• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی پریس کلب کا ہال سندھ کے نئے اور پرانے دانشوروں سے سجا ہوا ہے۔ سمندر کی ہوا پوچھ رہی ہے کہ نیا کب تک پرانا ہوتا ہے اور پرانا نئے سے کب ہاتھ ملاتا ہے۔اور بحیرہ عرب سے آنے والی ہوا تو سب سے گلے ملتی ہے وہ نئے پرانے میں امتیاز نہیں برتتی۔میں جذبات سے مغلوب ہوں اتنے معزز اساتذہ، سینئر بیوروکریٹ ،ناول نگار، شاعر صحافی، نامہ نگار ادبی محفلوں کی جان خواتین اور حضرات میرے ساتھ شام منانے کیلئے جمع ہوئے ہیں۔

مجھے چناب نے پالا تو سندھ نے سینچا

مرے مزاج سے دریا دلی کبھی نہ گئی

اردو بولنے لکھنے والے بھی ہیں سندھی بولنے لکھنے والے بھی ۔

صدیوں سےبڑی شان سے بہتےہوئےسندھو

اردو تری رعنائی ہے سندھی تری خوشبو

داد سب دے رہے ہیں رعنائی والے بھی اور خوشبو والے بھی۔ اسٹیج پر میرے ساتھ مسعود نورانی صدر مجلس بیٹھے ہیں دی انٹلیکچول فورم کے بانی پروفیسر اعجاز قریشی، اکنامکس کے سینئر استاد پاکستان کیلئے ہمیشہ درد مند کئی کتابوں کے مصنف ڈاکٹر سید جعفر احمد،ڈاکٹر توصیف احمد خان ،اشفاق میمن، غلام اکبر مالک تو نظامت بھی کر رہے ہیںاور آنے والوں کے نام لے لے کر خیر مقدم بھی کر رہے ہیں۔پاک امریکن کلچرل سنٹر کے مخدوم ریاض، رفیق جعفری، رحمان شورو ۔سامعین میں بھی اہم شخصیات ہیں ہمارے ہمدم دیرینہ سید خادم علی شاہ، شیر محمد کھاوڑ ایڈیٹر اپیل سینئر صحافی سہیل سانگی، عظمیٰ کمال ،ہما بیگ،محمد شعیب، منظور حسین کھوسو،عامر لطیف ،فاروق عرشی ،ماہر تعلیم جناب مشتاق مہر نے اردو میں ہمارے لیے نظم پڑھی۔

میں تو ہمیشہ کہتا اور لکھتا آیا ہوں کہ پاکستان میں ہر نسل کو اپنی جوانی میں ایک مارشل لا ضرور ملتا ہے۔ ہم جیسے عمر درازوں کو جوانی اگرچہ ایک ہی ملتی ہے لیکن مارشل لا کئی مل جاتے ہیں۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ سندھ نے جمہوریت کے استحکام اور بحالی کیلئے بہت قربانیاں دی ہیں اپنے صحافیانہ فرائض کی ادائیگی میں ہم نے قریباََ سب پارٹیوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کو تپتی سڑکوں پر ’لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی‘نعرے لگاتے دیکھا ہے ۔میں اسلئے خوش ہوں اور مطمئن بھی کہ یہاں ہر زبان بولنے والے پاکستانی موجود ہیں ۔جو اپنے اپنے علاقوں میں بہت نظریاتی رسوخ رکھتے ہیں ۔جو نسلوں کے ذہن بناتے ہیں۔ آج کی تقریب کا پیغام بھی ان کے ذریعے مختلف حلقوں شہروں گوٹھوں تک پہنچ جائے گا۔سب نے ہماری اخبار جہاں میں تحریروں، انٹرویوز اور جنگ میں کالموں کا حوالہ دیا۔ ساٹھ کی دہائی سے جنگ باقاعدہ پڑھنے والے بڑی تعداد میں ہیں۔ ایسی پذیرائی دیکھ کر دل کو سکون ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ بھی لکھتے رہے وہ لوگوں کے دلوں میں اترتا رہا ۔

مسعود نورانی کہہ رہے ہیں کہ سندھ خوش قسمت ہے کہ یہاں پاکستان کے قیام کے فوراََ بعد ہندوستان بھر سے تاجر، صنعت کار، دانشمند، صحافی، شاعر ہجرت کر کے آئے ۔انہوں نے سندھ کی تہذیب اور ثقافت میں نئے رنگوں اور خوشبوؤں کا اضافہ کیا ۔میں تو لکھتا آرہا ہوں کہ میں سندھ کا مقروض ہوں ۔سندھ نے جس طرح میرا خیر مقدم کیا ۔سندھ کے ہم عصر و ں نےسیاسی تحریکوں ٹریڈ یونین سرگرمیوں میں بھرپور ساتھ دیا بزرگوں نے سرپرستی کی ۔میں یاد دلارہا ہوں جناب جی ایم سید کی شفقتیں ،شہید ذوالفقار علی بھٹو شہید، محترمہ بے نظیر بھٹو شہیداور ان کے رفقاء کی طویل سیاسی جدوجہد۔ میں کہہ رہا ہوں کہ شیخ ایاز نے ہمارے لیے مصائب سہے، خالد علیگ نے ہم سب کیلئے صعوبتیں برداشت کیں۔ قابل احترام آفاق صدیقی سندھی اور اردو ادب کو قریب لائے۔ جناب مظہر جمیل نے جدید سندھی ادب کو اردو میں روشناس کروایا ۔پیر حسام الدین راشدی کی خدمات اردو فارسی سندھی کیلئے لائق صد تحسین ہیں۔ پیر علی محمد راشدی سندھ ہی نہیں پاکستان کی سیاسی ،صحافتی، ادبی اورسفارت کاری کی تاریخ میں ایک نمایاں نام ہے ۔میں نے قاضی عبدالمجید ،عابد قاضی، محمد اکبر، ابراہیم جلیس ،شوکت صدیقی ،محسن بھوپالی سب کو محفلوں میں ایک دوسرے سے بے تکلف ہوتے دیکھا۔

اس تقریب کی روح تھی کہ شہری سندھ اور دیہی سندھ کے درمیان پھیلائی گئی دوریاں اور غلط فہمیاں کس طرح ختم کی جائیں ۔میں دیکھ رہا ہوں کہ ہال میں نئے سندھی بھی ہیں پرانے بھی اور یہ پیغام ان کی آنکھوں میں والہانہ چمک پیدا کر دیتا ہے ۔خلق خدا تو کہیں کی بھی ہو وہ ایک دوسرے کا درد بانٹنا چاہتی ہے۔ ہم کراچی پریس کلب میں اپنے زخم ایک دوسرے کو دکھا کر مرہم رکھ رہے ہیں۔ لیکن اس وقت ہمیں مستقبل میں بھی جھانکنا ہے نوجوان چاہے شہروں میں رہتے ہوں یا گوٹھوں میں ،کوئی بھی زبان بولتے ہوں ان کے خواب ایک سے ہیں وہ جدید علوم میں ٹیکنالوجی میں زیادہ سے زیادہ دسترس چاہتے ہیں۔ ان دنوں اگرچہ شہری دیہی فرزند زمین اور مہاجر میں کشمکش اور بیان بازی زوروں پر ہے۔ تحقیق کی جائے تو دونوں کے مسائل ایک سے ہیں، سوچ ایک سی ہے۔ سب قانون کا یکساں نفاذ چاہتے ہیں۔ صرف میرٹ پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ امتحانات کا ناقص معیار نصاب کی پسماندگی کے مسائل سب کو درپیش ہیں ۔

میں انٹلیکچول فورم سے گزارش کر رہا ہوں کہ وہ سندھ کی نئی نسل کو درپیش مسائل پر سیمینار کریں۔ شہری دیہی آبادی میں کشمکش دنیا بھر میں ہوتی ہے۔ ماہرین اور یونیورسٹیاں اس کا حل ڈھونڈتی ہیں۔ نعرے بازی نہیں کرتی ہیں لیکن غاصب قوتیں اپنے جبر کو دوام دینے کیلئے لسانی نسلی تعصبات کو ہوا دیتی ہیں۔ چیلنج ایک ہی ہے کہ نوجوانوں کو اپنی صلاحیت پر آگے بڑھنے دیا جائے۔ ملازمتیں سفارش پر نہیں اہلیت پر ملیں۔ میں نے نوجوانوں کے سپنوں پر ایک صحافی شاعر اردو سندھی کے فرحان تنیو سے کچھ رہنمائی لی انہوں نے بہت شستہ اردو میں نکات ار سال کئے اور ایک اردو خواں استاد اور طالبہ جہاں آرا سے شہری نوجوانوں کے خواب جاننے کی کوشش کی ۔دونوں نے بہت ذمہ داری سے نوجوانوں کے ذہنوں میں تڑپتے سوالات کا ذکر کیا۔اس تقریب کے سب شرکا سندھ کے مختلف حلقوں میں فاصلے ختم کرنے کی اس کوشش کو سراہ رہے تھے ۔میں نے یہ بھی عرض کیا کہ سندھ میں ہر چند کہ مختلف لسانی حلقوں میں تنازعات ہوں لیکن پورے پاکستان میں انکی شناخت سندھی کی ہی ہے اور دنیا بھر میں انکی پہچان پاکستانی کی ہے۔ میں نے عہد حاضر کے سندھی افسانہ نگاروں، ناول نویسوں کے نام لیکر گزارش کی کہ ان کی تخلیقات کو اردو میں منتقل کیا جائے تاکہ ہمارے اردو پڑھنے والے سندھی زبان کے ادبی معیار کے قائل ہو سکیں اور سندھ کی سوچ اردو قارئین تک پہنچے ۔مجیب اوٹھو ۔امر اقبال۔ جہاں آرا سومرو۔ سیما عباسی۔ منور سراج۔ ممتاز بخاری۔ منظور کوہیار۔ زیب سندھی۔ اختر حفیظ۔ ابراہیم کھرل۔ ظفر جونیجو کی کہانیاں ناول میں بھی پڑھنا چاہتا ہوں اور اردو پڑھنے والوں کی اکثریت بھی انہیں پڑھنے کیلئے بے تاب ہے انکو اردو میں منتقل کرنا تو ہے ہی ضروری ،پاکستان کی دوسری زبانوں میں بھی انکو منتقل کیا جائے ۔

قرب شہباز قلندر میں رہو

غالب و میر پڑھو کھل کے جیو

تازہ ترین