان بازی بدلی ہے۔ جب تلوار اور تیر و تفنگ کے دور میں انسان سارا سال لڑتے رہتے تھے تو اتنا نقصان نہیں ہوتا تھا جتنا اب چند روز کی جنگ میں ہو جاتا ہے۔ انسانوں کا خون کبھی اتنا ارزاں نہ تھا جیسا آج کل ہے ۔چنگیز خان اور ہلاکو خان کے کھوپڑیوں کے مینار چند ہزار کھوپڑیوں سے بن جاتے تھے لیکن آج پل بھر میں ہزاروں انسانی کھوپڑیاں زمین بوس ہو جاتی ہیں مگر مینار پھر بھی نظر نہیں آتا ۔

ہم آج بھی کتنے سنگ دل ہیں کہ غزہ میں دو سالہ بمباری کے دوران 70 ہزار سے زیادہ بے گناہ قتل ہو گئے۔ جن میں بیس ہزار ایسے بچے تھے جنہوں نے ابھی بولنا یا چلنا سیکھا ہی تھا ۔نہ تو ان کی کسی سے دشمنی تھی اور نہ ہی کوئی اور مفاد۔ وہ شاید اپنی طرف تانی ہوئی بندوقوں کو بھی کھلونے سمجھ کر خوش ہو رہے تھے جب ان کے اندر سے اگ اگلتی ہوئی گولیوں نے انہیں ہمیشہ کیلئے موت کی نیند سلا دیا۔ یہ واقعات ہماری آنکھوں کے سامنے ہوئے اور ہم دیکھتے رہ گئے ۔بلکہ ہمارے خطے کے لوگ تو اپنے ان ہم مذہب بہن بھائیوں کیلئے رسمی احتجاج بھی نہ کر سکے۔ پھر ہم نے ایران میں مہذب امریکہ کے ہاتھوں 180کے قریب اسکول کی بچیوں کا قتل عام بھی دیکھا لیکن نہ تو اقوام متحدہ اور نہ ہی کوئی اور قوم اس ظلم و بربریت کو روک سکی۔ آج بھی انسان اتنا ہی بے رحم اور ظالم ہے جتنا کبھی پتھروں اور غاروں کے زمانے میں ہوتا تھا ۔ٹرمپ جیسے ننگِ انسانیت شخص نے ایران کی پانچ ہزار سالہ پرانی تہذیب کو تباہ کرنے اور ایران کو واپس غاروں کے دور میں دھکیلنے کا بیان دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ غاروں اور تیر و تفنگ سے نکلی ہوئی حیوانیت آج پھر نئی تہذیب و تمدن کی روشنیوں میں واپس آگئی ہے۔ جسکی زد میں پوری نوع انسانی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ بلاشبہ انسان ابھی تک وحشی ہے۔

تہذیب کے مردہ خانے میں

جو ہم پر بیتی سو بیتی

تہذیب کے روشن دور میںبھی

انسان ابھی تک وحشی ہے

اب غار نہیں اب محلوں میں

مخلوق یہاں پر بستی ہے

پر جیون اب تک روتا ہے

اور موت ابھی تک ہنستی ہے

اب تیر نہیں تلوار نہیں

اب موت میزائل لاتے ہیں

بارود کی زرد دوپہریں ہیں

اب ایٹم بم کے سائے ہیں

اب اجلے اجلے کپڑے ہیں

پر میل وہی ہے جسموں پر

مذہب قومیت ملکوں کی

خونی دیوی ہے غارت گر

تاریخ کا زخم پرانا ہے

تہذیب کا خنجر تازہ ہے

انسان وہی ہے جو کہ تھا

تہذیب تو اس پر غازہ ہے

انسان ابھی تک وحشی ہے

تازہ ترین